افغانستان گزشتہ کئی دہائیوں سےجنگ، بدامنی اور ریاستی کمزوری کا شکار رہا ہےاور یہی صورتحال اب ایک سنگین علاقائی سلامتی کے مسئلے میں تبدیل ہوچکی ہے۔ زمینی حقائق اور سکیورٹی رپورٹس بارہا اس طرف اشارہ کرتی ہیں کہ افغان سرزمین ٹی ٹی پی ، داعش ، بی ایل اے اور بی ایل ایف جیسےمسلح اور دہشت گرد نیٹ ورکس کے لیے استعمال ہو رہی ہےجو پاکستان میں عدم استحکام اور دہشت گردی کا باعث بن رہے ہیں۔ پاکستان کے سکیورٹی اداروں کے مطابق بلوچستان کی علیحدگی پسند تنظیمیں بی ایل اے، بی ایل ایف اوریہ تمام دیگر نیٹ ورکس افغانستان کے اندر موجود محفوظ ٹھکانوں، مبینہ سرپرستی اور لاجسٹک سپورٹ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے پاکستان کے اندر دہشت گردی کی منصوبہ بندی اور کارروائیوں میں براہِ راست ملوث ہیں۔ یہ کوئی مبہم یاقیاسی بات نہیں بلکہ متعدد رپورٹس،گرفتاردہشت گردوں کے بیانات اور مختلف واقعات کی تحقیقات میں سامنے آنے والے شواہد کے ساتھ بارہا دہرایا جانے والا ایک سنجیدہ سکیورٹی خدشہ ہے۔ اس صورت حال نے یہ سوال مزید شدید کر دیا ہے کہ افغانستان کے اندر موجود کنٹرول کی کمزوری اور دہشت گرد عناصر کی موجودگی کس حد تک خطے میں تشدد کو فروغ دے رہی ہے اور اس کے نتائج صرف پاکستان نہیں بلکہ پورے خطے کے امن پر کس طرح اثر انداز ہو رہے ہیں۔
خطےکی سیاست میں بعض حقیقتیں بظاہر دھند میں لپٹی رہتی ہیں مگر ان کے اثرات زمین پر نہایت واضح اور تکلیف دہ صورت میں ظاہر ہوتے ہیں۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات بھی ایسی ہی حقیقتوں کی ایک کڑی ہیں جہاں سرحد محض جغرافیائی لکیر نہیں بلکہ مفادات، بیانیوں اور غیرمرئی جنگوں کا میدان بن چکی ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں ایک اہم سوال بار بار ابھرا ہے کہ افغانستان اپنی سرزمین سے دہشت گرد نیٹ ورکس کے خاتمے کے لئے سنجیدہ اقدامات کیوں نہیں اٹھا رہا اورافغان رجیم انکی سرپرستی ختم کرنے کے لئےکیوں تیارنہیں؟ یہ امر کسی سے پوشیدہ نہیں کہ طویل عرصے تکجنگ اور عدم استحکام کےشکار افغانستان میں ریاستی رٹ کمزور ہوئی ہےاور مختلف مسلح دہشت گرد گروہوں کے لیے اس صورتحال نےجگہ بھی پیدا کی ہے۔ اوربی ایل اے، بی ایل ایف اور بی وائے سی جیسے دہشت گرد گروہ پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں کے مرتکب اور شواہد کے مطابق ان کارروائیوں کےبراہ راست ذمہ دار ہیں۔ان بلوچ علیحدگی پسند تنظیموں کے بارے میں یہ یقین کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ وہ سرحد پار افغان سرزمین پر محفوظ ٹھکانوں،تربیتی مراکز اور لاجسٹک سہولتوں سے فائدہ اٹھا رہی ہیں۔
ایسی تنظیمیں اور گروہ عام طور پر تین سطحوں پر کام کرتے ہیں،نظریاتی تیاری، عملی تربیت اور پھر کارروائی۔ نظریاتی سطح پر نوجوانوں کو قائل کیا جاتا ہے کہ وہ ایک مخصوص بیانیے کو قبول کریں جس میں محرومی، ناانصافی اور مزاحمت جیسے تصورات کو ابھاراجاتا ہے پھر انہیں عملی تربیت دی جاتی ہے جس میں ہتھیاروں کا استعمال، خفیہ رابطے اور کارروائی کی منصوبہ بندی شامل ہوتی ہے۔ آخرکار انہیں دہشت گردی کے لیے میدان میں اتاراجاتا ہے جہاں وہ حملوں یا دیگر سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں۔اس پورے عمل میں جو پہلو سب سے زیادہ تشویشناک ہے وہ خودکش حملوں کے لیے خواتین کا بڑھتا ہوا استعمال ہے۔ روایتی طور پر بلوچ معاشرہ خواتین کے لیے ایک خاص احترام اور تحفظ کا حامل رہا ہے مگر حالیہ برسوں میں اس روایت کو چیلنج کیا گیا ہے۔ بی وائے سی، بی ایل اے اور بی ایل ایف جیسی دہشت گرد تنظیمیں خواتین کو نہ صرف نظریاتی طور پر متاثر کرتی ہیں بلکہ انہیں عملی کارروائیوں حتیٰ کہ خودکش حملوں تک کے لیے تیار کیا جاتا ہے۔ یہ رجحان اخلاقی طور پرہی قابلِ مذمت نہیں بلکہ سماجی ڈھانچے کے لیے بھی ایک بڑاخطرہ ہے۔خواتین کے استعمال کی حکمتِ عملی کثیر الجہتی ہوتی ہے۔ پہلے انہیں ذہنی طور پر اس نہج پر لایاجاتا ہے جہاں وہ اپنی ذاتی شناخت کو ایک بڑے مقصد کے تابع کر دیتی ہیں۔ اس کے بعد انہیں تربیت دی جاتی ہے اور ایسے حالات پیدا کیے جاتے ہیں جہاں واپسی کا راستہ تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔ اگر کوئی خاتون کارروائی میں کامیاب ہو جائے تو اسے ایک علامت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے جبکہ ناکامی یا گرفتاری کی صورت میں ذمہ داری سے انکار کردیاجاتا ہے۔ اس طرح ایک طرف یہ دہشت گرد تنظیمیں اپنے بیانیے کو تقویت دیتی ہیں اور دوسری طرف انسانی جانوں کو محض ایک ذریعہ بنا دیتی ہے۔افغانستان کی سرزمین کے حوالے سے مزید سوال یہ ہے کہ وہاں موجود حالات کس طرح ان سرگرمیوں کو ممکن بناتے ہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی کمزور ریاستی ڈھانچے میں غیر ریاستی عناصر کے لیےجگہ بن جاتی ہے۔ اگر سرحدی نگرانی کمزور ہو، ادارے محدود وسائل کے حامل ہوں ،سیاسی ترجیحات غیر مؤثر ہوں اور ریاستی سرپرستی حاصل ہو تو ایسے گروہ بآسانی اپنے نیٹ ورک قائم کر لیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ خطے میں باہمی تعاون، انٹیلی جنس شیئرنگ اور اعتماد سازی کی اشد ضرورت محسوس کی جاتی رہی ہے۔ پاکستان بارہا یہ مؤقف پیش کر چکا ہے کہ اس کی سرزمین کے خلاف استعمال ہونے والے نیٹ ورکس کو ختم کرنے کے لیے علاقائی سطح پر مشترکہ اقدامات ضروری ہیں۔ اس ضمن میں افغانستان کے ساتھ بات چیت اور تعاون کو کلیدی حیثیت حاصل ہے تاہم اس عمل میں کامیابی کے لیے دونوں ممالک کو ایک دوسرے کے خدشات کو سنجیدگی سے لینااور عملی اقدامات کی طرف بڑھنا ضروری ہےجبکہ اسی تناظر میں دونوں ممالک ایک مختصر جنگ سے بھی دوچار ہوچکے ہیں۔
اس ساری بحث کا سب سے دلگداز پہلو وہ انسانی کہانیاں ہیں جو اس کے پس منظر میں چھپی ہیں۔ وہ خواتین جو کسی نہ کسی طرح اس جال میں پھنس جاتی ہیں، وہ صرف ایک ’’کیس‘‘ یا ’’خبر‘‘ نہیں بلکہ زندہ انسان ہیں جن کے کچھ خواب ہیں، کچھ رشتے اور کوئی مستقبل ہے۔ دہشت گردی میں ان کا استعمال ایک بڑے اخلاقی بحران کی نشاندہی ہے۔اسی تناظر میں لاپتہ افراد کا بیانیہ بھی ایک حساس اور متنازع پہلو ہے۔ بعض حلقوں خصوصاً کچھ غیر سرکاری تنظیموں (این جی اوز) کی جانب سے اس مسئلے کو بھرپور انداز میں اٹھایاجاتا ہے۔ تاہم سچ تو یہ ہے کہ ایسے شواہد اور رپورٹس سامنے آچکی ہیں جن میں مبینہ لاپتہ افراد کبھی کارروائیوں کے دوران اور کبھی گرفتاری کے بعد سامنے آنے والے بیانات میں دہشت گردی کی سرگرمیوں میں باقاعدہ ملوث پائے گئے ہیں۔ حریمہ کیس کو ہی لےلیجیےجس کا ویڈیو بیان حال ہی میں منظر عام پرآیا ہےاور اسے دہشت گردی تک پہچانےمیں خود اس کا شوہرملوث پایا گیا ہے۔اگر دیکھا جائے تو دہشت گردی کسی ایک ملک یاخطے کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک مشترکہ چیلنج ہے۔ اگر افغانستان کی سرزمین ایسے عناصر کے لیے استعمال ہو رہی ہے اور یقیناً ہو رہی ہے تو اس کا حل بھی مشترکہ کاوشوں میں ہی پوشیدہ ہے۔ بصورت دیگر یہ سائے سرحدوں کو عبور کرتے رہیں گے اور ان کی زد میں آنے والے بےگناہ لوگ ہی ہوں گے جو دہشت گرد گروہوں کے ہاتھوں ذہنی اورجسمانی طور پر یرغمال بنتے رہیں گےیا وہ چند این جی اوزجو اپنے مفادات کی خاطریا بیرونی ایجنڈےکی تکمیل کے لئے لاپتہ افراد کا راگ الاپتی رہیں گی۔