Search
Close this search box.
پیر ,13 جولائی ,2026ء

وفاقی آئینی عدالت کا بڑا فیصلہ،مونال ریسٹورنٹ گرانےکافیصلہ کالعدم

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)وفاقی آئینی عدالت نےپیرسوہاوہ مونال ریسٹورنٹ گرانےکافیصلہ کالعدم قراردے دیا۔عدالت نےسی ڈی اے اور میٹروپولیٹن کارپوریشن کی اپیلیں منظور کرتے ہوئے حکم امتناعی بھی ختم کر دیا۔

آئینی عدالت کا کہنا تھا کہ ملکیت کافیصلہ ٹرائل کورٹس عدالتی ریمارکس سےمتاثرہوئےبغیرکریں گی، ٹرائل کورٹس کومقدمات کےجلد فیصلوں کی ہدایت کی گئی ہے، انتظامی معاملات کافیصلہ ریگولیٹری ادارےکرینگے۔

جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ سپریم کورٹ کےفیصلےمیں کئی نکات کومدنظرنہیں رکھا گیا، فیصلےمیں ایسی باتیں بھی لکھ دی گئیں جن کا مقدمےمیں ذکرنہیں تھا۔جذباتی نہیں، قانون کےمطابق فیصلہ کریں گے،فیصلےمیں غیرضروری باتیں شامل نہیں کریں گے۔

یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے 21 اگست 2024 کو مونال ریسٹورنٹ کو گرانے کا حکم دیا تھا۔سابق چیف جسثس قاضی فائز عیسیٰ نے فیصلہ سنایا تھا۔

واضح رہے اسلام آباد کے مونال ریسٹورنٹ کی انتظامیہ نے 9 ستمبر 2024 کو ریسٹورنٹ مکمل بند کرنے کا اعلان کیا تھا،سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ کے ذریعے مونال انتظامیہ نے ریسٹورنٹ کے مکمل بند ہونے کی تاریخ کا اعلان کیا۔ پوسٹ میں انتظامیہ نے کسٹمرز کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اب الوداع کہنے کا وقت ہے، جوکہ واقعی بہت مشکل ہے۔

انتظامیہ نے لکھا کہ ‘آپ کے اعتماد کے لیے اور ہمیں اپنی بہترین صلاحیتوں کے مطابق آپ کی خدمت کرنے کا موقع فراہم کرنے، ہمیں پہچان، تعریف اور آپ کے دل میں جگہ دینے کے لیے آپ کا بہت شکریہ۔’

سوشل میڈیا پوسٹ میں مزید کہا گیا تھا کہ ‘2006 کے بعد سے مونال کے لیے پاکستان اور اس کے خوبصورت لوگوں کی ایک مثبت انداز میں خدمت اور نمائش کرنا بے حد خوشی کی بات ہے۔ یہ سفر ہم سے وابستہ ٹیم کے لیے کامیابی کی کہانیوں اور جذبات سے بھرا ہوا تھا۔

مزید پڑھیں،فلور ملز مالکان کاآٹے کی قیمتوں میں کمی کا اعلان

یہ بھی پڑھیں