خطے کی سیاست میں کچھ موضوعات کبھی پرانے نہیں ہوتے صرف ان کے اظہار کے انداز بدلتے رہتے ہیں۔ پاکستان اور بھارت کے تعلقات بھی اسی نوعیت کے موضوعات میں سے ایک ہیں جو وقت کے ساتھ ختم ہونے کے بجائے مزید نمایاں، گنجلک اور توجہ طلب ہوتے چلے گئے ہیں۔ بھارت میں کبھی یہ تعلقات سفارتی میزوں پر زیر بحث آتے ہیں، کبھی انتخابی جلسوں میں جذباتی نعروں کی شکل اختیار کر لیتے ہیں اور کبھی میڈیا اسکرینوں پر ریٹنگ، سنسنی اور بحث کا بنیادی مواد بن جاتے ہیں لیکن ایک حقیقت جو برسوں سے اپنی جگہ قائم رکھے ہوئے ہے وہ یہ ہے کہ بھارت کی سیاست، اس کا میڈیا اور اس کے پالیسی حلقے کسی نہ کسی شکل میں پاکستان کے ذکر سے خالی نہیں ہوتے۔ بعض اوقات تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے یہ کوئی وقتی موضوع نہیں بلکہ بھارت کی ایک مستقل ’’سیاسی عادت‘‘ ہے جو وقت کے ساتھ مزید گہری، زیادہ منظم اور تقریباً ادارہ جاتی شکل اختیار کر چکی ہے۔یہ رجحان محض اتفاق یا وقتی سیاسی ضرورت نہیں بلکہ ایک طویل تاریخی اور نفسیاتی سیاسی تسلسل کا حصہ دکھائی دیتا ہے۔ جب بھی بھارت کے اندرونی حالات دباؤ کا شکار ہوتے ہیں چاہے وہ معاشی سست روی ہو، مہنگائی میں اضافہ ہو، بے روزگاری کا مسئلہ ہو، زرعی بحران ہو یا پھر انتخابی سیاست کی غیر یقینی صورتحال تو گفتگو کا رخ غیر محسوس مگر مسلسل انداز میں سرحد پارپاکستان کی طرف مڑ جاتا ہے۔ پاکستان کا حوالہ پھر محض ایک ہمسایہ ملک کے ذکر تک محدود نہیں رہتا بلکہ ایک ایسے سیاسی آلے میں تبدیل ہو جاتا ہے جو عوامی توجہ کو ایک خاص سمت میں مرکوز کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ بھارت اور بالخصوص مودی سرکار نے یہ عمل اتنی بار دہرایا ہے کہ اب یہ ایک وقتی حربہ نہیں رہا بلکہ ایک طے شدہ بیانیاتی حکمتِ عملی محسوس ہونے لگا ہے جس میں داخلی سوالات کے فوری جوابات بیرونی حوالوں کے ذریعے دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔
بھارت کے گودی میڈیا کا اس پورے بیانیے میں ایک نہایت اہم اور اثراندازکردار ہے۔ میڈیا کے بڑے حصے میں پاکستان کا ذکر اس شدومدکے ساتھ کیا جاتا ہے کہ بعض اوقات یہ تاثر پیدا ہونے لگتا ہےجیسے خطے کے تمام مسائل اور تمام مباحث کا مرکزی نقطہ صرف ایک پاکستان ہی ہو۔ چاہے گفتگو معیشت پر ہو، سماجی اصلاحات پر ہو، ٹیکنالوجی کی ترقی پر ہو، خارجہ پالیسی پر ہو یا داخلی سیاست پر، کسی نہ کسی مرحلے پر ہربحث کا رخ پاکستان کی طرف ضرور مڑ جاتا ہے۔دلچسپ اور قابلِ غور پہلو یہ ہے کہ یہ رجحان صرف میڈیا تک محدود نہیں رہا بلکہ سیاسی گفتگو، ریاستی بیانیے اور انتخابی حکمتِ عملی کا مستقل حصہ بن چکا ہے۔ انتخابی ادوار میں اس کی شدت مزید بڑھ جاتی ہے جب سیاسی جماعتیں عوامی جذبات کو متحرک کرنے کے لیے زیادہ جارحانہ، نعرہ نما اور سادہ مگر اثرانگیز بیانیہ اختیار کرتی ہیں۔ ایسے میں پاکستان کا ذکر کبھی خطرے کی علامت کے طور پر کیا جاتا ہے، کبھی اسے قومی اتحاد کے بیانیے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، کبھی موازنہ کی سیاست کا حصہ بنایا جاتا ہے اور کبھی اسے سیاسی برتری کے ایک آلے کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ اب اگر اس پورے منظرنامے کو کسی قدر تنقیدی اور دوٹوک انداز میں دیکھا جائے تو یہ سوال خود بخود جنم لیتا ہے کہ آخر یہ ’’خبط‘‘ ہے کیا؟ کیا واقعی یہ محض ایک سکیورٹی پر مبنی اسٹریٹجک ضرورت ہے یا پھر ایک ایسا سیاسی بیانیہ ہے جو وقت کے ساتھ اپنی سہولت، افادیت اور داخلی سیاست میں استعمال کے باعث ایک مستقل روایت بن چکا ہے؟ بعض اوقات تو یہ احساس بھی ہوتا ہے کہ بھارت میں کچھ سیاسی تقاریر پاکستان کے ذکر کے بغیر مکمل ہی نہیں ہوتیں جیسے کسی جملے میں بنیادی لفظ کو جان بوجھ کر لازم سمجھ لیا گیا ہو۔ اس صورتحال میں بیانیہ حقیقت کی عکاسی کم اور سیاسی ضرورت کی ترجمانی زیادہ کرتا ہوا محسوس ہوتا ہے، جہاں اصل مسائل کے جواب کے لیے بیرونی حوالہ ایک آسان راستہ بن جاتا ہے۔یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ کسی بھی ریاست کی خارجہ پالیسی میں ہمسایہ ممالک کو مکمل طور پر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ سکیورٹی خدشات، تاریخی تنازعات اور علاقائی سیاست مل کر ایک ایسا فریم تشکیل دیتے ہیں جس میں ہر ملک دوسرے کے بارے میں اپنی رائے رکھتا ہے لیکن اصل مسئلہ اس رائے کے وجود کا نہیں بلکہ اس کی شدت اور تسلسل کا ہے۔ جب کوئی بیانیہ ضرورت سے زیادہ دہرایا جائے تو وہ سفارتی گفتگو سے نکل کر سیاسی شور میں تبدیل ہونے لگتا ہے اور یہی شور بعد میں حقیقت اور پروپیگنڈے کے درمیان فرق کو دھندلا دیتا ہےاور پالیسی سازی جذباتی ردعمل کے زیر اثر آجاتی ہے اور طویل المدتی حکمتِ عملی پیچھے رہ جاتی ہے۔اسی بیانیے کے سائے میں ایک اور اہم مگر اکثر نظرانداز ہونے والا پہلو بھی موجود ہے کہ جب کسی ریاست کی سیاسی اور میڈیا گفتگو بار بار ایک ہی موضوع کے گرد گھومتی رہے تو اس کے اندرونی اصلاحات، معاشی پالیسی، تعلیمی نظام، صحت کے مسائل اور سماجی ترقی جیسے بنیادی سوالات پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ پالیسی سازی زیادہ تر ردعمل پر مبنی ہو جاتی ہے اور تعمیراتی سوچ کمزور پڑنے لگتی ہے۔ یوں ریاستی ترجیحات کا توازن بگڑ جاتا ہےاور فوری سیاسی، فائدہ قومی مفاد پر غالب آ جاتا ہے۔
پاکستان اور بھارت کے تعلقات کی تاریخ صرف کشیدگی، تنازع یا اختلاف کی کہانی نہیں بلکہ اس میں موقعوں، مذاکرات، سفارتی کوششوں اور کبھی کبھار امیدوں کی جھلک بھی موجود رہی ہے لیکن بھارت کا موجودہ بیانیہ زیادہ تر اسی تکرار کے گرد گھومتا ہے جس میں پاکستان ایک مستقل حوالہ بن چکا ہے۔ میڈیا ہو یا سیاست جب کوئی بیانیہ ایک ہی سمت میں مسلسل دہرایا جائے تو وہ محض گفتگو نہیں رہتا بلکہ ایک ذہنی کیفیت اور ایک سیاسی عادت میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ یہی کیفیت پھر عوامی سوچ کو بھی ایک مخصوص سمت میں ڈھالنے لگتی ہے جہاں حقیقت کے بجائے تاثر زیادہ اہم ہوتا ہے۔ اسی لیے اسے ’’بیانیے کی سیاست‘‘ کہا جاتا ہےجہاں اصل مقابلہ پالیسیوں کا نہیں بلکہ تاثرات اور تصورات کا ہوتا ہےجبکہ اصل حقائق کا اس سے کچھ لینا دینا نہیں ہوتا۔ بنیادی سوال یہی ہے کہ کیا واقعی پاکستان بھارت کے لیے اتنا بڑا مسئلہ ہے جتنا اسے پیش کیا جاتا ہے یا یہ ایک ایسا سیاسی بیانیہ ہےجونریندر مودی نے اپنی سہولت، افادیت اور داخلی سیاست میں استعمال کی وجہ سے زندہ رکھا ہے؟ جواب خواہ کچھ بھی ہو ایک بات اب مکمل طور پر واضح ہے کہ یہ موضوع اب سیاست سے نکل کر ایک مستقل کہانی بن چکا ہےاور ہر کہانی کی طرح اس کے بھی مختلف راوی ہیں، مختلف زاویے ہیں اور مختلف مقاصد بھی ہیں اوراب شاید بھارت کے لئےیہی وقت اہم ہے کہ خطے کی سیاست کو صرف سرحد پار کے آئینے میں دیکھنے کے بجائے اپنے اندرونی سوالات کے آئینے میں بھی دیکھے کیونکہ دنیا بدل رہی ہے، مسائل بدل رہے ہیں مگر اگر بیانیہ وہی پرانا اور یکطرفہ ہے تو پھر ترقی نہیں بلکہ صرف تکرار باقی رہ جاتی ہےاور تکرار کبھی بھی حکمتِ عملی، حقیقت یا ترقی کا متبادل نہیں بن سکتی۔ بھارت کو چاہیے کہ پاکستان کے خبط میں مبتلا ہونے کے بجائےاب اپنے اندرونی معاملات پر اپنی توجہ مرکوز کرے۔