Search
Close this search box.
هفته ,27 جون ,2026ء

حسینیت تا ابد — حق، وفا اور قربانی کا ابدی پیغام

امامِ عالی مقام سیدنا حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ اسلامی تاریخ کی وہ تابندہ، لازوال اور ابدی شخصیت ہیں جن کا نام آتے ہی دل عقیدت سے جھک جاتے ہیں، آنکھیں نم ہو جاتی ہیں اور روحوں میں حق و صداقت کی ایک نئی روشنی جاگ اٹھتی ہے۔ آپ کی حیاتِ طیبہ، کردارِ عالی، صبر و استقامت اور شہادتِ عظمیٰ نے نہ صرف امتِ مسلمہ کے ضمیر کو ہمیشہ کے لیے بیدار کر دیا بلکہ حق و باطل کے درمیان ایک ایسا واضح اور دائمی معیار قائم کر دیا جسے قیامت تک کوئی مٹا نہیں سکتا۔
آپ نبی کریم ﷺ کے محبوب نواسے، سیدنا حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے فرزندِ ارجمند اور خاتونِ جنت حضرت فاطمہ الزہراء رضی اللہ عنہا کے جگر گوشہ ہیں۔ یہ نسبت صرف خاندانی شرف نہیں بلکہ طہارت، تقویٰ اور ہدایت کے اس سرچشمے سے وابستگی ہے جسے اللہ تعالیٰ نے خود منتخب فرمایا۔ اہلِ بیتِ اطہار سے محبت ایمان کی علامت اور ان کی تعظیم ہر مسلمان کے دل کا سرمایہ ہے۔ قرآنِ مجید اہلِ بیتِ رسول ﷺ کے مقام و مرتبہ کو نہایت واضح انداز میں بیان کرتا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ’’بے شک اللہ یہی چاہتا ہے کہ اے اہلِ بیت! تم سے ہر قسم کی آلودگی دور کر دے اور تمہیں خوب پاک و صاف کر دے۔‘‘ (الاحزاب: 33)،اسی طرح فرمایا گیا:’’فرما دیجیے کہ میں تم سے اس رسالت پر کوئی اجر نہیں مانگتا سوائے اپنے قرابت داروں کی محبت کے‘‘” (الشوریٰ: 23) آیتِ مباہلہ بھی اہلِ بیتؓ کے عظیم مقام کی روشن دلیل ہے۔ جب نجران کے عیسائیوں سے مباہلہ کا وقت آیا تو نبی اکرم ﷺ اپنے ساتھ صرف حضرت علیؓ، حضرت فاطمہؓ، حضرت حسنؓ اور حضرت حسین رضی اللہ عنہم کو لے کر تشریف لائے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ اہلِ بیتِ اطہارؓ کو اللہ تعالیٰ نے خصوصی قرب، طہارت اور فضیلت عطا فرمائی۔
احادیثِ مبارکہ میں بھی امام حسین رضی اللہ عنہ کے فضائل نہایت محبت اور عظمت کے ساتھ بیان ہوئے ہیں۔ رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا:’’حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں۔ اللہ اس سے محبت کرے جو حسین سے محبت کرے۔‘‘ ایک اور حدیث میں فرمایا:’’ حسن اور حسین جنتی نوجوانوں کے سردار ہیں۔‘‘یہ ارشادات محض خاندانی محبت کا اظہار نہیں بلکہ امت کو یہ پیغام ہیں کہ امام حسین رضی اللہ عنہ حق، صداقت، اخلاق اور دین کے روشن مینار ہیں۔حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ عبادت، زہد، تقویٰ، سخاوت، شجاعت، حلم اور حسنِ اخلاق کے پیکر تھے۔ آپ کی راتیں سجدوں، دعاؤں اور تلاوتِ قرآن میں گزرتیں اور دن اللہ کی مخلوق کی خدمت، مظلوموں کی حمایت اور حق کے فروغ میں صرف ہوتے۔ آپ کی زندگی اس حقیقت کی روشن مثال ہے کہ حقیقی قیادت تلوار، اقتدار اور دولت سے نہیں بلکہ کردار، تقویٰ اور صداقت سے پیدا ہوتی ہے۔وقت گزرتا گیا اور اسلامی ریاست میں ایسے حالات پیدا ہوئے جنہوں نے امت کے سامنے ایک بڑا اخلاقی اور دینی سوال کھڑا کر دیا۔ یزید کی حکومت محض ایک سیاسی تبدیلی نہیں تھی بلکہ اس کے ساتھ ایسے طرزِ فکر اور طرزِ حکومت نے جنم لیا جو اسلامی عدل، تقویٰ اور نبوی اقدار سے متصادم تھا۔ امام حسین رضی اللہ عنہ نے اس صورتحال کو صرف اقتدار کی کشمکش نہیں سمجھا بلکہ دین کی حفاظت، امت کی رہنمائی اور حق کی بقا کا مسئلہ قرار دیا۔
آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:’’میں فساد پھیلانے یا ظلم کرنے کے لیے نہیں نکلا بلکہ اپنے نانا کی امت کی اصلاح کے لیے نکلا ہوں۔‘‘ یہ الفاظ دراصل تحریکِ حسینی کا منشور ہیں۔کوفہ کے لوگوں نے ہزاروں خطوط لکھ کر امام عالی مقامرضی اللہ عنہ کو دعوت دی۔ لوگوں نے بیعت اور حمایت کے وعدے کیے، مگر جب وقتِ آزمائش آیا تو اکثر لوگ خوف، لالچ اور جبر کے سامنے خاموش ہو گئے۔ امام حسین رضی اللہ عنہ اپنے اہلِ بیت اور چند وفادار ساتھیوں کے ساتھ کربلا کے میدان میں پہنچے جہاں انہیں روک لیا گیا۔فرات قریب تھا مگر پانی بند کر دیا گیا۔ خیموں میں بچے پیاس سے تڑپ رہے تھے۔ خواتین بے قرار تھیں۔ بوڑھے، جوان اور معصوم بچے سب ایک سخت امتحان سے گزر رہے تھے، مگر امام حسین رضی اللہ عنہ کے چہرے پر صبر، زبان پر ذکرِ الٰہی اور دل میں رضائے خدا کی روشنی موجود تھی۔
دس محرم الحرام 61 ہجری کا دن تاریخِ انسانیت کا ایک عظیم ترین دن بن گیا۔ ایک طرف دنیاوی اقتدار، لشکر اور طاقت تھی اور دوسری طرف رسولِ اکرم ﷺ کا نواسہ، چند جانثار ساتھی اور اہلِ بیت کا مقدس قافلہ تھا۔حضرت عباس علمداررضی اللہ عنہ کی وفاداری، حضرت علی اکبر کی جوانمردی، حضرت قاسم کی بہادری اور حضرت علی اصغر کی معصوم پیاس آج بھی دلوں کو لرزا دیتی ہے۔ فرات کے کنارے وفا نے جان دی، جوانی نے قربانی دی، معصومیت نے خون دیا اور آخر میں امام حسین رضی اللہ عنہ نے اپنا سر پیش کر دیا مگر باطل کے سامنے سر نہ جھکایا۔
کربلا کے تپتے ہوئے میدان میں جب امام عالی رضی اللہ عنہ مقام سجدۂ آخری میں گئے تو گویا تاریخ نے ایک نئی کروٹ لی۔ جسم زخمی تھا، اہلِ خانہ شہید ہو چکے تھے، خیمے ویران ہو چکے تھے، مگر حق کا پرچم بلند تھا،یہی وہ لمحہ تھا جب حسینیت ایک واقعہ سے بڑھ کر ایک فلسفہ بن گئی،حسینیت صرف ایک جنگ کا نام نہیں، یہ ضمیر کی بیداری کا نام ہے۔حسینیت صرف ایک تاریخی واقعہ نہیں، یہ ظلم کے خلاف مزاحمت کا ابدی اعلان ہے۔حسینیت صرف آنسوؤں اور جذبات کا نام نہیں بلکہ کردار، استقامت، قربانی اور اصولوں پر ڈٹ جانے کا نام ہے۔
امام حسین رضی اللہ عنہ نے دنیا کو یہ سبق دیا کہ حق کی خاطر اگر سر کٹانا پڑے تو یہ سودا خسارے کا نہیں بلکہ کامیابی کا ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے ثابت کر دیا کہ طاقت ہمیشہ لشکروں میں نہیں ہوتی بلکہ سچائی، ایمان اور اخلاص میں ہوتی ہے۔ ظلم وقتی طور پر غالب آ سکتا ہے، مگر ہمیشہ کے لیے کامیاب نہیں ہو سکتا۔ کربلا نے یہ اعلان کر دیا کہ تلواریں جسموں کو زخمی کر سکتی ہیں مگر سچائی کو قتل نہیں کر سکتیں۔چودہ سو سال گزرنے کے باوجود کربلا آج بھی زندہ ہے۔ دنیا کے مختلف مذاہب، تہذیبوں اور قوموں کے لوگ امام حسین رضی اللہ عنہ کی قربانی کو حق و انصاف کی جدوجہد کی عظیم ترین مثال قرار دیتے ہیں۔ ہر دور کا مظلوم کربلا سے حوصلہ لیتا ہے اور ہر ظالم یزیدیت کی علامت بن جاتا ہے۔
ایک معروف شعر اسی حقیقت کو یوں بیان کرتا ہے:
قتلِ حسین اصل میں مرگِ یزید ہے
اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد
آج جب دنیا ظلم، ناانصافی، مادہ پرستی، اخلاقی زوال اور انسانی بے حسی کے دور سے گزر رہی ہے، حسینیت پہلے سے زیادہ اہم ہو چکی ہے۔ یہ ہمیں سکھاتی ہے کہ حق کا ساتھ دینا، ظلم کے خلاف آواز اٹھانا، اصولوں پر قائم رہنا اور اللہ کی رضا کے لیے قربانی دینا ہی ایک مومن کی اصل شان ہے۔
امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ عزت اور سربلندی حق پر قائم رہنے میں ہے، چاہے اس کے لیے کتنی ہی بڑی قربانی کیوں نہ دینی پڑے۔ کربلا ہمیں یہ درس دیتی ہے کہ خاموشی بعض اوقات ظلم کی تائید بن جاتی ہے، جبکہ حق کے لیے اٹھنے والی آواز صدیوں تک زندہ رہتی ہے۔حسینیت دراصل عدل، صداقت، وفا، صبر، استقامت، حریتِ فکر، آزادیِ ضمیر اور رضائے الٰہی کا دوسرا نام ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کربلا صرف 61 ہجری کا واقعہ نہیں بلکہ ہر دور کے انسان کے لیے ایک زندہ پیغام، ایک روشن مشعل اور ایک ابدی دعوت ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اہلِ بیتِ اطہار سے سچی محبت، ان کے نقشِ قدم پر چلنے، ان کی تعلیمات کو اپنانے اور ہر دور میں حق و انصاف کا علم بلند رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب ۔

یہ بھی پڑھیں