Search
Close this search box.
هفته ,27 جون ,2026ء

بی ایل اے ،قومی سلامتی، سی پیک اور علاقائی امن

پاکستان اور خطے کے امن کے لیے سب سے بڑا خطرہ اب صرف روایتی عسکری تنازعات نہیں بلکہ دہشت گردی کی تبدیل شدہ اور مربوط حکمت عملی ہے، جس میں کم لاگت کے حملے ،زیادہ خوف اور عدم استحکام پیدا کرنے کے لیے استعمال کیے جارہے ہیں۔ بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) اس خطرے کی سب سے واضح مثال ہے۔بلوچ لبریشن آرمی جیسی علیحدگی پسند مسلح تنظیم جو بلوچستان میں ریاستِ پاکستان کے خلاف پرتشدد سرگرمیوں میں ملوث ہے اور جس کی کارروائیاں خطے کے امن و استحکام کے لیے ایک مسلسل چیلنج بنی ہوئی ہیں اور پاکستان جس دہشت گردی کے خطرے کی نشاندہی برسوں سے عالمی فورمز پر کرتا رہاہے آج وہ حقیقت عالمی سطح پر تسلیم کی جا چکی ہےحتیٰ کہ ایک معروف امریکی جریدے نے بھی اپنے حالیہ تجزیے میں اس نوعیت کی دہشت گردی کو پورے خطے کے لیے ایک بڑا خطرہ قراردے دیا ہے۔اگر یہ کہا جائے کہ بی ایل اےکی دہشت گردی کی بدلتی ہوئی حکمت عملی اور اس کے سرحد پار روابط ایک ایسی حقیقت بن چکے ہیں جو نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ پیدا کر رہے ہیں تو یہ مبالغہ آرائی نہیں ہوگی۔ امریکی جریدے دی نیشنل انٹرسٹ نے حال ہی میں اس موضوع پر ایک تفصیلی تجزیہ پیش کیا ہے جس میں بی ایل اے کی سرگرمیوں کو ایک نئی شکل میں دیکھا گیا ہے۔ یہ گروہ اب روایتی شورش سے آگے بڑھ کر ایک کم لاگت، زیادہ اثر انداز ہونے والے دہشت گرد ماڈل کی طرف منتقل ہو چکا ہے جہاں محدود اور منتشر حملوں کو ڈیجیٹل پروپیگنڈا کے ذریعے بڑی کامیابیوں کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ یہ تبدیلی دہشت گردی کی عالمی نوعیت کی ایک تشویشناک جھلک ہے جسے امریکہ سمیت عالمی برادری نظرانداز نہیں کر سکتی۔بی ایل اے کی موجودہ حکمت عملی کا بنیادی عنصر اس کی غیر مرکزی اور نیٹ ورک پر مبنی ساخت ہے۔ یہ گروہ علاقائی کنٹرول حاصل کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا جیسا کہ روایتی باغی گروہوں کا ہوتا ہے بلکہ یہ منتشر گروپوں اور سرحد پار روابط کے ذریعے مسلسل دہشت گردی جاری رکھے ہوئے ہے۔ حملے چھوٹے پیمانے پر ہوتے ہیں جیسے ٹارگٹڈ قتل، بنیادی ڈھانچے پر تخریب کاری یا خودکش دھماکے،مگر انہیں سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر اس طرح پروموٹ کیا جاتا ہے کہ وہ بڑے پیمانے کی فتح کا تاثر دیں۔ یہ کم لاگت کا ماڈل ہے جواپنی کارروائیوں کے ذریعے زیادہ سے زیادہ خوف پھیلاتا ہے، نتیجتاً دہشت گردی اب محض عسکری تصادم نہیں رہی بلکہ ایک نفسیاتی جنگ بن چکی ہے جو عوامی شعور کو متاثر کرنے پر مرکوز ہے۔اس تبدیلی کا ایک اہم پہلو سرحد پار روابط ہیں۔ بی ایل اے کی سرگرمیاں پاکستان سے باہر نکل کر ایران اور افغانستان تک پھیل چکی ہیں۔ ایران میں نسلی بنیادوں پر تقسیم کی آوازیں اور انتشار کے امکانات بی ایل اے جیسے گروہوں کے لیے ایک اہم آلہ کار بن چکے ہیں۔ اگر ایران میں عدم استحکام بڑھتا ہے تو یہ نیٹ ورکس مزید طاقتور ہو سکتے ہیں کیونکہ سرحد پار محفوظ پناہ گاہیں دہشت گردوں کو نئی قوت اور وسائل فراہم کرتی ہیں۔ افغانستان سے امریکی انخلا کے بعد چھوڑے گئے ہتھیاروں کا استعمال بھی بی ایل اے کی سرگرمیوں میں شدت کا باعث بنا ہے۔ یہ ہتھیار اب منتشر گروپس کے ہاتھوں میں ہیں جو انہیں پاکستان اور خطے کے دیگر حصوں میں استعمال کر رہے ہیں۔ نتیجتاً بلوچستان میں تشدد اب محض مقامی معاشی تحفظات یا وسائل کی تقسیم کا معاملہ نہیں رہا بلکہ ایک منظم دہشت گرد نیٹ ورک ہے جو علاقائی استحکام کو چیلنج کر رہا ہے۔
یہ حقیقت واضح ہے کہ معاشی تحفظات یا پسماندگی کو دہشت گردی کا جواز قرار دینا حقائق کی مسخ کاری ہے۔ بی ایل اے ایک دہشت گرد تنظیم ہے جسے پاکستان، امریکہ، برطانیہ اور چین سمیت کئی ممالک نے دہشت گرد گروہ قرار دے رکھا ہے۔ اس کی سرگرمیاں اب پاکستان سے آگے بڑھ کر پورے خطے کے لیے خطرہ بن چکی ہیں۔ وسطی ایشیا کے اقتصادی راستے، خاص طور پر وہ جو روس سے آزاد ہو کر نئی سمت تلاش کر رہے ہیں، ان دہشت گرد نیٹ ورکس کی زد میں آ سکتے ہیں۔ حکومتی تسلط سے باہر علاقوں میں محفوظ پناہ گاہیں نہ صرف پاکستان بلکہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے لیے بھی خطرہ پیدا کر سکتی ہیں کیونکہ یہ پناہ گاہیں دہشت گردوں کو حملوں کی نئی صلاحیت دیتی ہیں۔اس صورتحال میں روایتی فوجی امداد سے زیادہ موثر حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ اب انٹیلی جنس تعاون، مالیاتی نگرانی اور قانونی فریم ورک پر منحصر ہے۔ مالیاتی لین دین کی نگرانی سے دہشت گردوں کے فنڈز کو روکا جا سکتا ہے جبکہ انٹیلی جنس شیئرنگ سے سرحد پار نیٹ ورکس کو بے نقاب کیا جا سکتا ہے۔ پاکستان، امریکہ اور وسطی ایشیائی ریاستوں کے درمیان مشترکہ انسداد دہشت گردی کی حکمت عملی ناگزیر ہو چکی ہے۔ یہ تعاون نہ صرف بی ایل اے جیسے گروہوں کو کمزور کرے گا بلکہ خطے میں اقتصادی استحکام اور تجارت کے نئے راستوں کی حفاظت بھی کرے گا۔دی نیشنل انٹرسٹ کا یہ تجزیہ ایک واضح پیغام دیتا ہے کہ بی ایل اے کی دہشت گردی کو اب صرف ایک مقامی مسئلہ نہیں سمجھا جا سکتا۔ یہ ایک نیٹ ورکڈ خطرہ ہے جو سرحدوں سے آزاد ہو کر پھیل رہا ہے اور اس کے اثرات امریکہ کے مفادات تک پہنچ سکتے ہیں۔ اگر اسے روکا نہ گیا تو یہ خطے کے اقتصادی اور جغرافیائی سیاسی توازن کو مزید غیر مستحکم کر دے گا۔ امریکہ کو اب روایتی فوجی امداد کے بجائے منظم دہشت گرد نیٹ ورکس پر توجہ مرکوز کرنی ہو گی۔ انٹیلی جنس، سفارتی اور معاشی دباؤ کے امتزاج سے ہی اس خطرے کا مؤثر مقابلہ ممکن ہے۔یہ لمحہ خطے کے ممالک کے لیے ایک امتحان ہے کہ وہ مشترکہ مفادات کی بنیاد پر متحد ہو کر دہشت گردی کے اس نئے چیلنج کا سامنا کریں۔ بصورت دیگر منتشر حملے اور ڈیجیٹل پروپیگنڈا کی یہ لہر مزید شدت اختیار کر سکتی ہے جو نہ صرف بلوچستان بلکہ پورے جنوبی اور وسطی ایشیا کی سلامتی کو خطرے میں ڈال دے گی۔ امن اور استحکام کی راہ میں یہ ایک اہم موڑ ہے جہاں نظر انداز کرنا مہنگا پڑ سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں