لاہور(نیوز ڈیسک)محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) نے ملک کے بیشتر حصوں میں شدید بارشوں، فلیش فلڈنگ، لینڈ سلائیڈنگ اور تباہ کن ہواؤں کی وارننگ جاری کر دی ہے، جس کے بعد پنجاب حکومت نے ہنگامی اقدامات کا آغاز کرتے ہوئے تمام متعلقہ اداروں کو ہائی الرٹ کر دیا ہے۔
بحیرہ عرب سے آنے والی نم آلود ہوائیں اور مغربی موسمیاتی نظام ملک کے شمالی اور وسطی علاقوں پر اثر انداز ہو رہے ہیں، جس کے باعث آزاد کشمیر، خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور پنجاب کے کئی اضلاع میں پیر کو شدید ترین بارشوں کا امکان ظاہر ہے۔
محکمہ موسمیات نے اتوار اور پیر کے روز ملک کے بالائی حصوں میں غیر معمولی بارشوں کی پیش گوئی کی ہے۔ حکام کے مطابق بالائی خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، مری، گلیات اور آزاد کشمیر کے کمزور اور پہاڑی علاقوں میں شدید بارشوں کے باعث لینڈ سلائیڈنگ اور مقامی ندی نالوں میں طوفانی سیلاب (فلیش فلڈنگ) کا شدید خطرہ موجود ہے۔
انتظامیہ نے مری اور گلیات جانے والے سیاحوں کو محتاط رہنے اور غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اس کے علاوہ تیز ہواؤں اور آسمانی بجلی کے باعث بجلی کے کھمبوں، بل بورڈز اور سولر پینلز کو نقصان پہنچنے کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے۔
پنجاب بھر میں ہائی الرٹ اور انتظامات
پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے آئندہ 24 گھنٹوں میں صوبے کے تقریباً تمام اضلاع میں مون سون بارشوں کی پیش گوئی کی ہے۔
پی ڈی ایم اے نے لاہور، راولپنڈی، سیالکوٹ، گوجرانوالہ، فیصل آباد، ملتان اور بہاولپور سمیت تمام اضلاع کے کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو ہنگامی اقدامات اٹھانے کے احکامات دیے ہیں۔
ریسکیو 1122 واسا اور دیگر بلدیاتی اداروں کو 24 گھنٹے الرٹ رہنے کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ کسی بھی ناگہانی صورتحال سے فوری نمٹا جا سکے۔
صوبائی اور ضلعی کنٹرول رومز صورتحال کی مسلسل نگرانی کر رہے ہیں اور نشیبی علاقوں سے پانی کی فوری نکاسی کو یقینی بنانے کے لیے ہیوی مشینری پہنچا دی گئی ہے۔
گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ریکارڈ کی گئی بارش اور درجہ حرارت
ملک کے مختلف حصوں میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران پہلے ہی بڑے پیمانے پر بارش ریکارڈ کی جا چکی ہے۔ سب سے زیادہ بارش کاکول میں 59 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی، جبکہ حافظ آباد میں 57 ملی میٹر، نارووال میں 41 ملی میٹر اور اسلام آباد کے علاقے سید پور میں 40 ملی میٹر بارش ہوئی۔
راولپنڈی، مری، لاہور، سیالکوٹ، گجرات اور شیخوپورہ میں بھی بادل جم کر برسے۔ دوسری جانب، ملک کے جنوبی حصے شدید گرمی کی لپیٹ میں رہے جہاں تربت 49 ڈگری سینٹی گریڈ کے ساتھ ملک کا گرم ترین مقام رہا، جبکہ دادو میں 46 اور سبی میں 45 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت ریکارڈ کیا گیا۔
مزید پڑھیں۔عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں نمایاں کمی



