(گزشتہ سے پیوستہ)
قرآن کی تعلیمات ہمیں ظلم کے خلاف کھڑے ہونے کادرس دیتی ہیں،مگریہاں خاموشی اختیارکی گئیاوریہی خاموشی سب سے بلند صدابن گئی۔یہی وہ نکتہ ہے جہاں ہندوستان ، ایران تعلقات کی وہ قدیم ریشمی ڈور،جوصدیوں سے قائم تھی،اب تناؤ کا شکار نظرآتی ہے۔یہ وہ مقام ہے جہاں نقاب گرتے ہیں، جہاں اصول اورمفادکی کشمکش نمایاں ہوجاتی ہے !جب ایران پرآگ برس رہی تھی،تم کہاں کھڑے تھے؟ تمہاری خاموشی نے تمہیں بے نقاب کردیا!یادرکھوظلم کے سامنے خاموش رہنے والاخودظالم کے صف میں کھڑاہوتاہے ! اورآج تمہاری خاموشی ایک گواہی ، ایسی گواہی جوتاریخ کے سینے پر ثبت ہوچکی ہے!
کانگریس کی جانب سے حکومت پر نقید،خصوصا پون کھیڑاکابیان،اس خاموشی کو’’مجرمانہ‘‘ قراردیتاہے ایک ایسالفظ جوسیاسی لغت میں شدیدترین اخلاقی الزام کی حیثیت رکھتاہے۔ سیاسی اختلاف جب اخلاقی سوال میں ڈھل جائے تواس کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔یہ بیان صرف تنقیدنہیں بلکہ ایک اخلاقی مقدمہ ہے جس میں خاموشی کوجرم کے درجے میں رکھا گیا ہے ۔یہ تنقیدمحض سیاسی پوائنٹ اسکورنگ نہیں بلکہ ایک اصولی مؤقف کی نمائندگی بھی کرتی ہے۔اپوزیشن کی تنقیدمحض سیاسی بیان بازی نہیں بلکہ ایک بنیادی سوال ہے: کیاہندوستان نے اپنی اخلاقی سمت کھودی ہے؟’’مجرمانہ خاموشی‘‘کالفظ محض الزام نہیں بلکہ ایک فیصلہ ہے اوریہ فیصلہ عوامی ضمیرکی عدالت میں سنایاجارہاہے۔یہ آوازیں،یہ تنقیدیںیہ محض سیاست نہیں،یہ ضمیرکی پکارہے!جب کوئی’’’مجرمانہ خاموشی‘‘کہتاہے تووہ دراصل تمہاری روح کوجھنجھوڑرہا ہوتاہے!کیاتم سن رہے ہو؟یااقتدار کے ایوانوں نے تمہارے کان بندکردیے ہیں؟
سلمان خورشید کی شرکت،اگرچہ ذاتی وجماعتی نمائندگی کااظہارہے،مگراس میں ایک ادبی وقاربھی جھلکتاہے۔خورشیدکی شرکت ایک کمزورسی کوشش اورایک نرم سفارتی اشارہ ہے۔ اس تاثرکو زائل کرنے کی،جو حکومتی رویے نے پیداکیاہے۔ گویا ایک ٹوٹی ہوئی ڈورکو مکمل طورپرٹوٹنے سے بچانے کی کوشش۔ان کااندازِ بیان اورذمہ داری کااحساس اس بات کا مظہرہے کہ سیاست میں بھی وقاراور تہذیب کی گنجائش باقی ہے۔ گویاوہ تاریخ کے اس نازک موڑپرہندوستانی ضمیرکی ایک نرم مگربامعنی آوازبن کرابھررہے ہوں مگرحقیقت یہ ہے کہ نمائندہ وفودکبھی بھی قیادت کے فقدان کونہیں چھپا سکتے۔یہ ایساہی ہے جیسے کسی بڑے زخم پرمعمولی مرہم رکھ کراسے چھپانے کی کوشش کی جائے۔ایک فرداٹھتا ہے، نمائندگی کرتا ہے،مگر اے صاحبانِ اقتدار!کیاقومیں نمائندوں سے چلتی ہیں یاقیادت سے؟یہ شرکت نہیں،یہ ایک کمزورساتاثرہے،ایک ایسی کوشش جوحقیقت کوچھپا نہیں سکتی۔
اوردیکھو!اپنے ہی ملک کے علماکوروک دیاگیا! ایک عاشق کواس کے محبوب کے جنازے میں جانے سے روکنایہ کیسی سفارت ہے؟یہ کیساانصاف ہے؟یہ وہ زخم ہے جوصرف دلوں پرنہیں،تاریخ پرلگتا ہے۔مذہبی جذبات اوربین الاقوامی احترام کوداخلی سیاسی ترجیحات کے نیچے رونددیاگیا ہے۔ایک عالم کواس کے روحانی پیشواکے جنازے میں جانے سے روکنا محض زیادتی نہیں،بلکہ ایک تہذیبی بے حسی ہے۔یہ محض ایک انتظامی کارروائی نہیں بلکہ ایک روحانی محرومی ہے۔کشمیری شیعہ علماآغاسیدحسن الموسوی الصفوی اورمسرور عباس کو روکے جانے کاواقعہ نہایت افسوسناک اورایک خاموش المیہ ہے،ایساالمیہ جوسرکاری فائلوں میں شایدمحض ایک نوٹ ہو،مگردلوں میں ایک زخم بن کررہ جاتاہے۔ انڈیامیں شیعہ برادری کی نمایاں موجودگی کے باوجود کشمیری علماکوایران جانے سے روکناایک ایسااقدام ہے جونہ صرف مذہبی جذبات کومجروح کرتاہے بلکہ ایک کھلی ناانصافی ہے اورہندوستانی جمہوریت کے دعوؤں پربھی سوالیہ نشان ثبت کرتاہے۔اسلامی اخوت کے تناظرمیں یہ اقدام دلوں میں فاصلے بڑھانے کاسبب بنتاہے۔ایک عاشق کواپنے محبوب کے جنازے میں جانے سے روکنا تاریخ کے اوراق میں ہمیشہ ایک سوالیہ نشان بن کر رہتا ہے۔
محبوبہ مفتی کی ممکنہ شرکت اس بیانیے میں ایک اور رنگ بھرتی ہے،ایک ایسارنگ جوکشمیر کی سیاسی ومذہبی حساسیتوں کو عالمی منظرنامے سے جوڑتاہے۔ان کی شرکت کی خواہش اس بات کی علامت ہے کہ کشمیرکادل اب بھی ایران کے ساتھ دھڑکتاہے۔یہ جذباتی رشتہ سیاسی سرحدوں سے ماوراہے اوریہی وہ رشتہ ہے جوامتِ مسلمہ کوایک لڑی میں پروتاہے۔ان کی شرکت کی خواہش اس حقیقت کوبے نقاب کرتی ہے کہ عوامی سطح پرتعلقات ابھی زندہ ہیں،مگرحکومتی سطح پرانہیں دانستہ کمزورکیاجارہاہے۔یہ دوہرارویہ ایک ایسے بحران کی نشاندہی کرتاہے جہاں ریاست اورعوام ایک ہی صفحے پرنہیں رہے۔گویا کشمیر کا دل اب بھی دھڑک رہاہے،وہ اب بھی وفاکاچراغ جلائے ہوئے ہے!مگرسوال یہ ہے کیادہلی کے ایوانوں میں بھی وہی روشنی باقی ہے؟یاوہاں اندھیروں نے ڈیرے ڈال دئیے ہیں؟
سوشل میڈیاپراٹھنے والی آوازیں دراصل عوامی ضمیراورعوامی شعورکی بیداری کامظہراورایک اجتماعی سوال ہیں:جب عوام سوال کرتے ہیں تووہ بغاوت نہیں کرتے،دراصل اپنے حکمرانوں کوآئینہ دکھاتے ہیں وہ سچ کامطالبہ کرتے ہیں!آج ہرسوال ایک تیرہے،ہر آوازایک للکارہے!کہاں ہے وہ روایت؟کہاں ہے وہ وقار؟یاسب کچھ مفادات کی بھینٹ چڑھ چکاہے؟ کیا ہندوستان نے اپنی سفارتی روایت ترک کردی ہے؟ جب بڑے رہنماؤں کی وفات پراعلیٰ سطح کی نمائندگی ایک روایت ہو،تواس سے انحراف خودایک منفی پیغام بن جاتاہے سمیتاشرمااورششی تھروراوردیگرکی آرااس خلاکی نشاندہی کرتی ہیں۔ہندوستانی سفارت کاری میں ایک خلامحسوس کیا جا رہاہے،ایسا خلاجوشایدمستقبل میں مزید گہرا ہو جو رسمی تعزیت اورحقیقی ہمدردی کے درمیان پیدا ہو چکاہے۔
تہذیبی رشتوں کی بات کرنااب محض ایک رسمی جملہ رہ گیاہے۔تہذیبی جغرافیہ وقت کی دھول سے محفوظ رہتاہے،مگرسیاسی جغرافیہ مفادات کی آندھی میں بدلتا رہتاہے۔حقیقت یہ ہے کہ عالمی سیاست میں اب صرف مفادکی زبان بولی جاتی ہے،اور ہندوستان نے بھی یہی زبان اختیارکرلی ہے۔مگر مسئلہ یہ ہے کہ اس کھیل میں وہ نہ مکمل طورپرمغرب کاحصہ بن پایاہے اورنہ مشرق کا اعتباربرقراررکھ سکا ہے نتیجتاایک سفارتی خلاپیداہو چکا ہے۔
یہ ایک تاریخی تلخ سچ ہے کہ تہذیبیں نہیں مرتیںمگرضمیرمرجاتے ہیں۔تعلقات باقی رہتے ہیںمگر اعتبار ٹوٹ جاتاہے۔آج ہندوستان ایک ایسے موڑ پر کھڑاہے جہاں نہ وہ مکمل دوست رہاہے،نہ مکمل غیر،یہ بے سمتی ایک خطرہ ہے،ایک ایساخطرہ جوقوموں کواندر سے کھوکھلاکردیتاہے۔ ہندوستان اورایران کاتعلق صدیوں پرمحیط ہے، مگرحالیہ دہائیوں میں یہ تعلق مفادات کی بھٹی میں پگھلتادکھائی دیتاہے۔(جاری ہے)