وطن کی مٹی سے اٹھنے والی خوشبو انسان کے وجود میں اس طرح بس جاتی ہے جیسے ماں کی لوری بچے کے لاشعور میں ہمیشہ کے لیے محفوظ ہو جاتی ہے۔ یہی مٹی ہماری شناخت ہے، یہی ہماری پہچان ہے اور یہی وہ رشتہ ہے جو ہمیں ایک دوسرے سے جوڑتا ہےمگر عجیب المیہ ہے کہ آج اسی مٹی کی محبت پر سوال اٹھ رہے ہیں، اسی وطن کے وقار کو مجروح کرنے والی آوازیں بلند ہو رہی ہیں اور ایک ایسی بھیڑچال نے جنم لے لیا ہےجس میں سوچنے، پرکھنے اور سچ کو سمجھنے کی صلاحیت جیسے چھن گئی ہو۔ یہ وہ وقت ہے جب ریاست کو اپنے شہریوں کی اور شہریوں کو ریاست کے سائے کی ضرورت ہے۔ جب قومیں بکھرتی ہیں تو دشمن کو تیرچلانے کی بھی زحمت نہیں اٹھانی پڑتی کیونکہ دیواریں اندر سے کھوکھلی ہو جائیں تو ایک ہلکی سی دستک ہی انہیں گرا دیتی ہےمگر افسوس کہ اس نازک گھڑی میں کچھ حلقے ایسے بھی ہیں جو سوشل میڈیا کے میدان میں اپنے ہی وطن کے خلاف صف آرا دکھائی دے رہے ہیں۔ لفظوں کی بارود بھری بندوقیں چلائی جا رہی ہیں، بیانیے تراشے جا رہے ہیں اور حقیقت کو مسخ کر کے پیش کرنا گویا ایک فیشن بنتاجا رہا ہے۔یہ سچ ہے کہ اختلاف رائے کسی بھی مہذب معاشرے کی روح ہوتی ہے۔ اختلاف سے فکر کے در وا ہوتے ہیں، مکالمہ جنم لیتا ہے اور اصلاح کی راہیں ہموار ہوتی ہیں مگر جب اختلاف، عناد میں بدل جائے، جب تنقید، تضحیک کا روپ دھار لے اور جب سوال اٹھانے کا انداز ہی وطن دشمنی کے رنگ میں رنگا جائے تو پھر یہ اختلاف نہیں رہتا بلکہ اپنے ہی گھر کی دیواروں میں دراڑیں ڈالنے کے مترادف ہو جاتا ہے۔ اپنے پاؤں پر آپ کلہاڑی مارنا کہاں کی عقل مندی ہے۔
ملک دہشت گردی کے خلاف ایک کٹھن جنگ سے گزر رہا ہے۔ روز کہیں نہ کہیں دھماکوں کی گونج سنائی دیتی ہے، کہیں کسی گھر کا چراغ گل ہو جاتا ہے، کہیں کسی ماں کی گود اجڑ جاتی ہے اور کہیں کسی بچے کے سرکا سایہ اٹھ جاتا ہے۔ جنازے اٹھتے ہیں، پرچم میں لپٹے تابوت قوم کے ضمیر کو جھنجھوڑتے ہیں اورفضا میں ایک خاموش سوال تیرتا رہتا ہے کہ آخر کب تک؟ ایسے میں اس سے زیادہ تکلیف دہ منظر کیا ہو سکتا ہے کہ جب وطن کے سپوت اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر رہے ہوں، کچھ دل ایسے بھی ہوں جو ان قربانیوں کی حرمت کو محسوس کرنے کے بجائے الفاظ کی ننگی تلواروں سے کھیل رہے ہوں۔ یہ وہ طرزِعمل ہےجس کے حق میں کوئی جواز پیش نہیں کیاجاسکتا۔ یہ بڑی بےحسی ہے اور یہی بےحسی آج سوشل میڈیا کی گلیوں میں ناچتی دکھائی دیتی ہے۔ سوشل میڈیااظہار کا ایک طاقتور ذریعہ ہے۔ یہ پلیٹ فارم شعور بیدار کر سکتا ہے،حقائق سامنے لاسکتا ہے اور مثبت تبدیلی کا پیش خیمہ بن سکتا ہےمگر یہی پلیٹ فارم جب بےبنیاد خبروں، منفی پروپیگنڈے اور اشتعال انگیزی کا ہتھیار بن جائے تو پھر یہ روشنی نہیں، دھند بن جاتا ہے۔ دھند میں راستے نظر نہیں آتے اور جب راستہ نہ دکھائی دے تو قافلے بھٹک جاتے ہیں۔ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ریاست اور عوام ایک دوسرے کےحریف نہیں بلکہ ایک ہی جسم کے دو بازو ہیں۔ بازو ایک دوسرے سے برسرپیکار ہوں تو جسم کمزور ہو جاتا ہے۔ دشمن کی سب سے بڑی کامیابی یہی ہوتی ہے کہ وہ قوم کے اندر شکوک و شبہات کے بیج بو دے۔ جب اعتماد کی فصل جل جائے تو امن کے سائے خود بخود چھن جاتے ہیں۔یہ وقت جذباتی نعروں کا نہیں، سنجیدہ غور و فکر کا ہے۔ ہمیں اپنے الفاظ کی دھار کو سمجھنا ہوگا۔ زبان کا زخم تلوار کے زخم سے گہرا ہوتا ہے کیونکہ تلوار جسم کو کاٹتی ہے اور لفظ روح کو زخمی کر دیتے ہیں۔ ہمیں سوچنا ہوگا کہ جو بات ہم لکھ رہے ہیں، جو تبصرہ ہم شیئر کر رہے ہیں، کیا وہ کسی ماں کے دکھ کو بڑھا تو نہیں رہا؟ کیا وہ کسی شہید کے لہو کی حرمت کو مجروح تو نہیں کر رہا؟ کیا وہ ہمارے اجتماعی وقار پر سوالیہ نشان تو نہیں لگا رہا؟
قومیں مشکل وقت میں اپنی صفیں درست کرتی ہیں۔ وہ اختلافات کو پس پشت ڈال کر ایک پرچم تلے جمع ہو جاتی ہیں۔ یہی اتحاد انہیں ناقابلِ تسخیر بناتا ہے۔ اگر ہم نے اس وقت بھیڑچال کا حصہ بن کر بغیر سوچے سمجھےہر آواز کے پیچھے چلنا شروع کر دیا تو ہم اپنی اجتماعی بصیرت کھو بیٹھیں گے۔ بھیڑچال کا انجام ہمیشہ کھائی ہوتا ہے جبکہ شعور کا راستہ منزل تک لے جاتا ہے۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ وطن صرف زمین کا ٹکڑا نہیں ہوتا، یہ قربانیوں، خوابوں اور امیدوں کا مجموعہ ہوتا ہے۔ اس کے دفاع میں دی جانے والی جانیں محض اعداد و شمار نہیں ہوتیں بلکہ زندہ داستانیں ہوتی ہیں۔ ان داستانوں کا احترام ہم پر فرض ہے۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ذمہ دار شہری ہونے کا ثبوت دیں۔ اختلاف کریں مگر شائستگی کے ساتھ، سوال اٹھائیں مگر انصاف کے ساتھ، تنقید کریں مگر دیانت کے ساتھ۔ ہمیں نفرت کے بیج بونے کے بجائے امید کے چراغ جلانے ہوں گے۔ ہمیں تقسیم کے بیانیے کے بجائے اتحاد کی زبان اپنانی ہوگی۔وقت کا تقاضا ہے کہ ہم اپنی صفوں میں دراڑیں ڈالنے والوں کے ہاتھ مضبوط کرنے کے بجائے اپنے حصے کی اینٹ دیوارِ وطن میں جوڑ دیں۔ ہمیں یہ عہد کرنا ہوگا کہ ہم سچ کے ساتھ کھڑے ہوں گے، امن کے ساتھ کھڑے ہوں گے اور اپنے وطن کے وقار کے ساتھ کھڑے ہوں گےکیونکہ جب قومیں اپنے شہیدوں کے لہو کی لاج رکھتی ہیں تو تاریخ انہیں سرخرو کرتی ہے اور جب قومیں خود اپنے ہی وقار پر سوال اٹھانے لگیں تو تاریخ انہیں عبرت کا نشان بنا دیتی ہے۔آئیے اس شورِ بےسمت میں ذمہ داری کی صدا بنیں۔ بھیڑچال کے اندھیرے میں شعور کی شمع جلائیں اور اس دھرتی کے ساتھ کھڑے ہو جائیں جس نے ہمیں پہچان دی، عزت دی اور جینے کا حوصلہ دیا۔ یہی وقت کا تقاضا ہے، یہی حب الوطنی کا تقاضا ہے اور یہی انسانیت کا تقاضا ہے۔
ہمیں یہ سمجھ لینا چاہیے کہ وطن کو اپنی لپیٹ میں لینے والی آگ صرف وہ نہیں جو سرحدوں کے اُس پار سے بارود کی بو، چیختی گولیوں اور ماتم زدہ شاموں کے ساتھ در آتی ہے اور گھروں کے چراغ بجھا دیتی ہے۔ وہ آگ دکھائی دیتی ہے۔ اس کے شعلے آسمان کو چھوتے ہیں اور اس کے زخم تاریخ کے سینے پر ثبت ہو جاتے ہیں مگر ایک آگ اور بھی ہے بے صدا، بےرنگ مگر نہایت سفاک، جو اندر ہی اندر سلگتی رہتی ہے۔ یہ آگ لفظوں کے زہر، گمراہ کن بیانیوں اور سوشل میڈیا کے شوریدہ قافلوں میں پرورش پاتی ہے۔ نوجوان نسل کی اکثریت اس دھرتی کی امید، اس کے فردا کی روشنی اور اس کے وقار کی پاسبان ہے، لیکن ایک محدود اور فکری انتشار کا شکار طبقہ نادانستہ اغیار کے بیانیوں کا ایندھن بن رہا ہے۔ یہ وہ ہاتھ نہیں جو بارود اٹھاتے، یہ وہ انگلیاں ہیں جو اسکرینوں پر ایسے الفاظ رقم کر دیتی ہیں جو اعتماد کی بنیادوں میں دراڑیں ڈال دیتے ہیں۔ دشمن کی گولی جسم کو زخمی کرتی ہے مگر زہریلا بیانیہ قوم کی روح کو کمزور کر دیتا ہے۔تاہم امید کی شمع ابھی بجھی نہیں ہے۔ اسی نوجوان نسل میں وہ شعور بھی موجود ہےجو دھند کو چیر سکتا ہے، وہ بصیرت بھی ہے جو سچ کو جھوٹ سے الگ کر سکتی ہے اور وہ قوت بھی ہے جو نفرت کے شور کو خاموش کر سکتی ہے۔ اگر آگہی کو رہنما بنایا جائے، ذمہ داری کو شعار اور حب وطن کو محور، تو یہی نسل اس اندرونی سلگن کو ٹھنڈی روشنی میں بدل سکتی ہے۔ جب لفظ مرہم بن جائیں، جب قلم تعمیر کا وسیلہ بن جائے اور جب سچائی اجتماعی شعور کا حصہ بن جائے تو نہ باہر کی آگ ہمیں جلا سکتی ہے اور نہ اندر کی سلگن ہمیں توڑ سکتی ہے۔ یہی امید ہمارا حوصلہ ہے، یہی شعور ہماری طاقت اور یہی اتحاد ہمارے مستقبل کی ضمانت ہے۔