اگر کسی معاشرے میں لوگ عدالت کے فیصلے سے زیادہ ایک پولیس مقابلے کی خبر پر مطمئن ہونے لگیں تو سمجھ لیجیے مسئلہ صرف جرائم کا نہیں رہا۔سرگودھا 7 سالہ منتہا زہرا کے ریپ اور قتل کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ ایک معصوم بچی درندگی کا نشانہ بنی، ملک بھر میں غم اور غصے کی لہر اٹھی، ملزم پکڑا گیا، شواہد سامنے آگئے اور یوں لگا کہ اب قانون اپنا راستہ اختیار کرے گالیکن پھر گفتگو کا رخ بدل گیا۔ موضوع اب جرم نہیں رہا، ملزم نہیں رہا بلکہ اس کی موت زیربحث ہےکیونکہ سی سی ڈی نے پولیس مقابلے کی جوابی کارروائی میں مرکزی مجرم کو پھڑکا دیا ہے۔ بہت سے لوگوں نے اطمینان اور بعض نے خوشی کا اظہار کیا۔ شاید اس لیے نہیں کہ انصاف ہو گیا بلکہ اس لیے کہ انہیں یقین تھا کہ ملزم کو پھڑکایا نہ جاتا تو بہت ممکن تھا وہ عدالت سےباعزت بری ہو جاتا۔ منتہا پہلی بچی نہیں جس کے ساتھ ایسا ہوا ہے اور خدا نہ کرے لیکن آخری بھی نہیں ہوگی۔ اخبارات ایسے واقعات سے بھرے پڑے ہیں۔ نام بدل جاتے ہیں، شہر بدل جاتے ہیں، تصویریں بدل جاتی ہیں مگر والدین کا دکھ اور معاشرے کی بے بسی ایک جیسی رہتی ہے۔ ہر واقعے کے بعد چند دن شور اٹھتاہے، سزاؤں کے مطالبے ہوتے ہیں، پھانسیوں پر بحث ہوتی ہے اور پھر زندگی آگے بڑھ جاتی ہے۔ اس تمام ہنگامے کے بعد بھی تشویش وہیں کھڑی رہتی ہے کہ کیا لوگوں کو واقعی یقین ہے کہ ہمارا نظام ایسے مقدمات کواپنے منطقی انجام تک پہنچا سکتا ہے؟
سی سی ڈی جیسے ادارےاکثر وبیشتر ہم سمیت بہت سے لوگوں کی تنقید کی زد میں رہتے ہیں کیونکہ یہ عدالت اور سزا کے درمیان حائل ہیں اور قانون کو انہوں نے کسی نہ کسی حوالے سے اپنے ہاتھ میں لے رکھا ہے لہذا تنقید کی مکمل گنجائش موجود ہے۔ قانون کا مقصد صرف مجرم کو پکڑنا نہیں بلکہ جرم کو ثابت کرنا بھی ہوتا ہے۔اگر لوگوں کو یقین ہو کہ عدالتیں بروقت اور یقینی انصاف فراہم کریں گی تو وہ کبھی کسی پولیس مقابلے کی خبر کو انصاف کا متبادل نہ سمجھیں۔ گولی کی مقبولیت گواہی کی کمزوری سے پیدا نہیں ہوتی بلکہ نظام پر کمزور پڑتے اعتماد سے پیدا ہوتی ہے۔ اگر شہری کو یقین ہو کہ جرم ثابت ہوگا، سزا ہوگی اور بروقت ہوگی تو پھر کسی شارٹ کٹ کے لیے ہمدردی پیدا ہی نہیں ہوتی۔ لوگ مختصر راستوں کی طرف اسی وقت دیکھتے ہیں جب انہیں اصل راستہ حد سے زیادہ طویل یا غیر یقینی دکھائی دے ۔
نظام انصاف کے متوازی ایسے اداروں کی موجودگی کو صرف طاقت کی علامت سمجھنا غلطی ہوگی۔ یہ ریاست کی اس بے چینی کی علامت ہیں جو ریاست کو اس وقت لاحق ہوتی ہے جب اسے محسوس ہونے لگے کہ قانونی راستہ عوامی اعتماد کو سنبھالنے کے لیے کافی نہیں رہا۔ ریاستیں خوشی سے متبادل انتظامات پیدا نہیں کرتیں، انہیں اس وقت یہ انتظام پیدا کرنا پڑتا ہے جب معمول کا ڈھانچہ مطلوبہ نتائج دینے میں ناکام دکھائی دینے لگے۔ دوسرے لفظوں میں ایسے ادارے اکثر اپنی طاقت سے زیادہ نظام کی کمزوری کا پتہ دیتے ہیں۔
بات صرف قتل اور زیادتی کے مقدمات تک محدود نہیں۔ ملک کی معاشی تصویر بھی کم و بیش یہی کہانی سناتی ہے۔ ایک طرف حکومت 866 ارب روپے کے ریونیو شارٹ فال کا سامنا کر رہی ہے، دوسری طرف تقریباً 5700 ارب روپے کے ٹیکس مقدمات مختلف عدالتوں میں برسوں سے فیصلوں کے منتظر پڑے ہیں۔ یہ وہ رقم ہے جسے قومی خزانے تک پہنچ جانا چاہیے تھا یا قانونی طور پر کسی فریق کے حق میں اس کا فیصلہ ہو جانا چاہیے تھا مگر وہ ابھی تک کاغذوں اور تاریخوں کے درمیان معلق ہے۔ جب ریاست خود ہزاروں ارب روپے کے مقدمات کا فیصلہ حاصل نہیں کر پا رہی تو عام شہری سے یہ توقع کیسے کی جا سکتی ہے کہ وہ ہر مقدمے کے بروقت انجام پر غیر متزلزل یقین رکھے؟یہ اعداد و شمار صرف مالی مسئلہ نہیں بلکہ انصاف کی سست رفتاری کا اظہارہیں۔ اگر فیصلے اتنے طویل ہو جائیں کہ ان کے اثرات معیشت تک کو متاثر کرنے لگیں تو پھر مسئلہ چند زیر التوا مقدمات کا نہیں رہتا پورے ریاستی ڈھانچے کی کارکردگی کا بن جاتا ہے کیونکہ انصاف میں تاخیر صرف انصاف کا مسئلہ نہیں رہتی یہ حکمرانی کا مسئلہ بن جاتی ہے۔
المیہ نہیں کہ ہم ایک ایسے نظام انصاف کا سامنا کررہے ہیں جہاں مقدمے کا آغاز اور اختتام دو بالکل مختلف حقیقتیں بن چکی ہیں؟ طاقتور فریق بہترین وکلا لے کر آتے ہیں، قانونی موشگافیاں سامنے آ جاتی ہیں، گواہ تھک جاتے ہیں اور متاثرہ خاندان انصاف سے پہلے ہی ہار ماننے لگتے ہیں۔بعض اوقات سزا سے پہلے ہی لوگ انصاف سے اپنا تعلق توڑ لیتے ہیں۔ وہ عدالت سے مایوس ہو کر انجام کی خواہش کرنے لگتے ہیں۔ اسی لیے آج بہت سے لوگ قانون کی کامیابی سے زیادہ مجرم کا انجام دیکھنا چاہتے ہیں۔ وہ یہ نہیں پوچھتے کہ فیصلہ کیسے آیا، وہ صرف یہ دیکھتے ہیں کہ انجام کیا ہوا۔ یہ رویہ اگرچہ خوش آئند نہیں مگر اسے سمجھنا مشکل بھی نہیں۔ انتظار اگر بہت طویل ہو جائے تو لوگ منزل سے زیادہ مختصر راستوں میں دلچسپی لینے لگتے ہیں۔
سرگودھا کے حالیہ واقعے کے بعد بہت سے ذہنوں میں یہی خیال آیا ہوگا کہ اگر ملزم زندہ رہتا تو اپنے منطقی انجام تک نہ پہنچ پاتا۔یہ خیال درست ہے یا غلط، بحث اس پر نہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ یہ خیال پیدا کیوں ہوتاہے۔ ایک معاشرے کے اجتماعی شعور میں ایسے سوالات یونہی جگہ نہیں بناتے۔ ان کے پیچھے تجربات، مشاہدات، برسوں کی جمع شدہ تھکن اور مایوسی ہوتی ہے۔ملزم کو کسی پولیس مقابلے میںگولی مار دینا نظام انصاف پر عدم اعتماد کا واضح اظہار ہے اور یہ جملہ شایدپورے معاملے کا سب سے تلخ خلاصہ بھی ہے کیونکہ کسی ریاست کے لیے خطرے کی بات یہ نہیں کہ اس کے ہاں جرائم ہوتے ہیں۔ جرائم توہر معاشرے میں ہوتے ہیں۔ اصل خطرہ یہ ہے جب گواہی سے زیادہ گولی قابل اعتماد محسوس ہونے لگے۔جب عدالت کے فیصلے سے زیادہ پولیس مقابلے کی خبر اطمینان دینے لگے ۔جب قانون کی رفتار اتنی سست ہو جائے کہ لوگ انصاف سے پہلے انجام کے خواہش مند ہو جائیں۔ سرگودھا کا واقعہ بھی ذہنوں سے محو ہو جائے گا۔ خبروں کا رخ بدل جائے گا۔ نئی سرخیاں آجائیں گی مگر ایک سوالیہ نشان پھر بھی باقی رہے گا کہ اگر ریاست کو اپنے شواہد پر یقین تھا، اگر ملزم اس کی تحویل میں تھا اور اگر مقدمہ اس کے ہاتھ میں تھا تو پھر اسے اپنے نظام انصاف پر یقین کیوں نہیں تھا؟