کراچی: معروف یوٹیوبر رجب بٹ کے خلاف درج مقدمہ خارج کرنے کی درخواست پر سندھ ہائیکورٹ نے اہم حکم جاری کرتے ہوئے آئی جی سندھ کو ہدایت دی ہے کہ کیس کی تحقیقات تین ہفتوں کے اندر مکمل کرائی جائیں۔
عدالت کی جانب سے جاری تحریری حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ اگر تحقیقات کے دوران مؤثر شواہد دستیاب نہ ہوں تو مقدمہ منسوخ کرنے سے متعلق رپورٹ متعلقہ مجسٹریٹ کے سامنے پیش کی جائے۔
دورانِ سماعت سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ کیس کی فارنزک رپورٹ ابھی موصول نہیں ہوئی، جس کے باعث چالان مکمل نہیں کیا جا سکا۔ ان کے مطابق فارنزک رپورٹ موصول ہونے کے بعد حتمی چالان عدالت میں جمع کرایا جائے گا۔
سندھ ہائیکورٹ نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ 15 جنوری 2025 کو مقدمہ درج ہونے کے باوجود اب تک تحقیقات مکمل نہیں ہو سکیں۔ عدالت کے مطابق حتمی چالان پیش ہونے سے پہلے ایف آئی آر خارج کرنے سے متعلق کوئی حتمی رائے دینا مناسب نہیں ہوگا۔
عدالت نے ابتدائی طور پر یہ بھی قرار دیا کہ موجودہ ریکارڈ بادی النظر میں رجب بٹ کو جرم سے براہ راست جوڑنے کے لیے کافی نہیں، تاہم تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی معاملے کی قانونی حیثیت واضح ہو سکے گی۔
عدالت نے مزید کہا کہ کسی بھی شہری کو غیر معینہ مدت تک تحقیقات کے عمل میں رکھنا اور مسلسل غیر یقینی صورتحال کا شکار رکھنا انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے۔ اسی لیے آئی جی سندھ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ذاتی طور پر کیس کی نگرانی کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ تحقیقات قانون کے مطابق، منصفانہ اور غیر جانبدارانہ انداز میں مکمل ہوں۔


