پاکستان میں آج سب سے سستی چیز اگر کوئی ہے تو وہ عام آدمی کی جان ہے۔ مہنگائی نے لوگوں سے صرف سکون ہی نہیں چھینا، جینے کی خواہش بھی چھین لی ہے۔ مہنگائی اب صرف جیب پر بوجھ نہیں رہی بلکہ یہ انسان کی ہمت، عزت اور جینے کی ہرخواہش کو نگل رہی ہے۔ ایک انسان پورا مہینہ محنت کرنے کے بعد بھی یہ فیصلہ نہیں کر پاتا کہ بچوں کی فیس ادا کرے، راشن خریدے، دوائی لے یا بجلی کا بل جمع کرائے۔ غربت معاشی مسئلے سے بڑھ کر اب انسان کی خودداری کو زخمی کررہی ہے۔ گیس کا بل آتا ہے تو مہینے بھر کا بجٹ بکھر جاتا ہے۔ بچوں کی فیس، راشن، دوائی اور کرایے، گھر کے خرچ کو سمیٹتے سمیٹتے کئی گھروں میں چولہے ٹھنڈے پڑ گئے ہیں اور کئی خاندان معاشی بے بسی کے ہاتھوں بکھرکر رہ گئےہیں۔ خودکشی جیسے افسوسناک واقعات انفرادی سانحات نہیں رہے اس معاشی نظام پر ایک بد نما داغ کی صورت دکھائی دے رہےہیں۔ عوام مایوس ہو رہے ہیں اور یاد رکھیے کہ ریاستیں خزانے خالی ہونے سے کمزور نہیں ہوتیں، تب کمزور ہوتی ہیں جب عوام کے دل امید سے خالی ہونے لگیں۔ ایک طرف ممکنہ پیٹرول بحران کی خبریں سامنے آ رہی ہیں اور دوسری طرف حکومت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو روزانہ کی بنیاد پر مقرر کرنے پر غور کر رہی ہے۔ حکومتی بزر جمہروں کے نزدیک ممکن ہے یہ ایک معاشی اصلاح ہو مگر ایک عام آدمی کے لیے ہر صبح ایک نئی قیمت اور ہر شام ایک نئی بے یقینی منتظر ہوگی۔ جب پیٹرول مہنگا ہوتا ہے تو روزمرہ زندگی کی ہر ضرورت مہنگی ہو جاتی ہے۔ اس لیے عوام پیٹرول کی قیمت نہیں اپنی زندگی مہنگی ہونے سے خوفزدہ ہیں۔
حکومت کی معاشی پالیسیوں کو دیکھ کر یوں محسوس ہوتا ہے جیسے قومی خزانے کا راستہ صرف عوام کی جیب تک جاتا ہے۔ جب آمدن کم پڑ جائے تو بجلی مہنگی کر دو۔ مالی دباؤ بڑھ جائے تو گیس کے نرخ بڑھا دو۔ ریونیو چاہیے تو پیٹرول پر لیوی بڑھا دو۔ گویا ہر مسئلے کا ایک ہی حل ہے کہ عوام کی جیب سے مزید رقم نکال لی جائے۔ آخر حکومت نے کبھی یہ بھی سوچا ہے کہ ایک مزدور، ایک پنشنر، ایک کلرک، ایک چھوٹا دکاندار اور ایک سفید پوش خاندان آخر کتنی بار اپنے بچوں کی ضرورتوں کا گلا گھونٹ سکتا ہے؟ کب تک ہر غلط منصوبہ بندی، ہر مالی خسارے اور ہر معاشی ناکامی کی قیمت صرف عوام ادا کرتے رہیں گے؟حکومت بار بار قربانی کا مطالبہ کرتی ہے مگر قربانی ہمیشہ عوام ہی کیوں دیں؟ کیا قربانی صرف اس شخص کا فرض ہے جس کے گھر میں راشن ختم ہو رہا ہے؟ کیا قربانی صرف اس ماں کا مقدر ہے جو بچوں کے دودھ میں پانی ملا کر گزارا کرتی ہے؟ کیا قربانی صرف اس مزدور کا نصیب ہے جو شام تک محنت کرنے کے باوجود بجلی کا بل ادا نہیں کر سکتا؟ اگر ملک واقعی مشکل میں ہے تو پھر مشکل کا بوجھ اقتدار کے ایوانوں تک کیوں نہیں پہنچتا؟
حقیقت یہ ہے کہ آج بھی حکمران طبقہ، اشرافیہ اور اعلیٰ بیوروکریسی ایسی مراعات سے لطف اندوز ہو رہی ہے جن کا تصور بھی ایک عام شہری نہیں کر سکتا۔ اربوں روپے کی مفت بجلی، مفت پیٹرول، ہزاروں سرکاری گاڑیاں، شاہانہ پروٹوکول اور سرکاری خزانے پر اٹھنے والے بےشمار اخراجات آج بھی جوں کے توں برقرار ہیں۔ عوام سے کہا جاتا ہے کہ کفایت شعاری اختیار کریں مگر اقتدار کے ایوانوں میں کفایت شعاری کا داخلہ آج تک نہیں ہو سکا۔ یہ تضاد ہی عوام کے دل میں سب سے زیادہ تکلیف پیدا کررہاہے۔ حکومتی وزرا جب یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ معیشت سنبھل رہی ہے تو زہن میں یہ سوال ضرور ابھرتا ہے کہ پھر بازار ویران کیوں ہیں؟ چھوٹے کاروبار کیوں بند ہو رہے ہیں؟ صنعتیں اپنی پیداوار کیوں کم کر رہی ہیں؟ نوجوان روزگار کی تلاش میں کیوں دربدر ہیں؟ اگر معیشت واقعی بہتر ہو رہی ہے تو پھر عوام کی زندگی مسلسل بدتر کیوں ہو رہی ہے؟ حضور والا معاشی اشاریوں سے پیٹ نہیں بھرتا، سرکاری دعوؤں سے بجلی کے بل ادا نہیں ہوتے اور پریس کانفرنسوں سے گھر کا راشن نہیں آتا۔ سچ تو یہ ہے کہ پیٹرول پر عائد بھاری لیوی نے عوام کی کمر توڑ دی ہے۔ حکومت اسے آمدن کا ذریعہ قرار دیتی ہے مگر عوام کے لیے یہ روزمرہ زندگی پر ایک اضافی بوجھ ہے۔ پیٹرول مہنگا ہوتا ہے تو اس کی قیمت صرف پمپ پر ادا نہیں کی جاتی بلکہ ہر سبزی، ہر دوا، ہر بس کے کرائے اور ہر ضروری چیز میں وصول کی جاتی ہے۔ اسی طرح بجلی کے بل اب صرف بجلی کے بل نہیں رہے۔ مختلف ٹیکس، سرچارجز اور اضافی وصولیاں اصل بل سے زیادہ تکلیف دہ ہیں۔ عام آدمی یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ وہ بجلی خرید رہا ہے یا ٹیکسوں کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ ادا کر رہا ہے۔
اگر حکومت عوام کو ریلیف دینا چاہتی ہے تو اسے نئے معاشی تجربوں سے پہلے اپنے طرزحکمرانی پر نظر ڈالنی ہوگی۔ عوام سے قربانی مانگنے سے پہلے حکمران اپنے اللے تللے ختم کریں۔ مفت بجلی اور مفت پیٹرول جیسی مراعات ختم کی جائیں۔ غیر ضروری سرکاری گاڑیاں واپس لی جائیں۔ شاہانہ پروٹوکول اور فضول سرکاری اخراجات میں نمایاں کمی کی جائے۔ پیٹرول پر عائد بھاری لیوی کم کی جائے تاکہ عوام کو حقیقی ریلیف مل سکے۔ بجلی کے بلوں میں شامل ناروا ٹیکسوں اور اضافی سرچارجز کا خاتمہ کیا جائے تاکہ لوگوں کو بھی یہ احساس ہو سکے کہ حکومت ان سے صرف وصول نہیں کر رہی بلکہ ان کے بارے میں مخلص بھی نظر آتی ہے۔ صرف عوام سے ہی قربانی نہ مانگی جائے، کیا ان کا جرم یہ ہے کہ وہ اس ملک کے شہری ہیں؟ کیا یہ ان کی سزا ہے کہ وہ ہر نئی معاشی پالیسی، ہر نئے ٹیکس اور ہر نئے بوجھ کا پہلا نشانہ بنتے رہیں؟ اگر ملک واقعی مشکل میں ہے تو قربانی کا آغاز اقتدار کے ایوانوں سے کیوں نہ کیا جائے۔