افغان طالبان کےاقتدار کی باگ ڈور سنبھالنے کے بعد توقع کی جا رہی تھی کہ چار دہائیوں سے شورش اور بیرونی مداخلت کا شکار یہ ملک بتدریج استحکام کی راہ اختیار کرے گا۔ طالبان قیادت نے عالمی برادری کو یقین دہانیاں کرائیں کہ افغان سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دی جائے گی اور ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر افغانستان علاقائی امن میں مثبت کردار ادا کرے گا، تاہم زمینی حقائق اور خطے میں ابھرتی سلامتی کی صورت حال اس بیانیے سے ہم آہنگ دکھائی نہیں دیتی۔ مختلف شدت پسند تنظیموں کی موجودگی، ان کی تنظیمِ نو، اور سرحد پار کارروائیوں میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ افغانستان محض ایک داخلی سیاسی تبدیلی سے نہیں گزرا بلکہ وہ دوبارہ ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے جہاں غیر ریاستی مسلح گروہ فیصلہ کن کردار ادا کر سکتے ہیں۔ یہ سوال اب محض سفارتی نزاکت کا نہیں رہا کہ کابل میں کون برسرِ اقتدار ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ اقتدار کے عملی ڈھانچے میں کن عناصر کو گنجائش دی جا رہی ہے اور کن سرگرمیوں پر چشم پوشی اختیار کی جا رہی ہے۔ اگر کسی ریاست کی سرزمین سے ہمسایہ ممالک کے خلاف منظم حملے ہوں، تربیتی نیٹ ورکس فعال ہوں اور بین الاقوامی جہادی بیانیہ تقویت پا رہا ہو تو محض تردیدی بیانات کافی نہیں رہتے۔ افغانستان کی موجودہ صورت حال اسی پیچیدہ اور تشویشناک موڑ کی غمازی کرتی ہے۔ افغانستان میں اس وقت متعدد دہشت گرد گروہوں کے لیے ایک ایسا ’’سازگارماحول‘‘ موجود ہے جس میں نظریاتی ہم آہنگی، عملی سہولت اور ادارہ جاتی خاموشی باہم مل کر ان گروہوں کی سرگرمیوں کو ممکن بنارہی ہیں۔ طالبان رجیم کامسلسل یہ دعویٰ ہے کہ اس کی سرزمین پر کوئی دہشت گرد گروہ موجود نہیں لیکن اس دعوے کی توثیق کسی بھی رکن ریاست کی جانب سے نہیں کی گئی۔ اس تضاد نے نہ صرف سفارتی سطح پر بے اعتمادی کو بڑھایا ہے بلکہ سرحد پار حملوں اور مقامی کمیونٹیز کی ریڈیکلائزیشن کے خدشات کو بھی تقویت دی ہے۔پہلے صرف پاکستان شکوہ کناں تھا لیکن اب پوری دنیا اس سے متفق دکھائی دے رہی ہے ، گزشتہ دنوں منظر عام پر آنے والی اقوام متحدہ کی رپورٹ اس حوالہ سے اہمیت کی حامل ہے جس میں افغان رجیم کو دہشت گردی کا سرپرست قرار دیا گیا ہے ۔ رپورٹ میں تسلیم کیا گیا ہے کہ ’’ ٹی ٹی پی افغانستان میں سرگرم سب سے بڑے دہشت گرد گروہوں میں شمار ہوتی ہے۔پاکستان کی سیکیورٹی فورسزاورریاستی تنصیبات پر حملوں میں اضافہ اور ان حملوں کی بڑھتی پیچیدگی، اس امر کا اشارہ ہیں کہ اسے تنظیمِ نو اور تربیت کے لیے محفوظ گنجائش میسرہے۔ متعدد کارروائیوں میں بڑی تعداد میں جنگجو شریک رہے جس سے عسکری تصادم کی شدت میں اضافہ ہوا۔ 11 نومبر کو اسلام آباد کی عدالت کے احاطے میں خود کش حملہ جس میں 12 افراد شہید ہوئے اورجس کی ذمہ داری ٹی ٹی پی کے ایک گروپ نے قبول کی، اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ خطرہ علامتی اور حساس اہداف تک پہنچ چکا ہے۔ کئی برس بعد دارالحکومت میں یہ پہلا بڑا حملہ تھا اور اس کے اہداف ماضی کے نمونوں سے مختلف تھے۔اگرچہ TTP کو بعض آپریشنل ناکامیوں کا سامنا بھی کرنا پڑامثلاً اکتوبر میں اس کے نائب امیر مفتی مزاحم کی پاکستانی کارروائی میں ہلاکت، تاہم اس کے مجموعی ڈھانچے اور صلاحیت میں کمی کے واضح آثار نہیں ملتے۔ بعض ریاستوں کو یہ تشویش بھی لاحق ہے کہ TTP القاعدہ سے منسلک عناصر کے ساتھ تعاون بڑھا کر ایک وسیع تر، علاقائی سرحدوں سے ماورا خطرے کی صورت اختیار کر سکتی ہے۔القاعدہ کی موجودگی اور فعالیت اس پورے منظرنامے کو مزید پیچیدہ بناتی ہے۔ اگرچہ تنظیم کی بنیادی ساخت میں نمایاں تبدیلی نہیں آئی مگر بیرونی آپریشنز کی خواہش کم نہیں ہوئی۔ اس کی حکمت عملی کم شدت والے حملوں کے بجائے بڑی اور نمایاں کارروائیوں پر مرکوز ہے جو عالمی میڈیا کی توجہ حاصل کریں اور اس کی علامتی قوت کو بحال رکھیں۔ اہم پہلو یہ ہے کہ القاعدہ دیگر گروہوں، بالخصوص TTP کے لیے تربیت، مشاورت اور آپریشنل مہارت فراہم کرنے والے ’’سروس پرووائیڈر‘‘ اور ’’فورس ملٹی پلائر‘‘ کا کردار ادا کر رہی ہےاور یہ سب کسی نہ کسی سطح پر میسر سرپرستی یا کم از کم گنجائش کے بغیر ممکن نہیں۔القاعدہ برصغیر جنوب مشرقی افغانستان میں فعال ہے جہاں حقانی نیٹ ورک کا اثر و رسوخ نمایاں سمجھا جاتا ہے۔ اس کے امیر اسامہ محمود اور نائب یحییٰ غوری کے کابل میں موجود ہونے کی اطلاعات ہیں جبکہ اس کا میڈیا سیل ہرات میں بتایا جاتا ہے۔ تنظیم بیرونی آپریشنز پر توجہ بڑھا رہی ہے اور یہ امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ مستقبل کی کارروائیاں کسی ایسے نام یا چھتری تنظیم مثلاً ’’اتحاد المجاہدین پاکستان‘‘کے تحت غیر دعویٰ شدہ یا قابلِ انکار انداز میں کی جا سکتی ہیں تاکہ میزبان انتظامیہ براہِ راست دباؤ سے بچی رہے۔ اس نوع کی حکمت عملی ریاستی ذمہ داری کے تعین کو مزید پیچیدہ بنا دیتی ہے۔ داعش خراسان علاقائی ریاستوں کے باعث دباؤ میں ضرور ہے لیکن اس کی جنگی اور آپریشنل صلاحیت برقرار ہے۔ یہ تنظیم، دہشتگردوں کی تیز رفتار تبدیلی بالخصوص آن لائن بھرتی کے ذریعے اپنی افرادی قوت کو تازہ رکھ سکتی ہے۔ شمالی افغانستان خصوصاً بدخشاں اور پاکستانی سرحد کے قریب اس کی موجودگی بدستور نمایاں ہے۔ یہ تنظیم دیگر مسلح گروہوں سے اتحاد کی تلاش میں بھی ہے تاکہ اپنی بقا اور اثر انگیزی کو برقرار رکھ سکے ۔ ISIL-K نے وسطی ایشیائی زبانوں میں جارحانہ پروپیگنڈا تیز کر رکھا ہے اور غزہ و اسرائیل جیسے عالمی تنازعات کو بھرتی اور فنڈنگ کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی ہے۔ گروہ میں وسطی ایشیا اور روس سمیت مختلف نسلوں کے افراد شامل ہیں جس سے اس کا دائرہ اثر وسیع تر ہے۔ تاجکستان اور ازبکستان کو اس امر پر تشویش ہے کہ ان کے شہریوں کی تنظیم میں بڑھتی اہمیت اور ممکنہ ’’سلیپر سیلز‘‘ کا قیام مستقبل میں داخلی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔ تنظیم اسلامی جمہوریہ ایران میں شیعہ عبادت گاہوں کو نشانہ بنانا چاہتی ہےجبکہ وسطی ایشیا میں علاقہ قبضہ کرنے کا خواب اس کے بیانیے کا حصہ ہے۔ترکستان اسلامک پارٹی (ETIM/TIP) کی سرگرمیاں بھی کم تشویشناک نہیں۔ اطلاعات کے مطابق انہیں نہ صرف آزادانہ نقل و حرکت میسر ہے بلکہ شناختی دستاویزات کے اجرا تک کی سہولت دی گئی ہے۔ بدخشاں میں ان کی بتدریج موجودگی بڑھ رہی ہے۔ وہ افیون کی کاشت اور کان کنی سے مالی وسائل جمع کر رہے ہیں۔ مزید برآں تقریباً 250 ارکان کا 2025 میں طالبان پولیس فورسز میں شامل ہونا ریاستی ڈھانچے اور مسلح گروہوں کے درمیان سرحد کو مزید دھندلا دیتا ہے۔ تنظیم نے شام اور دیگر علاقوں میں موجود اپنے ارکان کو افغانستان آنے اور مستقبل میں سنکیانگ واپس جا کر جہاد کی تیاری کی کال بھی دی ہے جو علاقائی طاقتوں کے لیے براہِ راست چیلنج ہے۔‘‘
یہ تمام شواہد مل کر ایک ایسی تصویر بناتے ہیں جس میں افغان سرزمین مختلف شدت پسند نیٹ ورکس کے لیے نہ صرف پناہ گاہ بلکہ اسٹریٹجک مرکز کی حیثیت اختیار کرتی دکھائی دیتی ہے۔ رسمی بیانات میں لاتعلقی کے دعوے اپنی جگہ مگر عملی طور پر گنجائش، سہولت اور بعض صورتوں میں ادارہ جاتی شمولیت ایسے سوالات کو جنم دیتی ہے جنہیں نظرانداز کرنا ممکن نہیں۔افغانستان کے عوام نے دہائیوں تک جنگ، غربت اور بے یقینی کا بوجھ اٹھایا ہے۔ اگر طالبان رجیم واقعی داخلی استحکام اور بین الاقوامی قبولیت کی خواہشمند ہے تو اسے واضح اور قابلِ تصدیق اقدامات کے ذریعے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ اس کی سرزمین کسی بھی دہشت گرد نیٹ ورک کے لیےاستعمال نہیں ہو رہی۔ بصورت دیگر خطہ ایک بار پھر اسی دائرۂ عدم استحکام میں داخل ہو سکتا ہے جہاں سرحدیں رسمی رہ جاتی ہیں اور خطرات مشترک ہو جاتے ہیں۔ تاریخ نے پہلے بھی اس تجربے کی قیمت وصول کی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس بار کوئی مختلف راستہ اختیار کیا جائے گا؟