دہشت گردی کے خاتمے کی نئی حکمت عملی
پاکستان داخلی سلامتی کے جس امتحان سے گزر رہا ہے اس کا نتیجہ ملک کے مستقبل کی سمت متعین کرے گا کیونکہ داخلی سلامتی اب محض سکیورٹی کا مسئلہ نہیں رہی بلکہ ریاستی استحکام، معاشرتی ہم آہنگی اور قومی مستقبل
پاکستان داخلی سلامتی کے جس امتحان سے گزر رہا ہے اس کا نتیجہ ملک کے مستقبل کی سمت متعین کرے گا کیونکہ داخلی سلامتی اب محض سکیورٹی کا مسئلہ نہیں رہی بلکہ ریاستی استحکام، معاشرتی ہم آہنگی اور قومی مستقبل
افغان طالبان کےاقتدار کی باگ ڈور سنبھالنے کے بعد توقع کی جا رہی تھی کہ چار دہائیوں سے شورش اور بیرونی مداخلت کا شکار یہ ملک بتدریج استحکام کی راہ اختیار کرے گا۔ طالبان قیادت نے عالمی برادری کو یقین
پاکستان اور خطے کے امن کے لیے سب سے بڑا خطرہ اب صرف روایتی عسکری تنازعات نہیں بلکہ دہشت گردی کی تبدیل شدہ اور مربوط حکمت عملی ہے، جس میں کم لاگت کے حملے ،زیادہ خوف اور عدم استحکام پیدا
جنوبی ایشیا کی سیاست میں کبھی کبھار ایسے موڑ آتے ہیں جو دہائیوں پرانے تعصبات کو ایک لمحے میں دھندلا دیتے ہیں۔ آج ہم بالکل ایسے ہی ایک تاریخی موڑ پر کھڑے ہیں۔ پندرہ برس تک شیخ حسینہ واجد کی
بنگلہ دیش پوسٹ میں 23 نومبر کو سامر بہاریچ اور ایمینا زولیتیج کا ایک آرٹیکل پبلش ہوا ہے جس میں بوسنیا میں ہونے والی نسل کشی کے ماہرین کی غزہ کی نسل کشی پرخاموشی کو تنقیدکا نشانہ بناتے ہوئے انہوں
دنیا ایک ایسے عہد سے گزر رہی ہےجہاں طاقت کا توازن اور انسانی قدریں ایک دوسرے کے خلاف صف آرا دکھائی دیتے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ جو کبھی تہذیبوں کا گہوارہ تھا، اب جنگ انتقام اور غیر یقینی کا استعارہ بن
گزشتہ دو برسوں سے مشرقِ وسطیٰ ایک مسلسل جنگی کیفیت میں ہے جہاں طاقت، سیاست اور انسانی بقا کے درمیان لکیر دھندلا چکی ہے۔ غزہ کی تباہی، فلسطینی عوام کی اذیت ناک حالت، اسرائیلی معاشرت کی داخلی بے چینی اور
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری مدت صدارت کے چھ ماہ مکمل ہو چکے ہیں اور اس عرصے میں مشرقِ وسطیٰ کے حوالے سے ان کی حکمت عملی نے جہاں وقتی سنسنی پیدا کی، وہیں خطے میں دیرپا استحکام کے
جمال عبدالناصر۔۔۔ ایک ایسا نام جو عرب سیاست میں آج بھی گونجتاہے، جیسے وقت کے ساتھ مدھم ہونے کے بجائے اور زیادہ واضح ہوتا جا رہا ہو۔ وہ ایک ایسے لیڈر تھے جنہوں نے مصر کے عوام کو آزادی کی
بھارت نے 2019 میں پاکستان کے ساتھ جھڑپ کے بعد فوجی جدیدکاری کی رفتار تیز کر دی ہے، لیکن نئے ہتھیاروں اور دفاعی شراکت داریوں کے باوجود ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں بھارتی