اسلام آباد: پیٹرولیم قیمتوں کا نظام مزید شفاف اور مؤثر بنانے کے لیے وفاقی حکومت نے نئی اصلاحات کی تیاری مکمل کر لی ہے۔ وزیراعظم کی ہدایت پر قائم کمیٹی کے اجلاس میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے مختلف طریقہ کار کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں عالمی توانائی منڈی کی صورتحال، قیمتوں کے تعین کے موجودہ نظام اور مستقبل کی حکمت عملی پر غور کیا گیا۔
اجلاس کے اعلامیے کے مطابق پیٹرولیم پرائس اسٹیبلائزیشن فنڈ کو قواعد و ضوابط پر مبنی نظام کے تحت چلانے پر اتفاق کیا گیا۔ اس کے علاوہ تیل کی سپلائی چین کو مکمل طور پر ڈیجیٹل بنانے اور شفافیت میں اضافے کے لیے بھی اہم تجاویز منظور کی گئیں۔
وفاقی وزیر علی پرویز ملک نے کہا کہ آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش اور خطے میں بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی توانائی منڈی متاثر ہو رہی ہے، اسی لیے پاکستان میں توانائی کے شعبے کو زیادہ مستحکم اور محفوظ بنانے کے لیے اصلاحات ناگزیر ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں اس وقت پیٹرول کی قیمت بنگلہ دیش اور سری لنکا کے مقابلے میں کم جبکہ بھارت کے برابر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مقامی سطح پر ڈیزل کی پیداوار بڑھانے کے لیے ریفائنری پالیسی میں اہم ترامیم تجویز کی گئی ہیں، جن سے درآمدی انحصار کم ہوگا اور توانائی کے شعبے کو تقویت ملے گی۔
وفاقی وزیر کے مطابق کمیٹی کا آئندہ اجلاس حتمی ہوگا، جس میں سفارشات کو آخری شکل دے کر وزیراعظم کو پیش کیا جائے گا تاکہ پیٹرولیم قیمتوں کا نظام مزید شفاف، پائیدار اور عوام دوست بنایا جا سکے۔

