Search
Close this search box.
منگل ,23 جون ,2026ء

پاکستان کی سفارتی واپسی پر بھارت میںبےچینی

گزشتہ دنوں ٹائمز آف انڈیامیں سیماسیروہی کاایک کالم شائع ہواہےجس میں جنوبی ایشیامیں حالیہ سفارتی پیشرفت کے ایک ایسے مرحلے کی نشاندہی کی گئی ہےجہاں علاقائی طاقتوں کا روایتی توازن بدلتاہوامحسوس ہورہا ہےاور اس تبدیلی کا سب سے نمایاں پہلوپاکستان کی بڑھتی ہوئی سفارتی سرگرمیاں ہیں۔ اس صورتحال کو خطے کی سیاست میں ایک خاموش مگر اہم تبدیلی کےطور پر دیکھا جا رہا ہےجس کے اثرات صرف سفارتی حلقوں تک ہی محدود نہیں بلکہ بڑےسیاسی تاثرمیں بھی نمایاں ہو رہے ہیں۔
حالیہ عالمی ماحول غیریقینی صورتحال سے دوچار ہے۔امریکہ اورایران کےدرمیان کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے ۔ دونوں ممالک کےدرمیان کشیدگی نے مشرق وسطیٰ ہی نہیں بلکہ عالمی توانائی راستوں اور بین الاقوامی سلامتی کے نظام کو بھی متاثرکیا ہے۔ ایسے ماحول میں کسی چھوٹی پیش رفت کو بھی بڑی اہمیت حاصل ہو جاتی ہےکیونکہ ہر سفارتی اشارہ ممکنہ بحران کے رخ کوبدل سکتاہے۔اسی غیرمستحکم صورتحال میں پاکستان کا کردار نمایاں ہو کر سامنے آتا ہے۔خاص طورپرسیدعاصم منیرکی قیادت میں پاکستان نےسفارتی میدان میں ایک ایسی مختلف حکمت عملی اپنائی ہےجس میں روایتی بیانات اور رسمی سفارتکاری کے بجائےخاموش رابطے، غیر رسمی چینلز اوربیک چینل ڈپلومیسی کواختیارکیاگیا ۔ یہ طرزِ عمل کسی فوری ردعمل کانتیجہ نہیں بلکہ ایک مسلسل، منظم اور سوچے سمجھے سفارتی عمل کی صورت میں سامنے آیا ہےجس کا مقصد خطےمیں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو اس سطح تک جانے سے روکنا ہےجہاں سے واپسی ممکن نہ رہے۔
پاکستان نےامریکہ کے ساتھ اپنے بیک چینل روابط میں اس بات پرزوردیا کہ خطے میں کسی بھی بڑے عسکری تصادم کےنتائج صرف علاقائی نہیں رہیں گے بلکہ اس کے اثرات عالمی سطح پر بھی محسوس کیےجائیں گے۔اس مؤقف کوامریکہ کے سامنے جذباتی انداز کے بجائے عملی، اسٹریٹجک اور طویل المدتی نتائج کی بنیاد پر پیش کیاگیااور اس کا مقصد فیصلہ سازی کے عمل میں توازن پیدا کرنا اور ایسے اقدامات کی حوصلہ شکنی کرنا تھاجو خطے کو غیر مستحکم کرسکتے ہیں۔اسی طرح ایران کے ساتھ رابطے بھی مسلسل اور محتاط انداز میں جاری رہے۔ ان رابطوں کا بنیادی مقصد بڑھتی ہوئی غلط فہمیوں کو کم کرنا اور یہ واضح کرنا تھاکہ کسی بھی بڑے بحران کی صورت میں صورتحال کسی ایک ملک تک محدود نہیں رہے گی بلکہ پورےخطےکو متاثر کرےگی۔ یہ غیر رسمی سفارتی چینلز اس پورے عمل میں ایک اہم ستون کے طور پر کام کرتےرہے اورانہوں نے کشیدگی کو بڑھنے سے روکنے میں اہم کردار ادا کیا۔اس پورے سیناریو میں چین کاکردار ایک خاموش مگر مؤثر توازن کار کے طور پر سامنے آیا ہے۔ چین نے براہ راست مداخلت کےبجائے خطےمیں استحکام کوترجیح دی اور ایسے سفارتی ماحول کو فروغ دیاجس میں فریقین کے درمیان رابطے جاری رہ سکیں یعنی چین کی موجودگی نےخطےمیں ایک اضافی توازن فراہم کیا اور اس توازن نے مجموعی صورتحال کو کسی حد تک قابو میں رکھنے میں مدد دی۔ بیک چینل سفارتکاری اس پورے عمل کا سب سے اہم پہلو بن کرسامنے آئی ہے۔ پاکستان نے اس غیر رسمی نظام کے ذریعے مختلف فریقوں کے درمیان رابطے قائم رکھے، پیغامات کا تبادلہ ممکن بنایا اور غلط فہمیوں کو کم کرنے کی کوشش کی گئی۔ جدید سفار ت کاری میں یہ عنصر اب تیزی سے اہمیت اختیار کر رہا ہے کیونکہ اس کے اصل نتائج اکثر عوامی بیانات کے بجائے پس پردہ مذاکرات سے پیدا ہوتے ہیں۔ کالم کے مطابق خطہ ایک ایسے مرحلے تک پہنچ چکا تھا جہاں بڑے تصادم کے خطرے کو نظر انداز نہیں کیاجاسکتا تھاتاہم اسی دوران پاکستان کی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں ایک ایسا وقفہ پیدا ہوا جس نے فریقین کو وقتی طور پر پیچھے ہٹنے پر آمادہ کیا۔ اگرچہ یہ وقفہ کوئی مستقل حل کی حیثیت نہیں رکھتا لیکن اسے ایک اہم سفارتی پیش رفت کے طور پردیکھا جا رہا ہے کیونکہ اس نے بہرحال ممکنہ بحران کو وقتی طور پر روکنے میں کردار ادا کیا۔
پاکستان نے ایک علاقائی ریاست سےکہیں بڑھ کر ایک ایسے فریق کا کردار ادا کیا جو بڑی طاقتوں کے درمیان رابطہ کاری اور بحرانوں کے دوران سفارتی راستے نکالنےکا ہنر بجا طور پر رکھتا ہے۔ اس تبدیلی نے یقینی طور پر یہ بھی ثابت کردیا کہ پاکستان نے خطے میں ایک منفرد اور اہم حیثیت حاصل کرلی ہے جہاں وہ صرف ردعمل دینے والا ملک نہیں بلکہ توازن پیدا کرنے والا ایک فعال عنصر بھی ہےاور اس تبدیلی کا سب سے نمایاں اثر بھارت کے سیاسی اور پالیسی حلقوں میں دیکھا جا رہا ہے۔ وہاں یہ احساس بڑھ رہا ہے کہ خطے میں سفارتی اثر و رسوخ کا توازن اب پہلے جیسا نہیں رہا۔ پاکستان کی بڑھتی ہوئی سفارتی سرگرمیوں نے ایک ایسی کیفیت پیدا کی ہے جس نے بھارتی پالیسی حلقوں میں واضح بےچینی کو جنم دیا ہے۔ یہ بےچینی کسی ایک واقعے کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک وسیع تر اسٹریٹجک تبدیلی کا اظہار ہے جہاں پرانے سفارتی مفروضے نئی حقیقتوں کے سامنے کمزورپڑتے دکھائی دے رہے ہیں۔بھارت کے لیے یہ صورتحال اس لیے بھی اہم ہے کہ خطے میں سفارتی گفتگو کا مرکز آہستہ آہستہ تبدیل ہوتا محسوس ہو رہا ہے۔ پاکستان کی فعال سفارتکاری نے علاقائی سیاست میں جو نئی ہلچل پیدا کی ہے اس کے باعث خطے میں اثر و رسوخ کے روایتی ڈھانچے پر سوال اٹھنے لگے ہیں۔ ٹائمز آف انڈیا کا یہ کالم اس بات کی جانب واضح اشارہ ہے کہ جنوبی ایشیا میں سفارتکاری ایک نئے دور میں داخل ہو چکی ہے اور پاکستان کی ثالثی نے اس کاعالمی سطح پر قد کاٹھ بڑھایاہے ،پاکستان کاکردار پہلے کے مقابلے میں زیادہ فعال، مؤثر اور نمایاں ہو چکا ہےاوریہ تبدیلی مستقبل کے سفارتی توازن کو بھی نئی سمت دینے کی صلاحیت رکھتی ہے ۔ یہ ایک نہایت اہم پیش رفت ہے۔اس پیشرفت کا نتیجہ واضح ہےکہ جب ایک ازلی حریف آپ کی حیثیت، اثر اور مقام کو سنجیدگی سے لینے پر مجبور ہو جائے تو یہ محض ایک سفارتی کامیابی نہیں بلکہ ایک علامتی اعتراف بھی ہوتا ہے لہذا یہ کہنا ہرگزبےجا نہ ہوگا کہ موجودہ سفارتی منظرنامے میں پاکستان نے اپنی موجودگی کو جس انداز میں منوایا ہےوہ قابلِ توجہ اور قابلِ تحسین ہےاورہمیں یہ کہناچاہیےکہ ویل ڈن فیلڈ مارشل۔ ویل ڈن پاکستان۔

یہ بھی پڑھیں