مشرق وسطیٰ کی جنگ اور عالمی معیشت کی بھاری قیمت
دنیا کی معیشت بظاہر وسیع اور طاقتور دکھائی دیتی ہے لیکن یہ ایک ایسے مربوط نظام کی شکل اختیار کرچکی ہے جہاں کسی ایک خطے میں پیدا ہونے والی ہلچل دور دراز ملکوں تک محسوس کی جاتی ہے۔ مشرق وسطیٰ
دنیا کی معیشت بظاہر وسیع اور طاقتور دکھائی دیتی ہے لیکن یہ ایک ایسے مربوط نظام کی شکل اختیار کرچکی ہے جہاں کسی ایک خطے میں پیدا ہونے والی ہلچل دور دراز ملکوں تک محسوس کی جاتی ہے۔ مشرق وسطیٰ
تہران کی فضاؤں میں دھویں، غم اور اضطراب کا عالم چھایا ہوا ہے اور خطے کا سیاسی منظر نامہ ایک ایسےلمحے میں تبدیل ہو چکا ہے جس میں ہر اقدام، ہر ردعمل اور ہر بیان کے اثرات دور رس اور
وطن کی مٹی سے اٹھنے والی خوشبو انسان کے وجود میں اس طرح بس جاتی ہے جیسے ماں کی لوری بچے کے لاشعور میں ہمیشہ کے لیے محفوظ ہو جاتی ہے۔ یہی مٹی ہماری شناخت ہے، یہی ہماری پہچان ہے
پاکستان داخلی سلامتی کے جس امتحان سے گزر رہا ہے اس کا نتیجہ ملک کے مستقبل کی سمت متعین کرے گا کیونکہ داخلی سلامتی اب محض سکیورٹی کا مسئلہ نہیں رہی بلکہ ریاستی استحکام، معاشرتی ہم آہنگی اور قومی مستقبل
افغان طالبان کےاقتدار کی باگ ڈور سنبھالنے کے بعد توقع کی جا رہی تھی کہ چار دہائیوں سے شورش اور بیرونی مداخلت کا شکار یہ ملک بتدریج استحکام کی راہ اختیار کرے گا۔ طالبان قیادت نے عالمی برادری کو یقین
پاکستان اور خطے کے امن کے لیے سب سے بڑا خطرہ اب صرف روایتی عسکری تنازعات نہیں بلکہ دہشت گردی کی تبدیل شدہ اور مربوط حکمت عملی ہے، جس میں کم لاگت کے حملے ،زیادہ خوف اور عدم استحکام پیدا
جنوبی ایشیا کی سیاست میں کبھی کبھار ایسے موڑ آتے ہیں جو دہائیوں پرانے تعصبات کو ایک لمحے میں دھندلا دیتے ہیں۔ آج ہم بالکل ایسے ہی ایک تاریخی موڑ پر کھڑے ہیں۔ پندرہ برس تک شیخ حسینہ واجد کی
بنگلہ دیش پوسٹ میں 23 نومبر کو سامر بہاریچ اور ایمینا زولیتیج کا ایک آرٹیکل پبلش ہوا ہے جس میں بوسنیا میں ہونے والی نسل کشی کے ماہرین کی غزہ کی نسل کشی پرخاموشی کو تنقیدکا نشانہ بناتے ہوئے انہوں
دنیا ایک ایسے عہد سے گزر رہی ہےجہاں طاقت کا توازن اور انسانی قدریں ایک دوسرے کے خلاف صف آرا دکھائی دیتے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ جو کبھی تہذیبوں کا گہوارہ تھا، اب جنگ انتقام اور غیر یقینی کا استعارہ بن
گزشتہ دو برسوں سے مشرقِ وسطیٰ ایک مسلسل جنگی کیفیت میں ہے جہاں طاقت، سیاست اور انسانی بقا کے درمیان لکیر دھندلا چکی ہے۔ غزہ کی تباہی، فلسطینی عوام کی اذیت ناک حالت، اسرائیلی معاشرت کی داخلی بے چینی اور