Search
Close this search box.
بدھ ,15 جولائی ,2026ء

چینی برآمد کی اجازت، شوگر ملز نے حکومت سے بڑا مطالبہ کردیا

اسلام آباد: پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن نے چینی برآمد کے حوالے سے وفاقی حکومت سے بڑا مطالبہ کرتے ہوئے مجموعی طور پر 11 لاکھ 50 ہزار میٹرک ٹن اضافی چینی برآمد کرنے کی اجازت مانگ لی ہے۔ اس سلسلے میں وفاقی وزیر برائے نیشنل فوڈ سکیورٹی کو باقاعدہ خط ارسال کر دیا گیا ہے۔

ایسوسی ایشن کی جانب سے بھیجے گئے خط میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ حکومت فوری طور پر 6 لاکھ میٹرک ٹن چینی برآمد کرنے کی منظوری دے، جبکہ مزید 5 لاکھ 50 ہزار میٹرک ٹن چینی کی برآمد کی اجازت آئندہ کرشنگ سیزن کے آغاز کے ساتھ دی جائے۔

خط میں کہا گیا ہے کہ حکومت نے گزشتہ سال ملک میں موجود سرپلس چینی برآمد کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی، تاہم اس پر اب تک عملدرآمد نہیں ہو سکا۔ ایسوسی ایشن کے مطابق موجودہ کرشنگ سیزن کے اختتام پر ملک میں 7.967 ملین میٹرک ٹن چینی کے ذخائر موجود ہیں، جبکہ ملکی ضروریات پوری ہونے کے بعد بھی تقریباً 1.181 ملین میٹرک ٹن چینی اضافی بچتی ہے۔

پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ گنے کے کاشتکاروں کو بہتر نرخوں پر ادائیگیوں کی وجہ سے اعلیٰ معیار کی فصل کاشت کی گئی، جس کے باعث آئندہ کرشنگ سیزن میں گنے کی پیداوار مزید بہتر ہونے کی توقع ہے۔ ایسوسی ایشن نے اندازہ ظاہر کیا ہے کہ اگلے سیزن میں تقریباً 8 ملین میٹرک ٹن چینی تیار کی جا سکتی ہے۔

خط میں مزید کہا گیا ہے کہ اس وقت مقامی مارکیٹ میں چینی کی قیمتیں اس کی پیداواری لاگت سے بھی کم سطح پر ہیں، جس سے صنعت کو مالی مشکلات کا سامنا ہے۔ چینی برآمد کی اجازت ملنے کی صورت میں نہ صرف شوگر انڈسٹری کو سہارا ملے گا بلکہ پاکستان کو تقریباً 575 ملین امریکی ڈالر کا قیمتی زرمبادلہ بھی حاصل ہو سکتا ہے۔

ایسوسی ایشن نے حکومت پر زور دیا ہے کہ ملکی معیشت، شوگر انڈسٹری اور گنے کے کاشتکاروں کے وسیع تر مفاد میں اضافی چینی کی برآمد کی جلد منظوری دی جائے۔

یہ بھی پڑھیں