Search
Close this search box.
جمعرات ,25 جون ,2026ء

عدالت سے ملنے والی سزا اور ریاستی رٹ کا سوال!

بلوچ یکجہتی کمیٹی کی سربراہ ماہرنگ بلوچ کو عدالت کی جانب سے سنائی گئی سزا پر بعض حلقوں نے واویلا مچا رکھا ہے۔ انسانی حقوق، آزادی اظہار اور پرامن احتجاج کے نام پر ایک ایسا بیانیہ بنایا جا رہا ہے جو آدھے سچ سے زیادہ خطرناک ہوتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ سزا کسی سیاسی انتقام کا نتیجہ نہیں، بلکہ قانون شکنی، ریاستی اداروں کے خلاف اشتعال انگیزی اور قومی سلامتی کو دائو پر لگانے کے ٹھوس شواہد کا عدالتی ردعمل ہے۔ احتجاج اور فساد میں فرق سمجھنے کی ضرورت ہے۔ آئین پاکستان کا آرٹیکل 16ہر شہری کو پرامن اجتماع کا حق دیتا ہے۔ مگر یہ حق غیر مشروط نہیں۔ جب پرامن احتجاج کے نام پر قومی شاہراہیں بند کر دی جائیں، سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا جائے، سیکورٹی فورسز پر پتھرائو ہو اور نوجوانوں کو ریاست کے خلاف مسلح جدوجہد پر اکسایا جائے تو یہ احتجاج نہیں، بغاوت کے زمرے میں آتا ہے۔ ماہرنگ بلوچ کے خلاف مقدمہ جلسوں میں کی گئی ان تقاریر پر بنا جن میں کھلے عام ریاست کو قابض کہا گیا، فورسز کو قاتل قرار دیا گیا اور نوجوانوں کو مزاحمت کے نام پر قانون ہاتھ میں لینے کا کہا گیا۔ سیکیورٹی فورسز پر حملے کئے گئے جس کے نتیجے میں اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران ایف سی کا ایک جوان شہید ہوا۔ دنیا کا کون سا ملک اپنی فوج اور عدالتوں کو سرعام گالیاں دینے کی اجازت دیتا ہے؟ انصاف کی دہائی دینے والے بعض عناصر یہ کیوں نظرانداز کر رہے ہیں کہ عدالتی عمل شفاف تھا ۔ملزمہ کو گرفتار کر کے غائب نہیں کیا گیا۔ ایف آئی آر درج ہوئی، چالان پیش ہوا، وکیل صفائی کو پورا موقع دیا گیا، گواہان کے بیانات قلمبند ہوئے اور جرح ہوئی۔ سزا کسی ایگزیکٹو آرڈر پر نہیں، عدالتی کارروائی کے بعد سنائی گئی۔ اگر ثبوت کمزور ہوتے تو عدالت بری کر دیتی۔ جو لوگ آج عدالتی قتل کا شور مچا رہے ہیں، وہ خود عدالتی نظام پر عدم اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں۔ کیا ہم ہر اس فیصلے کو مسترد کر دیں جو ہماری سیاسی پسند کے خلاف ہو؟ یہ روش انارکی کو دعوت دے گی۔
یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ نام نہاد یکجہتی کمیٹی نے مسنگ پرسنز کے معاملے کا سیاسی استعمال کیا۔بلوچ یکجہتی کمیٹی کا سب سے بڑا نعرہ مسنگ پرسنز ہے۔ بلاشبہ کسی بھی شہری کا ماورائے عدالت غائب ہونا قابل مذمت ہے اور ریاست کو اس کا حساب دینا چاہیے۔ مگر ماہرنگ بلوچ نے اس مسئلے کو حل کی طرف لے جانے کے بجائے سیاسی ہتھیار بنایا۔ حکومتی کمیشن، عدالتوں اور پارلیمانی کمیٹیوں کے فورم موجود تھے۔ ان فورمز پر بات کرنے کے بجائے اسلام آباد اور کوئٹہ کی سڑکوں پر دھرنے دئیے گئے، ریاست کو عالمی سطح پر بدنام کیا گیا اور بیانیہ یہ بنایا گیا کہ بلوچستان کالونی ہے۔ سوال یہ ہے کہ جن 500 افراد کی فہرست جلسوں میں لہرائی گئی، ان میں سے کتنے لوگ بعد میں افغانستان میں کالعدم تنظیموں کے کیمپوں سے برآمد ہوئے؟ ریاست نے جب نام، ولدیت اور ثبوت مانگے تو فہرستیں غائب ہو گئیں۔ ہمدردی اپنی جگہ، مگر قومی سلامتی کو دائو پر لگا کر سیاست نہیں ہو سکتی۔ ریاست کے خلاف واویلا مچاتے والے عناصر کے بیرونی دشمن قوتوں سے گٹھ جوڑ پر اٹھائے گئے سوالات تاحال جواب طلب ہیں۔ماہرنگ بلوچ کے دھرنوں کو جن بین الاقوامی این جی اوز، میڈیا ہاسز اور لابی گروپس نے کوریج دی، ان کا ریکارڈ پاکستان کے خلاف پہلے سے متعصبانہ ہے۔ سوشل میڈیا پر چلنے والی مہمات میں بھارتی اکانٹس کی بھرمار کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ جب ایک مقامی لیڈر کا بیانیہ عین دشمن ملک کے بیانیے سے ملنے لگے تو ریاست کو تشویش ہونا فطری ہے۔ احتجاج کی فنڈنگ کہاں سے آ رہی تھی؟ جلسوں میں آزاد بلوچستان کے نعرے لگانے والے کون تھے؟ ان سوالوں کا جواب دیے بغیر خود کو انسانی حقوق کا علمبردار کہلوانا آسان ہے۔عدالت میں سنائی گئی سزا کا پیغام یہی ہے کہ قانون سب کے لئے برابر ہے۔ماہرنگ بلوچ کی سزا دراصل اس تاثر کو توڑتی ہے کہ سوشل میڈیا فالوورز، بیرونی حمایت یا صنف کی بنیاد پر کوئی شخص قانون سے بالاتر ہو سکتا ہے۔ کل کو کوئی اور گروہ اٹھ کر شاہراہیں بند کرے، فوج پر حملے کرے اور پھر سیاسی انتقام کا رونا روئے تو کیا ریاست ہاتھ باندھ کر تماشا دیکھے؟ عدالت نے یہ واضح کیا ہے کہ تنقید اور غداری میں فرق ہے۔
آپ حکومت کی پالیسی سے اختلاف کریں، یہ آپ کا حق ہے۔ مگر آپ ریاست کی وحدت، فوج اور عدالتوں کو گالی دے کر نوجوانوں کو بندوق اٹھانے پر اکسائیں گے تو قانون حرکت میں آئے گا۔ بلوچستان کا اصل مسئلہ محرومی ہے، بے روزگاری ہے، سرداروں کا استحصال ہے، تعلیم اور صحت کی کمی ہے۔ ان مسائل کا حل دھرنوں سے نہیں، پارلیمنٹ، ترقیاتی بجٹ اور گورننس سے نکلے گا۔ ماہرنگ بلوچ اگر واقعی بلوچ عوام کی خیرخواہ ہیں تو انہیں بندوق اور نعرے کے بجائے سکول، ہسپتال اور روزگار کی بات کرنی چاہیے تھی۔ مگر انہوں نے نوجوانوں کو ایک ایسی جنگ میں جھونکا جس کا ایندھن صرف لاشیں ہیں۔ عدالتی فیصلے سے ریاستی رٹ بحال ہوئی ہے، تاہم اسے قائم رکھنا ہوگا۔عدالت کا فیصلہ صرف ماہرنگ بلوچ کے لیے نہیں، ہر اس شخص کے لئے پیغام ہے جو سمجھتا ہے کہ لسانی، علاقائی یا صنفی کارڈ کھیل کر وہ ریاستی رٹ کو چیلنج کر سکتا ہے۔ پاکستان کسی کی جاگیر نہیں کہ جس کا دل چاہے اس پر چڑھ دوڑے۔ قانون کی حکمرانی ہی وہ واحد راستہ ہے جو وفاق کو جوڑے رکھ سکتا ہے۔ ماہرنگ بلوچ کو اپیل کا حق حاصل ہے، وہ اعلیٰ عدالتوں سے رجوع کریں۔ مگر سڑکوں پر فیصلے نہیں ہوا کرتے۔ اگر ہم نے آج اس سزا پر سمجھوتہ کر لیا تو کل ہر گلی میں ایک انقلابی کھڑا ہو گا اور ریاست تماشائی بنی رہے گی۔ یہ ملک خیرات میں نہیں ملا، اسے دا پر لگانے کی اجازت کسی کو نہیں دی جا سکتی۔

یہ بھی پڑھیں