Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال، خام تیل سستا ہوگیا

نیویارک: خام تیل کی قیمتوں میں کمی اس وقت ریکارڈ کی گئی جب آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت معمول پر آ گئی اور عالمی منڈی میں سپلائی کے حوالے سے خدشات کم ہو گئے۔ ماہرین کے مطابق خطے میں صورتحال بہتر ہونے کے باعث سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ ہوا ہے جس کا براہ راست اثر تیل کی قیمتوں پر پڑا۔

عالمی منڈی سے موصول ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق امریکی خام تیل کی قیمت میں 1.32 ڈالر فی بیرل کمی دیکھی گئی، جس کے بعد اس کی قیمت 72 ڈالر 54 سینٹ فی بیرل پر آ گئی ہے۔

اسی طرح برطانوی خام تیل (برینٹ کروڈ) بھی دباؤ کا شکار رہا اور اس کی قیمت میں 1.40 ڈالر فی بیرل کمی ریکارڈ کی گئی۔ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق برینٹ خام تیل 76 ڈالر 50 سینٹ فی بیرل کی سطح پر ٹریڈ کر رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز عالمی تیل تجارت کے لیے انتہائی اہم گزرگاہ ہے، جہاں کسی بھی قسم کی کشیدگی یا رکاوٹ عالمی منڈیوں میں فوری اثرات مرتب کرتی ہے۔ حالیہ دنوں میں پیدا ہونے والے خدشات کے باعث تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ دیکھا گیا تھا، تاہم بحری آمدورفت بحال ہونے سے مارکیٹ میں استحکام آیا ہے۔

خام تیل کی قیمتوں میں کمی سے دنیا بھر میں توانائی کی منڈیوں کو ریلیف ملنے کی توقع ہے جبکہ تیل درآمد کرنے والے ممالک کے لیے بھی یہ ایک مثبت پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔

معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر خطے میں امن و استحکام برقرار رہا اور سپلائی چین متاثر نہ ہوئی تو آئندہ دنوں میں تیل کی قیمتوں میں مزید استحکام دیکھنے کو مل سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں