ٹرمپ کی مشرقِ وسطیٰ پالیسی: دباؤ، تضاد اور غیریقینی کی فضا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری مدت صدارت کے چھ ماہ مکمل ہو چکے ہیں اور اس عرصے میں مشرقِ وسطیٰ کے حوالے سے ان کی حکمت عملی نے جہاں وقتی سنسنی پیدا کی، وہیں خطے میں دیرپا استحکام کے
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری مدت صدارت کے چھ ماہ مکمل ہو چکے ہیں اور اس عرصے میں مشرقِ وسطیٰ کے حوالے سے ان کی حکمت عملی نے جہاں وقتی سنسنی پیدا کی، وہیں خطے میں دیرپا استحکام کے
جمال عبدالناصر۔۔۔ ایک ایسا نام جو عرب سیاست میں آج بھی گونجتاہے، جیسے وقت کے ساتھ مدھم ہونے کے بجائے اور زیادہ واضح ہوتا جا رہا ہو۔ وہ ایک ایسے لیڈر تھے جنہوں نے مصر کے عوام کو آزادی کی
بھارت نے 2019 میں پاکستان کے ساتھ جھڑپ کے بعد فوجی جدیدکاری کی رفتار تیز کر دی ہے، لیکن نئے ہتھیاروں اور دفاعی شراکت داریوں کے باوجود ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں بھارتی
دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے صدر جب اپنے فیصلے کسی اصول، منصوبہ بندی یا عالمی تدبر کے بجائے ذاتی جبلت اور فوری مفادات کی بنیاد پر کرنے لگیں، تو اس کے اثرات صرف قومی نہیں، بلکہ بین الاقوامی
محترم وزیر اعظم،یہ کسی سیاسی جماعت کا منشور نہیں، بلکہ ایک انسان کی پکار ہے۔یہ ایک قوم کی فریاد نہیں، بلکہ ان دریاؤں کے گواہ کی صدا ہے،جو پلوں پر یقین رکھتا ہے، دیواروں پر نہیں۔23 اپریل 2025 کو، ہندوستان
(گزشتہ سے پیوستہ) گویا کربی کو مخاطب کر رہے ہیں یا بےگھر ہونے کے انتھک چکروں کے پیچھے موجود قوتوں کو جواب دے رہے ہیں جنہوں نے ہمارے لوگوں کو نسلوں سے ستایا ہے۔ میرے والد اکثر 1948 میں اپنے
ایسا دکھائی دیتا ہے کہ نہ اسرائیل اور نہ ہی امریکہ ہمیں، غزہ کے لوگوں کو امن کے ساتھ چھوڑنے پر تیار ہیں۔ یہاں تک کہ اسرائیلی استعماری قبضے کے ذریعے ہونے والی نسل کشی کی جنگ میں ایک نازک
واضح رہے کہ فلسطینیوں کی جبری نقل مکانی کوئی نیا خیال نہیں ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی غزہ کی ’’طویل مدتی ملکیت‘‘ لینے،’’گندگی‘‘ کو’’پاک کرنے‘‘ اور اسے’’مشرق وسطیٰ کے رویرا‘‘ میں تبدیل کرنے کی تازہ ترین تجویز فلسطینیوں کو
ہم میں سے بہت سے لوگ جو فلسطین کی تاریخ میں فلسطینی عوام کی آواز،تجربے اور اجتماعی عمل کی اہمیت پرطویل عرصے سے زوردیتے رہے ہیں، وہ لوگ بھی غزہ میں فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی جنگ کے نتیجے میں اٹھنے
(گزشتہ سے پیوستہ) مصر کی سیسی حکومت کی پوزیشن البتہ غیر یقینی ہے، سیسی نے ابتدائی طور پر نسل کشی کے آغاز میں اسی طرح کے منصوبوں کو مسترد کر دیا تھا، اور اس نے اس وقت کہا تھا کہ