Search
Close this search box.
هفته ,13 جون ,2026ء

آزاد جموں کشمیر،قومی یکجہتی اورانتشار کی سیاست

آزاد جموں و کشمیر میں جنم لینے والی حالیہ کشیدگی کو محض ایک مقامی سیاسی تنازع نہیں سمجھا جا سکتا۔اس کے گرد بنائے جانے والے بیانیے، سوشل میڈیا پر چلائی جانے والی مہمات اور بعض حلقوں کی جانب سے اختیار کی جانے والی حکمت عملی اس امر کی متقاضی ہے کہ معاملے کو محض احتجاج اور انتظامی ردعمل کے تناظر میں نہیں بلکہ قومی مفاد، آئینی حدود اور مسئلہ کشمیر کی وسیع تر حساسیت کے پس منظر میں دیکھا جائے۔ اختلاف رائے جمہوری معاشروں کا حسن ہے اور مطالبات پیش کرنا ہر شہری کا حق، لیکن جب کسی تنازع کو اس انداز سے پیش کیا جانے لگے کہ ریاست اور عوام دو متحارب فریق دکھائی دیں تو سوال صرف احتجاج کا نہیں رہتا بلکہ اس بیانیے کا بھی بن جاتا ہے جو پس منظر میں تشکیل دیا جا رہا ہوتا ہے۔ آج آزاد کشمیر کے حوالے سے کچھ ایسا ہی منظرنامہ ابھرتا دکھائی دے رہا ہے۔گزشتہ چند روز سے یہ تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ حکومت نے جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے مطالبات کو یکسر مسترد کر دیا ہے حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ دستیاب معلومات کے مطابق کمیٹی کے 38 مطالبات میں سے 35پر عملدرآمد ہو چکا ہے۔ اختلاف اگر باقی تین نکات پر ہے تو اس کو تصادم کے بجائے مزید گفت و شنید، آئینی راستوں اور سیاسی تدبر کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے۔یہ امر بھی پیش نظر رہنا چاہیے کہ موجودہ تنازع کا مرکز بننے والا مطالبہ محض ایک سیاسی نکتہ نہیں بلکہ مسئلہ کشمیر کی تاریخی اور آئینی جہتوں سے جڑا ہوا معاملہ ہے۔ جو بارہ نشستیں موضوع بحث ہیں، وہ مقبوضہ جموں و کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی نمائندگی کرتی ہیں۔ ان نشستوں کی موجودگی ایک سیاسی انتظام سے کہیں بڑھ کر اس اصولی موقف کی علامت ہے جس پر پاکستان دہائیوں سے قائم ہے یعنی مقبوضہ کشمیر کے عوام کی سیاسی شناخت، ان کے حق نمائندگی اور حق خودارادیت کی مسلسل حمایت۔ اگر انہی نشستوں کے خاتمے کا مطالبہ زور پکڑتا ہے تو اس کے اثرات صرف آزاد کشمیر کی داخلی سیاست تک محدود کیسے رہ سکتے ہیں؟
مسئلہ کشمیر محض ایک جغرافیائی تنازع نہیں بلکہ ایک تسلیم شدہ بین الاقوامی تنازع ہے جس کے ہر آئینی اور سیاسی پہلو کے دور رس مضمرات ہیں لہٰذا ایسے معاملات کو جذباتی نعروں کے بجائے قانونی اور آئینی فریم ورک کے اندر دیکھنا ناگزیر ہو جاتاہے۔ آزاد جموں و کشمیر کی عدالت اس معاملے کی آئینی نوعیت کے بارے میں اپنا موقف واضح کر چکی ہے۔ عدالت نے قرار دیا ہے کہ نشستوں کی تقسیم یا تحلیل سے متعلق امور آئینی دائرہ کار میں آتے ہیں اور ان کا فیصلہ متعلقہ قانونی فورمز ہی کر سکتے ہیں۔ ایک جمہوری ریاست میں آئین ہی اجتماعی نظم کا ضامن ہے۔ اگر آئینی معاملات کا فیصلہ سڑکوں کے دبائو، نعروں یا ہجوم کی قوت سے ہونے لگے تو پھر قانون کی بالادستی اور ادارہ جاتی استحکام محض الفاظ بن کر رہ جاتے ہیں۔اس تمام صورتحال کا ایک اور پہلو بھی توجہ طلب ہے۔ کشمیری مہاجرین کی نمائندگی سے متعلق نشستوں کے خاتمے کا مطالبہ دانستہ ہو یا غیر دانستہ، اس بیانیے سے مماثلت ضرور رکھتا ہے جسے بھارت طویل عرصے سے فروغ دینے کی کوشش کرتا آیا ہے۔ نئی دہلی ہمیشہ یہ چاہتا رہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے عوام کی الگ سیاسی شناخت اور ان کے نمائندانہ حق کو کمزور کیا جائے جبکہ پاکستان کا موقف اس کے برعکس رہا ہے۔ ایسے میں یہ سوال بجا طور پر اٹھایا جا سکتا ہے کہ آخر وہ مطالبہ کس حد تک قومی مفاد سے ہم آہنگ ہو سکتا ہے جو عملی طور پر دشمن کے بیانیے کو تقویت دیتا دکھائی دے؟اس کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا پر چلنے والی بعض مہمات نے معاملے کو مزید الجھا دیا ہے۔ ایک منظم انداز میں یہ تاثر ابھارنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ پنجاب سے آنے والی نفری آزاد کشمیر میں جا کر کشمیریوں کے خلاف کارروائیاں کر رہی ہے۔ یہ بیانیہ زمینی حقائق سے ہرگز مطابقت نہیں رکھتا بلکہ یہ قومی وحدت کے لیے بھی نقصان دہ ہے۔ پاکستان کی فوج، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور ریاستی ڈھانچہ کسی ایک صوبے، زبان یا خطے کی نمائندگی نہیں کرتے۔ یہ پورے پاکستان کے مشترکہ ادارے ہیں جن میں آزاد کشمیر سمیت ملک کے ہر حصے سے تعلق رکھنے والے افراد خدمات انجام دے رہے ہیں۔فوج بھی ہماری اور کشمیری قوم بھی ہماری اپنی ہے۔ دونوں کو ایک دوسرے کے مقابل لا کھڑا کرنا حقیقت کی ترجمانی نہیں بلکہ ایک مصنوعی تقسیم کی کوشش ہے۔ جو لوگ اس تاثر کو فروغ دے رہے ہیں کہ گویا ریاست ایک طرف کھڑی ہے اور کشمیری عوام دوسری طرف، وہ ایک ایسی خلیج پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جس کا فائدہ کسی کشمیری، کسی پاکستانی یا کسی جمہوری عمل کو نہیں پہنچے گا۔
اصل بحث مطالبات، آئینی حدود اور سیاسی حل کی ہونی چاہیے تھی مگر توجہ مسلسل ایسے نعروں اور جذباتی بیانیوں کی طرف موڑی جا رہی ہے جو مسئلے کے حل کے بجائے محاذ آرائی کو گہرا کررہے ہیں۔ کسی بھی باشعور معاشرے میں اختلاف کو دشمنی اور تنقید کو تصادم میں تبدیل نہیں ہونے دیا جاتا کیونکہ جب معاملات جذبات کی گرفت میں آ جائیں تو دلیل کہیں پیچھے اور سامنے صرف بند گلی رہ جاتی ہے۔ طاقت اور تصادم کبھی مستقل حل نہیں ہوتے۔ دنیا کے بڑے تنازعات، طویل جنگیں اور خونریز کشمکشیں بھی بالآخر مذاکرات کی میز پر ہی اپنے انجام کو پہنچی ہیں۔ جب ریاستوں کے درمیان ہونے والی جنگوں کے فیصلے مکالمے سے طے ہو سکتے ہیں تو پھر سیاسی جماعتوں، احتجاجی قیادتوں اور ریاستی اداروں کے درمیان پیدا ہونے والے اختلافات کا حل بھی گفت و شنید ہی میں ہونا چاہیے۔ افسوس یہ ہے کہ ہمارے ہاں اکثر اوقات مذاکرات کو کمزوری اور محاذ آرائی کو قوت سمجھ لیا جاتا ہے۔آزاد کشمیر کا معاملہ محض ایک خطے کا معاملہ نہیں۔ یہ پاکستان کے قومی موقف، مسئلہ کشمیر کی بین الاقوامی حیثیت اور قومی یکجہتی سے جڑا ہوا سوال ہے۔ اسی لیے اس مسئلے پر گفتگو کرتے وقت سیاسی وابستگیوں، وقتی جذبات اور سوشل میڈیا کے شور سے بلند ہو کر سوچنے کی ضرورت ہے۔آج ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام فریق تحمل، بصیرت اور آئینی شعور کا مظاہرہ کریں۔ حکومت بھی مکالمے کے دروازے کھلے رکھے اور اختلاف رکھنے والے حلقے بھی اس حقیقت کو تسلیم کریں کہ قومی معاملات کا حل سڑکوں پر طاقت آزمائی میں نہیں بلکہ آئینی اداروں اور سیاسی عمل میں تلاش کیا جائے ۔پاکستان کو اس وقت نئے محاذ نہیں، قومی ہم آہنگی درکار ہے۔ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ کشمیری بھی ہمارے ہیں، ریاستی ادارے بھی ہمارے ہیں اور پاکستان بھی ہم سب کا مشترکہ گھر ہے۔ جو بیانیے ان رشتوں کے درمیان خلیج پیدا کرنے کے لئے کوشاں ہوں وہ خواہ کسی بھی عنوان کے تحت سامنے آئیں، ان کا مقصد تقسیم، بداعتمادی اور انتشار کے سوا کچھ نہیں۔ قومی دانش کا تقاضا یہی ہے کہ اختلاف کو انتشار میں اور احتجاج کو قومی تصادم میں تبدیل ہونے سے روکا جائے کیونکہ کشمیر کا مقدمہ افتراق سے نہیں بلکہ اتحاد سے مضبوط ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں