تیزی سے بدلتی ہوئی اس دنیا میں، جہاں لوگ طویل اور صحت مند زندگی کے راز کی تلاش میں نت نئے طریقے آزما رہے ہیں، وہاں زندگی کی حقیقی دانش اکثر پیچیدہ اصولوں میں نہیں بلکہ سادگی، سکون، اعتدال اور مثبت طرزِ زندگی میں پوشیدہ ہوتی ہے۔استنبول کے تاریخی علاقے فاتح میں واقع سوڈے کوناک ہوٹل میں میری ملاقات اتفاقا نوے سالہ باوقار ترک خاتون سمرن خاتون سے ہوئی۔ یہ مختصر سی ملاقات میرے لئے ایک گہرا سبق بن گئی اور ایک بار پھر اس حقیقت کو تازہ کر گئی کہ زندگی کی اصل خوبصورتی اندرونی سکون اور متوازن طرزِ زندگی میں ہے۔ہم دونوں اتفاقا ًاسی ہوٹل میں مقیم تھے۔ ایک رات تقریبا دس بجے جب میں واپس ہوٹل پہنچا تو دیکھا کہ سمرن خاتون لابی میں نہایت سکون سے کڑھائی کر رہی تھیں۔ ان کے چہرے پر تازگی، آنکھوں میں چمک اور شخصیت میں وقار نمایاں تھا۔ نوے برس کی عمر کے باوجود ان کے اندر جو توانائی، اطمینان اور زندگی سے محبت تھی، وہ بے حد متاثر کن تھی۔میں نے آگے بڑھ کر سلام کیا اور مختصر سی گفتگو کا آغاز ہوا۔ باتوں ہی باتوں میں میں نے ان سے پوچھا کہ اس طویل، صحت مند اور خوشگوار زندگی کا راز کیا ہے؟
وہ مسکرائیں اور نہایت سادہ مگر گہری باتیں کہیں:
روزانہ باقاعدگی سے چہل قدمی کریں، قدرتی، سادہ اور متوازن غذا اختیار کریں، ہر روز موسم کے مطابق تازہ پھل ضرور کھائیں، ضرورت سے زیادہ کھانے سے پرہیز کریں، اپنے جسم کو متحرک رکھیں، سستی کو زندگی کا حصہ نہ بنائیں اپنے ذہن کو کسی مثبت اور تخلیقی مشغلے میں مصروف رکھیں۔ میں آج بھی شوق سے کڑھائی کرتی ہوں۔ ہر وقت شکایت کرنے کے بجائے شکرگزاری اور قلبی سکون کو اپنا شعار بنائیں۔ زندگی کو محبت، امید اور خوش بینی کی نگاہ سے دیکھیں۔ بظاہر یہ نصیحتیں بہت سادہ محسوس ہوتی ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ زندگی کی سب سے بڑی حکمتیں اکثر انہی سادہ جملوں میں پوشیدہ ہوتی ہیں۔
سمرن خاتون نے مجھے ایک بار پھر یہ احساس دلایا کہ حقیقی جوانی صرف جسم کی نہیں بلکہ ذہن، دل اور روح کی تازگی کا نام ہے۔ جب تک انسان حرکت کرتا رہے، سیکھتا رہے، کچھ نہ کچھ تخلیق کرتا رہے اور امید کا دامن نہ چھوڑے، تب تک عمر صرف ایک عدد رہ جاتی ہے۔اس رات جب میں ہوٹل کی لابی سے واپس اپنے کمرے کی طرف جا رہا تھا تو مجھے یوں محسوس ہوا جیسے میں نے خاموشی سے برسوں کی زندگی کا نچوڑ سن لیا ہو۔سمرن خاتون کی پرسکون مسکراہٹ اور باوقار شخصیت نے مجھے ایک بار پھر یہ سبق دیا کہ:
طویل زندگی کا راز صرف زیادہ سال جینے میں نہیں، بلکہ ہر دن کو مقصد، شکر، محبت اور سکون کے ساتھ گزارنے میں ہے۔جب انسان اپنے جسم کو حرکت، اپنے ذہن کو علم، اپنے دل کو محبت اور اپنی روح کو اللہ کی یاد اور اطمینان سے زندہ رکھتا ہے، تو عمر محض کیلنڈر پر لکھی ہوئی ایک تعداد بن کر رہ جاتی ہے۔زندگی برسوں سے نہیں ناپی جاتی، بلکہ ان لمحوں سے ناپی جاتی ہے جن میں روح بیدار ہو۔ مولانا جلال الدین رومیؒ