Search
Close this search box.
جمعه ,26 جون ,2026ء

بوسنیا نسل کُشی کے ماہرین غزہ پرخاموش کیوں؟

بنگلہ دیش پوسٹ میں 23 نومبر کو سامر بہاریچ اور ایمینا زولیتیج کا ایک آرٹیکل پبلش ہوا ہے جس میں بوسنیا میں ہونے والی نسل کشی کے ماہرین کی غزہ کی نسل کشی پرخاموشی کو تنقیدکا نشانہ بناتے ہوئے انہوں نےلکھا ہےکہ ان کی خاموشی نہ صرف علمی شرافت کو داغدار کر رہی ہے بلکہ نسل کُشی کے مطالعے کے پورے شعبے کو کھوکھلا کر رہی ہے۔ اس سال بوسنیا و ہرزیگووینا میں جنگ کے خاتمے کو تیس برس ہو گئے۔ اس جنگ میں ایک لاکھ کے قریب انسانی جانیں ضائع ہوئیں۔ جولائی 1995 میں سربرینیتسا میں جو کچھ ہوا، وہ جنگ کا خونریز اختتام تھا۔ اقوامِ متحدہ کے نامزد کردہ ”محفوظ علاقے“ میں بوسنیائی صرب فوج نے جنرل رتکو ملاڈیچ (جسے ”بوسنیا کا قصائی“ کہا جاتا ہے) کی قیادت میں آٹھ ہزار سے زیادہ مردوں اور لڑکوں کا قتلِ عام کیا۔ یہ یورپ کی سرزمین پر دوسری عالمی جنگ کے بعد سب سے بڑی نسل کُشی تھی۔اگلے تین عشروں میں عالمی فوجداری عدالت نے سینکڑوں گواہ سُنے، درجنوں اعلیٰ صرب رہنماؤں کو سزائیں سنائیں اور نسل کُشی کا قانونی ثبوت قائم کیا۔ بوسنیا کی ریاست اور مغربی ڈونرز نے کروڑوں ڈالر خرچ کیے تاکہ یہ نسل کُشی نہ بھلائی جائے، اس کی تحقیق ہو، متاثرین کو انصاف ملے اور آنے والی نسلیں سبق سیکھ سکیں۔پھر غزہ میں جو کچھ شروع ہوا، اسے دیکھ کر 1992-95 کی جنگ سے گزرنے والے بوسنیائیوں کے زخم پھر سے ہرے ہو گئے۔ انہیں اپنے شہر، اپنے محاصرے، اپنے قتلِ عام یاد آ گئے۔ ہزاروں بوسنیائی سڑکوں پر نکلے، پرچم لہرائے، فلسطین کے حق میں نعرے لگائےلیکن جن لوگوں سے سب سے زیادہ توقع تھی، یعنی بوسنیا کے نامور ماہرینِ نسل کُشی، وہ خاموش رہے۔ جن کے پورے کیریئر سربرینیتسا کی یاد کو زندہ رکھنے پر گزرے، وہ آج غزہ کے بچوں کے نام لینے سے کترا رہے ہیں۔ یہ خاموشی صرف غزہ کے متاثرین کے ساتھ ناانصافی نہیں بلکہ ان کے اپنے شعبے کی ساکھ کا قتل ہے۔سب خاموش نہیں ہیں۔ چند بہادر آوازیں ضرور بلند ہوئیں۔ پروفیسر لیلا کریشویلیا کوویچ، سانیلا چیکیچ باشیچ، گورانا ملیناریویچ، جاسنا فیتاہوویچ، سانیلا کاپیتانوویچ، بیلما بولیوباشیچ، ایڈینا بیچیروویچ، احمد علیباشیچ اور نجارا احمیتاشیویچ نے ثابت کیا کہ ضمیر زندہ رکھنا اب بھی ممکن ہے۔ انہوں نے مظاہرے کیے، لیکچر دیے، مضامین لکھے، سیمینار منعقد کیے اور کھل کر کہا کہ سربرینیتسا اور غزہ میں فرق صرف جغرافیہ کا ہے، ظلم ایک ہی ہے۔
سارایوو کی فیمنسٹ اینٹی وار تنظیم مہینوں سے شہر کے وسط میں کھڑی ہو کر غزہ میں قتل ہونے والے بچوں کے نام پڑھتی ہے اور انہیں سارایوو کے اپنے شہید بچوں کے ساتھ جوڑتی ہے۔ یہ آواز ایڈورڈ سعید کے اس پیغام کی زندہ مثال ہے کہ دانشور کی خاموشی جرم ہے، مگر اکثریت خاموش کیوں ہے؟ اسرائیلی ماہرینِ نسل کُشی (عمر بارٹو، عاموس گولڈبرگ، شموئیل لیڈرمین) اپنے ملک پر کھلے عام نسل کُشی کا الزام لگا چکے ہیں۔ دنیا کی سب سے بڑی تنظیم ”انٹرنیشنل ایسوسی ایشن آف جینوسائیڈ اسکالرز“ نے اگست میں اسرائیل کے اقدامات کو نسل کُشی قرار دے دیا۔ پھر بھی بوسنیا کے بہت سے ماہرین کی زبان پر تالے لگے ہیں۔سارایوو یونیورسٹی کا انسٹی ٹیوٹ برائے جنگی جرائم و انسانی حقوق، قانون کی فیکلٹی، بوسنیاک اسلامک ٹریڈیشن انسٹی ٹیوٹ،سب خاموش ہیں۔ ادارے نے تب ہی بیان دیا جب جنگ بندی کا امکان نظر آیا، وہ بھی اسرائیل کا نام لیے بغیر۔سب سے تکلیف دہ مثال سربرینیتسا میموریل سینٹر کے ڈائریکٹر اور خود نسل کُشی سے بچ جانے والے امیر سلیاگیچ کی ہے۔ جب ان سے غزہ کے بارے میں پوچھا گیا تو جواب ملا: ”یہ ہماری لڑائی نہیں ہے۔“ ایک سال پہلے یہی جناب یوکرین کے لیے لکھ رہے تھے کہ ”ہتھیار نہ ڈالیں“۔ ان کے ادارے نے برطانیہ کی فنڈنگ سے یوکرین، شام، سوڈان پر رپورٹس بنائیں مگر غزہ کا ذکر بھی گوارا نہ کیا۔ جب بوسنیا کی فلسطینی کمیونٹی نے سوال اٹھایا تو الٹا ان پر یہود دشمنی کا الزام لگا دیا گیا۔خاموشی کے اسباب کوئی راز نہیں: مغربی اکیڈمی میں کیریئر کا خوف، امریکی برطانوی یورپی سفارت خانوں کی گرانٹس کا لالچ، بوسنیا کے نازک امن میں اثر و رسوخ والے سفارتی ”دوستوں“ کو ناراض کرنے کا ڈر۔یہ سب سمجھ میں آتا ہے مگر قابلِ قبول نہیں۔
جو ادارے بوسنیا کے ٹیکس دہندگان کے پیسے سے چلتے ہیں، ان کے ماہرین پر لازم ہے کہ حق بات کہیں، خوف نہ کھائیں، ثبوت کی بنیاد پر رائے دیں اور عالمی علمی اتفاقِ رائے کا حصہ بنیں۔جب ماہرینِ نسل کُشی ایک نسل کُشی پر بولتے ہیں اور دوسری پر خاموش ہو جاتے ہیں تو وہ متاثرین کی ایک ہئیرارکی بناتے ہیں۔ ایک کی لاش ”قابلِ ذکر“، دوسری کی لاش ”سائڈ ایشو“۔ یہ سیاسی سودے بازی ہے، سائنس نہیں۔ ایڈورڈ سعید نے کہا تھا کہ خاموشی ملوکیت ہے۔ آج بوسنیا کے ماہرینِ نسل ، کُشی سے سوال یہ ہے کہ کیا سربرینیتسا کی یاد کو زندہ رکھنے کے لیے غزہ کے بچوں کی لاشوں پر خاموشی ضروری ہے؟ اگر جواب ہاں ہے تو پھر وہ یادگاروں اور میوزیموں کی بجائے اپنے ضمیر کے جنازے کا اہتمام کر لیں۔غزہ کو بوسنیا کے تناظر میں لاکر ہم ایک نئے علمی اور اخلاقی عہد کا مطالبہ کرتے ہیں جہاں سچ صرف وہی نہ ہو جو فنڈنگ ملے، جہاں انصاف صرف وہی نہ ہو جو سیاسی طور پر سہل ہو اور جہاں نسل کُشی کا مطالعہ سیاسی آلہ نہ بن جائے بلکہ انسانیت کی آخری پناہ گاہ بنا رہے۔ (سامر بہاریچ انسانی حقوق کے ایوارڈ یافتہ کارکن اور جرمنی کی یونیورسٹی آف بامبرگ میں جغرافیائی ہجرت کے ڈاکٹریٹ طالب علم ہیں۔ ایمینا زولیتیچ پولینڈ کی یونیورسٹی آف وارسا میں جنگ کی یادداشتوں کے بین النسلی انتقال پر پی ایچ ڈی کر رہی ہیں۔)

یہ بھی پڑھیں