Search
Close this search box.
بدھ ,15 جولائی ,2026ء

16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کی قرارداد

لاہور: پنجاب اسمبلی میں 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی سے متعلق ایک اہم قرارداد جمع کرا دی گئی ہے، جس میں کم عمر بچوں کی آن لائن حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے قانون سازی اور صارفین کی عمر کی مؤثر تصدیق کا نظام متعارف کرانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

یہ قرارداد رکن پنجاب اسمبلی اور چیئرپرسن چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر بیورو پنجاب سارہ احمد کی جانب سے پیش کی گئی۔ قرارداد میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ کم عمر بچوں کو سائبر بُلیئنگ، ڈیجیٹل استحصال، آن لائن ہراسانی اور نامناسب مواد جیسے خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے فوری اور مؤثر قانون سازی وقت کی اہم ضرورت بن چکی ہے۔

قرارداد میں وفاقی حکومت اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر صارفین کی عمر کی تصدیق کا قابلِ اعتماد نظام متعارف کرایا جائے تاکہ 16 سال سے کم عمر بچوں کی غیر ضروری رسائی کو روکا جا سکے۔

دستاویز میں اس امر کی بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ دنیا کے کئی ممالک بچوں کے محفوظ ڈیجیٹل مستقبل کے لیے ایسے اقدامات پہلے ہی اختیار کر چکے ہیں۔ قرارداد کے مطابق آسٹریلیا، فرانس، چین اور امریکہ کی بعض ریاستوں میں کم عمر صارفین کے سوشل میڈیا استعمال سے متعلق قوانین اور حفاظتی ضوابط نافذ کیے جا چکے ہیں۔

سارہ احمد کا کہنا ہے کہ ہر بچے کو محفوظ ڈیجیٹل ماحول فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ ان کے مطابق ٹیکنالوجی کے مثبت استعمال کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ بچوں کو آن لائن خطرات سے بچانے کے لیے بروقت قانون سازی ناگزیر ہے۔

واضح رہے کہ اس قرارداد کا مقصد کم عمر بچوں کی آن لائن سرگرمیوں کے لیے ایک محفوظ اور ذمہ دارانہ نظام وضع کرنا ہے، تاہم اس حوالے سے حتمی فیصلہ متعلقہ اداروں اور قانون ساز فورمز کی کارروائی کے بعد سامنے آئے گا۔

یہ بھی پڑھیں