Search
Close this search box.
جمعرات ,09 جولائی ,2026ء

عشق یا شیطنت اور ہماری بدلتی ہوئی معاشرت؟

کسی بھی معاشرے کی اصل پہچان اس کے بلند و بالا عمارتیں، جدید سڑکیں یا ٹیکنالوجی نہیں ہوتیں بلکہ اس کی اخلاقی اقدار، کردار سازی اور انسانی جان کے احترام سے ہوتی ہے۔ جب ایک مہذب معاشرے میں معمولی تنازع یا وقتی غصہ کسی بے گناہ انسان کی جان لے لے تو یہ صرف ایک فرد کا جرم نہیں رہتا بلکہ پورے معاشرے کے لئے لمحہ فکریہ بن جاتا ہے۔ حالیہ دنوں پاکستان ایئر فورس کے فرض شناس اور باصلاحیت افسر، کیپٹن عاصم طارق، کے قتل کا افسوس ناک واقعہ بھی اسی حقیقت کی طرف توجہ دلاتا ہے کہ ہمیں صرف مجرم کو سزا دینے پر اکتفا نہیں کرنا چاہیے بلکہ ان اسباب کا بھی سنجیدگی سے جائزہ لینا چاہیے جو ایسے سانحات کی راہ ہموار کرتے ہیں۔عدالت میں ملزم سے جب یہ سوال کیا گیا کہ اس نے ایک انسان کی جان کیوں لی تو اس کا جواب تھا کہ وہ ایک لڑکی کے ساتھ بیٹھا تھا اور مقتول اسے ’’ڈسٹرب‘‘ کر رہا تھا۔ اس جواب میں صرف ایک ملزم کی سوچ نہیں بلکہ ایک ایسی ذہنی کیفیت جھلکتی ہے جس میں وقتی خواہش، غصہ اور انا انسانی جان سے بھی زیادہ قیمتی محسوس ہونے لگتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ہمیں خود سے سوال کرنا چاہیے کہ ہماری نئی نسل کن نظریات، کن اقدار اور کن کرداروں سے متاثر ہو رہی ہے؟یہ حقیقت ہے کہ گزشتہ دو دہائیوں میں سوشل میڈیا، موبائل فون اور الیکٹرانک میڈیا نے انسانی زندگی کے ہر شعبے کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ ان ذرائع نے بے شمار سہولتیں فراہم کی ہیں، علم تک رسائی آسان بنائی ہے اور دنیا کو ایک عالمی گائوں میں تبدیل کر دیا ہے۔ لیکن ہر طاقتور ذریعہ اگر ذمہ داری سے استعمال نہ ہو تو اس کے منفی اثرات بھی سامنے آتے ہیں۔ نوجوان نسل کا ایک بڑا حصہ آج اپنی شخصیت کی تعمیر والدین، اساتذہ اور بزرگوں سے زیادہ ان شخصیات کو دیکھ کر کر رہا ہے جو سوشل میڈیا پر شہرت رکھتی ہیں یا ٹیلی وژن کی اسکرینوں پر نمایاں نظر آتی ہیں۔
بدقسمتی سے ہمارے بعض تفریحی پروگراموں میں کامیابی، محبت اور آزادی کا ایسا تصور پیش کیا جاتا ہے جس میں ذمہ داری، حیاء، احترام اور کردار کی اہمیت ثانوی دکھائی دیتی ہے۔ بعض اوقات پرائم ٹائم شوز میں مہمانوں سے ان کی ذاتی زندگی، رومانوی تعلقات اور نجی معاملات پر ایسے سوالات کئے جاتے ہیں جنہیں تفریح کے نام پر معمول بنا دیا گیا ہے۔ نوجوان جب مسلسل یہی مواد دیکھتے ہیں تو ان کے ذہن میں یہ تاثر پیدا ہو سکتا ہے کہ زندگی کی اصل کامیابی شہرت، تعلقات اور وقتی جذبات کی تسکین میں پوشیدہ ہے، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔تاہم انصاف کا تقاضا یہ بھی ہے کہ ہم ہر سماجی برائی کا ذمہ دار صرف میڈیا یا سوشل میڈیا کو قرار نہ دیں۔ جرم کا فیصلہ آخرکار ایک فرد خود کرتا ہے اور اسی بنیاد پر قانون اسے جواب دہ ٹھہراتا ہے۔ اسی طرح لاکھوں نوجوان یہی ذرائع استعمال کرتے ہیں مگر وہ نہ صرف باکردار زندگی گزارتے ہیں بلکہ اپنے خاندان، معاشرے اور وطن کے لئے قابلِ فخر خدمات بھی انجام دیتے ہیں۔ اس لئے مسئلہ صرف ذرائع ابلاغ نہیں بلکہ ان کے استعمال کا انداز، خاندانی تربیت، تعلیمی ماحول اور معاشرتی اقدار کا مجموعی بحران ہے۔والدین کا کردار اس پورے منظرنامے میں سب سے زیادہ اہم ہے۔ اگر گھر کے بڑے خود ہر وقت موبائل فون کی اسکرین میں گم رہیں، بچوں سے مکالمہ ختم ہو جائے اور تربیت کی جگہ صرف نصیحت رہ جائے تو نئی نسل کے لئے عملی نمونہ کہاں سے آئے گا؟ بچے وہ نہیں بنتے جو ہم انہیں کہتے ہیں بلکہ وہ بننے کی کوشش کرتے ہیں جو وہ اپنے والدین کو کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ اگر گھر میں احترام، برداشت، صبر اور ذمہ داری کی فضا ہوگی تو یہی اقدار بچوں کی شخصیت کا حصہ بنیں گی۔اسی طرح تعلیمی ادارے بھی صرف امتحانات میں کامیابی کا ذریعہ نہیں بلکہ کردار سازی کے مراکز ہونے چاہئیں۔ اگر سکول، کالج اور جامعات طلبہ کو صرف ڈگریاں دیں مگر اخلاق، برداشت، اختلافِ رائے کا احترام اور قانون کی پاسداری نہ سکھائیں تو معاشرہ تعلیم یافتہ ضرور ہوگا لیکن مہذب نہیں بن سکے گا۔ ہمارے نصاب اور غیر نصابی سرگرمیوں میں کردار سازی، شہری ذمہ داری اور اخلاقی تربیت کو زیادہ موثر انداز میں شامل کرنے کی ضرورت ہے۔
ریاست کی ذمہ داری بھی کسی طور کم نہیں۔ جدید دنیا میں سوشل میڈیا پر عمر کے مطابق حفاظتی نظام، نقصان دہ مواد کی نگرانی، ڈیجیٹل تعلیم اور آن لائن ذمہ داری کے اصول متعارف کرائے جا رہے ہیں۔ پاکستان میں بھی ایسی قانون سازی کی ضرورت ہے جو ایک طرف نوجوانوں کو تعلیم، تحقیق اور مثبت اظہار کے مواقع فراہم کرے اور دوسری طرف ایسے مواد کی حوصلہ شکنی کرے جو تشدد، نفرت، بے راہ روی یا غیر ذمہ دارانہ طرزِ عمل کو فروغ دیتا ہو۔ تاہم یہ قانون سازی آزادیِ اظہار کے آئینی حق اور شہری آزادیوں کے احترام کے ساتھ متوازن ہونی چاہیے۔ذرائع ابلاغ پر بھی ایک اخلاقی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ ریٹنگ کی دوڑ میں اگر سنجیدہ سماجی مسائل کے بجائے محض سنسنی، سطحی تفریح اور غیر ضروری ذاتی موضوعات کو فروغ دیا جائے تو اس کے اثرات معاشرے پر ضرور مرتب ہوتے ہیں۔ میڈیا اگر چاہے تو نوجوانوں کے لیے ایسے کردار بھی سامنے لا سکتا ہے جو علم، خدمت، دیانت، وطن دوستی اور انسانی ہمدردی کی مثال ہوں۔ اصل سوال یہی ہے کہ ہماری نئی نسل کے سامنے ہیرو کون ہیں؟کیپٹن عاصم طارق جیسے افسران اپنی جان کی پروا کئے بغیر وطن کی خدمت کرتے ہیں۔ ان کی المناک موت صرف ایک خاندان کا نقصان نہیں بلکہ پوری قوم کا نقصان ہے۔ ایسے سانحات ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ انسانی جان کا احترام ہر نظرئیے، ہر جذبے اور ہر تعلق سے بڑھ کر ہونا چاہیے۔ اختلاف، غصہ یا ذاتی انا کبھی بھی کسی انسان کی جان لینے کا جواز نہیں بن سکتے۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ایک دوسرے پر الزام تراشی کے بجائے اجتماعی احتساب کریں۔ والدین اپنی ذمہ داری پہچانیں، اساتذہ اپنی تربیتی حیثیت کو مضبوط کریں، میڈیا اپنی سماجی ذمہ داری کا احساس کرے، ریاست موثر اور متوازن قانون سازی کرے اور نوجوان خود بھی یہ سمجھیں کہ اصل آزادی خواہشات کی غلامی میں نہیں بلکہ کردار، ذمہ داری اور خود احتسابی میں ہے۔اگر ہم نے آج اپنی ترجیحات درست نہ کیں تو کل ایسے سانحات مزید خاندانوں کی خوشیاں چھین سکتے ہیں۔ لیکن اگر ہم نے گھر، اسکول، مسجد، میڈیا اور ریاست کے درمیان تربیت کا مضبوط رشتہ قائم کر لیا تو یقینا ہم ایک ایسا معاشرہ تشکیل دے سکتے ہیں جہاں محبت ہو مگر حدود کے ساتھ، آزادی ہو مگر ذمہ داری کے ساتھ، اور ترقی ہو مگر اخلاقی اقدار کے ساتھ۔ایک مہذب قوم کی پہچان یہی ہے کہ وہ ہر سانحے سے سبق سیکھتی ہے، اپنے رویوں کا جائزہ لیتی ہے اور آنے والی نسلوں کے لیے بہتر مستقبل کی بنیاد رکھتی ہے۔ شاید اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنے بچوں سے پہلے اپنے ہاتھوں میں موجود اس چھوٹی سی اسکرین، اپنے طرزِ زندگی اور اپنی اجتماعی ترجیحات کا محاسبہ کریں، کیونکہ مضبوط معاشرے صرف قوانین سے نہیں بلکہ مضبوط کرداروں سے تعمیر ہوتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ آج ہمیں صرف ایک افسوسناک واقعے پر آنسو بہانے کے بجائے اپنے اجتماعی رویوں کا سنجیدگی سے جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔
معاشرے کی تعمیر محض قوانین، سزاں یا نعروں سے نہیں ہوتی بلکہ گھروں، درسگاہوں، عبادت گاہوں اور ابلاغی اداروں میں پروان چڑھنے والی اقدار سے ہوتی ہے۔ اگر ہم اپنی نئی نسل کو احترامِ انسانیت، ضبطِ نفس، برداشت، ذمہ داری اور قانون کی پاسداری کا شعور دے سکیں تو بہت سے سانحات جنم لینے سے پہلے ہی رک سکتے ہیں۔ہمیں یہ بھی تسلیم کرنا ہوگا کہ جدید ٹیکنالوجی بذاتِ خود نہ اچھی ہے نہ بری؛ اصل مسئلہ اس کے استعمال کا ہے۔ موبائل فون، سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا علم، تربیت اور مثبت تبدیلی کے طاقتور ذرائع بھی بن سکتے ہیں، بشرطیکہ ہم ان کے استعمال میں اعتدال، نگرانی اور اخلاقی شعور کو مقدم رکھیں۔ والدین بچوں کے لیے وقت نکالیں، اساتذہ کردار سازی کو اپنی ذمہ داری سمجھیں، میڈیا مثبت نمونے سامنے لائے اور ریاست نوجوانوں کی فکری و اخلاقی رہنمائی کے لیے موثر پالیسیاں تشکیل دے۔کیپٹن عاصم طارق کا سانحہ ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ ایک لمحے کی بے قابو جذباتیت پوری زندگیوں کو اجاڑ سکتی ہے۔ اگر اس واقعے سے ہم نے اپنی ترجیحات درست کر لیں تو شاید یہ دردناک حادثہ آئندہ نسلوں کے لئے ایک بیدار کن سبق ثابت ہو سکے۔

یہ بھی پڑھیں