لندن: خام تیل کی قیمت میں ایک بار پھر اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کی بڑی وجہ ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کو قرار دیا جا رہا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال نے عالمی توانائی مارکیٹ میں بے یقینی کو مزید بڑھا دیا ہے۔
تازہ اعداد و شمار کے مطابق لندن بینچ مارک برینٹ کروڈ کی قیمت بڑھ کر 80 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے، جبکہ امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) تقریباً 75 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہو رہا ہے۔
اسی طرح ابوظہبی بینچ مارک مربان کروڈ کی قیمت بھی اضافے کے بعد تقریباً 75 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے، جو عالمی منڈی میں بڑھتے ہوئے دباؤ کی عکاسی کرتی ہے۔
توانائی کے شعبے سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ کشیدگی نے سرمایہ کاروں میں خدشات پیدا کر دیے ہیں، جس کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی خریداری میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر مشرقِ وسطیٰ میں جغرافیائی اور سیاسی تناؤ برقرار رہا تو آنے والے دنوں میں خام تیل کی قیمت میں مزید اتار چڑھاؤ دیکھنے کو مل سکتا ہے، جس کے اثرات عالمی معیشت اور ایندھن کی مقامی قیمتوں پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔

