Search
Close this search box.
بدھ ,15 جولائی ,2026ء

اے آئی کے ذریعے ملازمین برطرف کرنے کا الزام، میٹا کے خلاف عدالت میں مقدمہ دائر

کیلیفورنیا: سوشل میڈیا کمپنی میٹا کو ملازمین کی برطرفیوں کے معاملے پر ایک بڑے قانونی چیلنج کا سامنا ہے۔ کمپنی کے 26 سابق ملازمین نے الزام عائد کیا ہے کہ برطرفیوں کے عمل میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی نظام استعمال کیا گیا، جس کے باعث معذور، بیمار یا طبی رخصت پر موجود ملازمین غیر متناسب طور پر متاثر ہوئے۔

امریکی ریاست کیلیفورنیا کے شہر اوکلینڈ کی وفاقی عدالت میں دائر درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ رواں سال ہزاروں ملازمین کی برطرفی کے دوران کمپنی نے پیداواری کارکردگی اور اے آئی سے تیار کیے گئے اسکورز کو اہم بنیاد بنایا، جس سے وہ افراد زیادہ متاثر ہوئے جو بیماری، معذوری یا اہل خانہ کی دیکھ بھال کی وجہ سے کچھ عرصہ کام سے دور رہے تھے۔

درخواست گزاروں کے مطابق انہیں مئی میں آگاہ کیا گیا تھا کہ ان کی ملازمتیں 22 جولائی سے ختم کر دی جائیں گی۔ انہوں نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ نجی ثالثی کا عمل مکمل ہونے تک برطرفیوں پر عارضی پابندی عائد کی جائے۔

دوسری جانب میٹا کے ترجمان نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ کمپنی میں ملازمین سے متعلق فیصلے مصنوعی ذہانت نہیں بلکہ انسانی انتظامیہ کرتی ہے۔

عدالتی درخواست میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ کمپنی نے ملازمین کی جانچ اور درجہ بندی کے لیے متعدد داخلی اے آئی سسٹمز استعمال کیے، جن میں “میٹا میٹ” نامی لارج لینگویج ماڈل، “سیکنڈ برین” سسٹم اور ایک ایسا پروڈکٹیویٹی اسکور شامل تھا، جو کی بورڈ کے استعمال، اسکرین ایکٹیویٹی، ای میلز اور براؤزر ہسٹری جیسے ڈیٹا کا تجزیہ کرتا تھا۔

درخواست گزاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ کمپنی نے اپنے اے آئی سسٹمز کو ممکنہ تعصب (Bias) کے حوالے سے مؤثر انداز میں جانچا نہیں، جو کیلیفورنیا اور نیویارک سٹی کے بعض قوانین کی خلاف ورزی کے زمرے میں آ سکتا ہے۔

قانونی ماہرین کے مطابق یہ مقدمہ اس لیے بھی اہم ہے کہ کسی بڑی امریکی ٹیکنالوجی کمپنی کے خلاف ملازمین کی برطرفیوں میں مصنوعی ذہانت کے مبینہ استعمال پر دائر ہونے والے ابتدائی نمایاں مقدمات میں سے ایک قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں