(گزشتہ سے پیوستہ)
ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہوپرتنقید، خصوصاً عسکری فیصلوں کے حوالے سے ایک غیرمعمولی سفارتی انتباہ ہے،خصوصاًبیروت حملے کے حوالے سے، سیاسی منظرنامے میں بھونچال کاسبب بنی۔یہ محض اختلاف نہیں،ایک طرح کی سیاسی سرزنش ہے بلکہ ایک پیغام ہے کہ اب ترجیحات بدل چکی ہیں۔اس تنقیدکے اثرات صرف سفارتی سطح تک محدودنہیں بلکہ داخلی سیاست میں بھی گہرے ارتعاش پیدا کرتے ہیں۔ایسے وقت میں جب انتخابات قریب ہوں،اس نوع کی تنقیدکسی زلزلے سے کم نہیں ہوتی،جوسیاسی بنیادوں کوہلاکررکھ دیتی ہے۔یہ عوامی رائے پرگہرے اثرات مرتب کرتی ہے۔ میڈیا،اپوزیشن،اورعوام سب اس کوایک کمزوری کے طورپردیکھتے ہیں۔
نیتن یاہوکونہ صرف بیرونی بلکہ اندرونی دباؤ کا بھی سامناہے۔اس کے لئے سب سے بڑاچیلنج اب اندرونی اختلافات کی صورت میں سامنے آ رہا ہے۔ اس کی اپنی جماعت اور اتحادیوں میں بھی بے چینی بڑھ رہی ہے اوراتحادیوں کے سخت بیانات اس اضطراب کامظہرہیں جو اسرائیلی سیاست کے ایوانوں میں سرایت کرچکاہے۔ انتہائی دائیں بازو کے رہنما اس معاہدے کو اسرائیل کے مفادات کے خلاف قراردے رہے ہیں۔یہ داخلی اختلافات اس بات کی علامت ہیں کہ قیادت کے گرداتحادکا حصار اور سیاسی فضا کمزور پڑرہی ہے۔جب اندرونی صفوں میں دراڑپڑ جائے اوراندر سے آوازیں بلندہونے لگیں تو بیرونی دباؤمزید اثر اندازاورکئی گنابڑھ جاتاہے۔
سیاسی اتحادہمیشہ مفادات کے توازن پرقائم ہوتے ہیں۔اسرائیلی سیاست میں اتحادیوں کے درمیان اختلافات کوئی نئی بات نہیں،جب یہ توازن بگڑجائے تواختلافات کھل کر سامنے آتے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ اختلافات اب دبے لفظوں میں نہیں بلکہ کھلے عام سامنے آرہے ہیں۔ اسرائیلی سیاست میں موجودہ اختلافات اس امرکی نشاندہی کرتے ہیں کہ اب پالیسی سازی میں یکسوئی باقی نہیں رہی،اوریہی انتشارکسی بھی حکومت کے لئے خطرناک ثابت ہوسکتاہے۔موجودہ صورتحال میں یہ اختلافات زیادہ نمایاں اورگہرے ہوگئے ہیں۔ اسرائیلی اراکینِ پارلیمان کے بیانات اس امرکی نشاندہی کرتے ہیں کہ اب’’اتحاد‘‘ محض ایک لفظ رہ گیاہے،جس کی روح کہیں کھوچکی ہے۔یہ دراڑیں صرف پالیسی تک محدودنہیں بلکہ اعتمادکے فقدان کی علامت بھی ہیں اورسیاست میں اعتمادکاٹوٹناکسی عمارت کے ستون گرنے کے مترادف ہوتاہے۔
سکیورٹی ماہرین اورسابق انٹیلی جنس افسران اس معاہدے پرشدیدتحفظات کااظہارکررہے ہیں۔ان کے مطابق یہ معاہدہ ایران کوایک نئی سفارتی طاقت اوربرتری فراہم کرسکتا ہے، جس کے اثرات پورے خطے پرمرتب ہوں گے۔لبنان اورخطے کے دیگر محاذوں پر ایران کااثرو رسوخ بڑھنے کاخدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔ سابق موسادافسران اورتجزیہ کاراس معاہدے کوشک کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔ان کے نزدیک یہ معاہدہ خطے میں ایران کیاثرورسوخ کوبڑھانے کاسبب بن سکتا ہے، جواسرائیل کے لئے تشویش ناک ہے۔یہ آراء اس بات کی دلیل اور نشاندہی کرتی ہیں کہ مسئلہ محض سیاسی نہیں بلکہ تزویراتی پیچیدگیوں سے بھرپورہے۔
اگرایران کوخطے میں زیادہ فیصلہ سازی کااختیار ملتاہے تویہ نہ صرف اس کی علاقائی حیثیت کو مضبوط کرے گابلکہ اس کے اتحادی گروہوں کوبھی تقویت دے گا۔اگرایران کولبنان جیسے حساس محاذپر فیصلہ سازی کااختیارملتاہے،خطے میں اثرورسوخ حاصل ہوتاہے،تو یہ حزب اللہ کی پوزیشن کو مزیدمستحکم کرے گاجواسرائیل کے لئے ایک مستقل خطرہ بھی بن جائے گا۔یہ صورت حال گویاایک ایسے شعلے کوہوادینے کے مترادف ہے جوپہلے ہی سلگ رہا ہو۔ یہ ایک ایسی تبدیلی ہے جوطاقت کے توازن کومستقل طورپرمتاثرکرسکتی ہے ۔یہ صورتحال اسرائیل کے لئے ایک طویل المدتی چیلنج بن سکتی ہے۔ یہ گویاایک ایسے شطرنجی مہرے کووزیربنانے کے مترادف ہے جو پہلے ہی خطرناک تھا۔
نیتن یاہواب بھی اپنے بیانات میں سختی کا اظہارکرتے ہیںکہ اسرائیل اپنی سکیورٹی اورسلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ان کے بیانات میں وہی پرانا اورآمرانہ مزاج جھلکتا ہے، مگر حالات کی کروٹیں اس عزم کوچیلنج کررہی ہیں مگرسوال یہ ہے کہ کیاعملی طورپروہ اس مؤقف پرقائم رہ سکتے ہیں؟عملی دنیامیں بیانات اور امکانات کے درمیان ایک خلیج ہوتی ہے اور یہی خلیج اکثرسیاسی حقیقت کوبے نقاب کرتی ہے۔بیانات اور زمینی حقیقتوں کے درمیان فاصلہ کبھی کبھی بہت وسیع ہوتاہے۔
غزہ،لبنان اورشام میں جاری کارروائیاں اسرائیل کی جارحانہ حکمت عملی کی عکاس ہیں،مگراس کے باوجودحماس اوردیگرقوتیں مکمل طورپرختم نہیں ہوسکیں۔ مسلسل کارروائیوں کے باوجودمکمل کامیابی حاصل نہ ہونااس امرکی دلیل ہے کہ عسکری طاقت کی بھی حدود ہوتی ہیں۔یہ حقیقت اس پالیسی کی محدودیت کوظاہرکرتی ہے۔یہ حقیقت اس بات کی دلیل ہے کہ عسکری طاقت ہرمسئلے کاحل نہیں ہوتی۔ یہ جنگ ایک ایسے دائرے میں تبدیل ہوچکی ہے جہاں ہرکامیابی عارضی اورہرناکامی گہری ہوتی جارہی ہے اوریہ ایک ایسے دائرے کی مانند ہے جس کاکوئی اختتام نظرنہیں آتا۔
غزہ کے لئے تیارکردہ امن منصوبہ تاحال عملی شکل اختیارنہیں کرسکااورابھی تک تعطل کاشکارہے، جو اس امرکاثبوت ہے کہ جنگ کے بعدامن قائم کرنا کہیں زیادہ مشکل ہوتاہے۔یہ صورتحال اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ جنگ کا آغاز آسان ،مگراس کا اختتام نہایت پیچیدہ ہوتاہے۔یہ ایک ایسی گرہ ہے جوکھلنے کی بجائے مزید پیچیدہ اورالجھتی جارہی ہے۔
مسلسل تصادم کے باوجودایران اوراس کے اتحادی کمزورہونے کی بجائے مزیدمضبوط ہوئے ہیں۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جوروایتی عسکری سوچ کوچیلنج کرتی ہے اوراس امرکی طرف اشارہ کرتی ہے کہ طاقت کااستعمال ہمیشہ مطلوبہ نتائج نہیں دیتا۔تاہم یہ ایک ایسی تلخ حقیقت ہے جواسرائیلی حکمت عملی کے لئے ایک چیلنج بن چکی ہے جواسرائیلی حکمت عملی پر سوالیہ نشان بن کرابھری ہے۔یہ صورتحال اس مقولے کی یاددلاتی ہے کہ’’جنگ بعض اوقات دشمن کوکمزورنہیں بلکہ مضبوط کردیتی ہے‘‘۔
ماہرین اس بات پرمتفق ہیں کہ اسرائیل کواپنی پالیسیوں کاازسرِنوغوراورجائزہ لیناہوگا۔حقیقت پسندی، سفارت کاری،اورتوازن یہ تین عناصراب ناگزیر ہو چکے ہیں اوران کوترجیح دیناوقت کی ضرورت ہے۔وقت کا تقاضاہے کہ جذبات کے بجائے حقیقت پسندی کواپنایا جائے،ورنہ نتائج مزید پیچیدہ ہوسکتے ہیں۔یہ وہ لمحہ ہے جہاں جذبات کے بجائے حکمت کوفیصلہ کرناچاہیے۔
نیتن یاہوکادیرینہ بیانیہ اب اپنی کشش کھورہا ہے۔ اس کادیرینہ دعویٰ کہ وہ اسرائیل کاسب سے بڑا محافظ ہے،اب کمزورپڑتاجارہاہے۔ حالات نے اسے ایک ایسے مقام پرلاکھڑا کیاہے جہاں اسے نہ صرف دشمنوں بلکہ اپنے اتحادیوں کے ساتھ بھی کشمکش اور شدید ترین تنقیدکاسامناہے۔یہ ایک ایسی داستان ہے جہاں ہیروخوداپنے فیصلوں کے بوجھ تلے دبنے لگتاہے۔یہ صورتحال سیاسی داستان کے اس باب کی مانند ہے جہاں ہیروخوداپنے سائے سے خوفزدہ ہوجائے۔اگرایران میں تبدیلی آتی توشایداس کے بیانیے کوتقویت ملتی ، مگراب حالات اس کے برعکس رخ اختیارکرچکے ہیں۔ یہ ایک ایساموڑہے جہاں تاریخ فیصلہ کرتی ہے کہ کون رہنماوقت کے ساتھ بدلتاہے اورکون وقت کے ہاتھوں بدل دیاجاتا ہے۔
یہ پورامنظرنامہ اس حقیقت کوآشکاراوراس امرکی غمازی کرتاہے کہ عالمی سیاست میں کوئی بھی بیانیہ دائمی نہیں ہوتا،نہ دشمنی،نہ دوستی،نہ طاقت وحکمت عملی کاتوازنیہ چاروں عناصر مسلسل تغیرپذیرہیں اوریہ سب مل کرنئی حقیقتیں تخلیق کرتے ہیںامریکا اورایران کایہ معاہدہ صرف ایک سفارتی پیش رفت نہیں بلکہ ایک نئے عہدکاآغازہے بلکہ ایک ایسازلزلہ ہے جس کے ارتعاشات دورتک محسوس کیے جائیں گے۔ امریکااور ایران کایہ معاہدہ ایک نئے عہدکاآغاز ہے،جبکہ نیتن یاہوکے لئے یہ فیصلہ کن لمحہ فکریہ ہے کہ آیاوہ تاریخ کے دھارے کے ساتھ بہتاہے یااس کے مقابل کھڑے ہوکراپنی سیاسی بقاء کوداؤپرلگاکر سیاسی تنہائی کاشکارہوجاتاہے۔
یہ داستان محض ایک رہنماکی نہیں،بلکہ اس عہد کی ہے جہاں طاقت،حکمت،اورسیاست ایک دوسرے کے مدمقابل اوربرسرِ پیکارہیںاورتاریخ خاموشی سے اپنے اوراق پلٹ کرانجام رقم کررہی ہے اورآنے والا وقت اس بات کا فیصلہ کرے گاکہ یہ داستان ایک المیہ تھی یاایک نئی ابتدا۔
