Search
Close this search box.
اتوار ,21 جون ,2026ء

ایران پر امریکی۔اسرائیلی حملے اور پاکستان کی تزویراتی آزمائش

تہران کی فضاؤں میں دھویں، غم اور اضطراب کا عالم چھایا ہوا ہے اور خطے کا سیاسی منظر نامہ ایک ایسےلمحے میں تبدیل ہو چکا ہے جس میں ہر اقدام، ہر ردعمل اور ہر بیان کے اثرات دور رس اور غیر متوقع ہیں۔دوسری جانب طاقت کی بساط پر مہروں کی ازسرِ نو ترتیب اور عالمی سیاست کے ایوانوں کی سرگوشیاں اب کھلے بیانات کی صورت اختیار کرتی سنائی دےرہی ہیں۔ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حالیہ مشترکہ حملوں اور اس کے نتیجے میں ایرانی قیادت کے خلاف پیش آنے والے سانحے نے مشرقِ وسطیٰ کو سنگین صورتحال سے دوچار کردیا ہے ۔ خطے کی سیاست میں اس نوع کی کشیدگی اگرچہ کوئی غیرمعمولی امر نہیں لیکن جب ریاستی طاقتیں براہ راست آمنے سامنے آجائیں اور عسکری جوابی کارروائیاں میزائلوں اور فضائی حملوں کی شکل اختیار کر لیں تو معاملہ محض سفارتی بیان بازی کا نہیں رہتا بلکہ عالمی استحکام کے سوال میں بدل جاتا ہے ۔ ایران کی سرزمین پر ہونے والی حالیہ بمباری اور اس کے ردعمل میں ایرانی حکومت کی جانب سے شدید جوابی کارروائیوں نے پورے خطے کو اضطرابی کیفیت میں مبتلا کر دیا ہے۔ آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت جیسےسانحہ کے مضمرات محض ایک ریاست تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی طاقتوں کے مابین توازنِ قوت کو بھی متاثر کر سکتے ہیں۔ ایران مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں محض ایک جغرافیائی اکائی نہیں بلکہ ایک تہذیبی، نظریاتی اور تزویراتی حقیقت ہے۔ دوسری جانب امریکہ اور اسرائیل کے لیے ایران کی عسکری و جوہری پیش رفت ہمیشہ باعث تشویش رہی ہےاور یہی باہمی بدگمانی وقتاً فوقتاً ایسے بیانیے کو جنم دیتی ہے جس میں پیشگی حملوں، دفاعی حکمت عملیوں اور علاقائی اتحادوں کا ذکر نمایاں ہو جاتا ہے۔ اگر یہ کشیدگی کھلے تصادم میں ڈھل جائے تو خلیج فارس کی بندرگاہوں سے لے کر بحیرۂ روم کے ساحلوں تک ایک نئی صف بندی کا آغاز ہو سکتا ہے۔ایسے ہنگامہ خیز ماحول میں سوال یہ نہیں کہ کون حق بجانب ہے اور کون موردِ الزام، اصل سوال یہ ہے کہ اس بھونچال کے جھٹکے کن ممالک کو کس انداز میں متاثر کریں گے۔ اسی تناظر میں پاکستان کی صورت حال نہایت اہم ہو جاتی ہے۔ پاکستان ایک ایسا ملک ہے جس کے مفادات مشرقِ وسطیٰ کی معیشت، توانائی کی رسد، افرادی قوت کی منتقلی اور سفارتی توازن سے گہرے طور پر وابستہ ہیں۔ وہ نہ صرف جغرافیائی اعتبار سے ایک پُل کی حیثیت رکھتا ہے بلکہ سیاسی طور پر بھی مختلف طاقتوں کے مابین توازن برقرار رکھنے کی سعی کرتا آیا ہے۔اگر خطے میں عسکری تصادم شدت اختیار کرتا ہے تو سب سے پہلا اثر توانائی کی عالمی منڈیوں پر پڑے گا۔ تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ، رسد کے راستوں میں رکاوٹ اور بحری گزرگاہوں کی سلامتی پر سوالیہ نشان پاکستان جیسی ابھرتی ہوئی معیشت کے لیے کٹھن آزمائش ثابت ہو سکتے ہیں۔ ملکی زرمبادلہ کے ذخائر، صنعتی پیداوار اور عوامی سطح پر مہنگائی کی لہر ایک نئے دباؤ کو جنم دے سکتی ہے۔ یوں خارجہ پالیسی کا بحران داخلی معاشی استحکام سے جا ٹکراتا ہے۔مزید برآں مشرقِ وسطیٰ میں مقیم لاکھوں پاکستانی محنت کش بھی ایک حساس پہلو ہیں۔ خلیجی ریاستوں میں ان کی موجودگی نہ صرف ان ممالک کی معیشت میں کردار ادا کرتی ہے بلکہ پاکستان کے لیے ترسیلات زر کا اہم ذریعہ بھی ہے۔ پاکستان کے تعلقات یو اے ای، قطر، سعودی عرب اور بحرین جیسے ممالک کے ساتھ تاریخی، معاشی اور دفاعی بنیادوں پر استوار ہیں۔ اگر ایران اور ان ریاستوں کے مابین تناؤ بڑھتا ہے تو پاکستان کو نہایت باریک بینی سے سفارتی راستہ اختیار کرنا ہوگا تاکہ کسی ایک جانب جھکاؤ کا تاثر پیدا نہ ہو۔ خارجہ پالیسی میں معمولی سی لغزش بھی طویل المدتی تعلقات کو متاثر کر سکتی ہے۔ پاکستان نے ماضی میں مشکل ترین عالمی صف بندیوں کے دوران اعتدال کی راہ اپنانے کی کوشش کی ہے۔ سرد جنگ کے ادوار سے لے کر دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ تک، اسلام آباد کو بارہا ایسے فیصلے کرنے پڑے جن میں داخلی سلامتی اور خارجی دباؤ کے درمیان توازن قائم رکھنا آسان نہ تھا۔ موجودہ منظرنامہ بھی اسی نوعیت کا امتحان بن سکتا ہے۔ اگر ایران میں قیادت کی سطح پر کوئی بڑی تبدیلی واقع ہوتی ہے یا خاکم بدہن خطہ کسی وسیع تصادم کی لپیٹ میں آتا ہے تو پاکستان کے لیے سب سے موزوں حکمت عملی یہی ہوگی کہ وہ سفارتی مکالمے، غیر جانب دارانہ مؤقف اور علاقائی امن کی وکالت کو اپنا طرۂ امتیاز بنائے۔
یہ امر بھی پیشِ نظر رہنا چاہیے کہ خطے میں عدم استحکام کا فائدہ ہمیشہ غیر ریاستی عناصر اٹھاتے ہیں۔ جب ریاستیں ایک دوسرے کے مقابل صف آرا ہوتی ہیں تو سرحدی علاقوں میں بدامنی، اسمگلنگ اور شدت پسند تنظیموں کی فعالیت میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ پاکستان کی مشرقی سرحد پہلے ہی حساس رہی ہے لہٰذا کسی بھی بڑے علاقائی بحران کی صورت میں داخلی سلامتی کے تقاضے مزید سخت اور پیچیدہ ہو جائیں گے۔ عسکری تیاری کے ساتھ ساتھ فکری و سماجی ہم آہنگی کو برقرار رکھنا بھی ناگزیر ہوگا تاکہ بیرونی کشیدگی داخلی انتشار کا سبب نہ بن سکے۔ سفارتی سطح پر پاکستان ایک پل کا کردار ادا کر سکتا ہے۔ اس کے ایران کے ساتھ سرحدی اور تجارتی روابط موجود ہیں جبکہ خلیجی ممالک کے ساتھ دفاعی تعاون اور معاشی شراکت داری بھی مضبوط ہے۔ اگر دانش مندی سے کام لیا جائے تو پاکستان محاذ آرائی کے بجائے مفاہمت کا پیغام رساں بن سکتا ہے۔ عالمی برادری میں ایسے ممالک کی ضرورت ہمیشہ رہتی ہے جو تصادم کے بجائے مکالمے کی راہ دکھائیں۔ تاہم اس کردار کے لیے داخلی استحکام، معاشی خود انحصاری اور سیاسی ہم آہنگی بنیادی شرائط ہیں۔ یہ حقیقت فراموش نہیں کی جا سکتی کہ مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں جذباتیت کے بجائے مفاداتی حقیقت پسندی کارفرما رہتی ہے۔ ریاستیں اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے اتحاد بھی بناتی ہیں اور توڑتی بھی ہیں۔پاکستان کے لیے دانشمندی اسی میں ہے کہ وہ وقتی دباؤ یا جذباتی وابستگیوں کے بجائے طویل المدتی قومی مفاد کو مقدم رکھے۔ خطے میں اگر قیادتوں کی تبدیلی، عسکری مہم جوئی یا سفارتی محاذ آرائی کی نئی لہر اٹھتی ہے تو پاکستان کو اپنے قدم پھونک پھونک کر رکھنے ہوں گے۔یہ عہد آزمائش کا ہے مگر ہر آزمائش اپنے اندر امکان کی کرن بھی رکھتی ہے۔ اگر پاکستان توازن، تدبر اور تحمل کی پالیسی اپناتا ہے تو وہ نہ صرف اپنے مفادات کا تحفظ کر سکتا ہے بلکہ خطے میں امن و استحکام کے لیے ایک باوقار اور مثبت کردار بھی ادا کر سکتا ہے۔ پاکستان کے لیے اصل امتحان یہ ہے کہ وہ کشیدگی کی لہروں میں اپنے قومی مفاد، اقتصادی استحکام اور خطے کے امن کے لیے متوازن، محتاط اور سنجیدہ کردار ادا کرے

یہ بھی پڑھیں