والد کو یاد کرنے کا بھی عالمی دن آگیا۔ یہ دن ان بد قسمت لوگوں کے لئے تو ایک خبر ہو سکتا ہے جو جیتے جی اپنے والدین کو کسی آرام گاہ میں منتقل کر دیتے ہیں۔یہ دنیا کے وہ خطے ہیںجہاں خاندانی نظام کبھی پنپ نہیں سکا۔زندگی کی گہما گہمی، تیز رفتاری اور نفسا نفسی نے ایسے طرز معاشرت کو جنم دیا ہے جہاں والدین کے لئے گھروں اور دلوں میں جگہ کم پڑ جاتی ہے ،بچے بڑے ہوتے ہی جب اپنا آپ سنبھالنے لگتے ہیں تو والدین سے الگ ہو جاتے ہیں اور والدین بھی اسی زندگی کے عادی ہوتے ہیں۔ جہاں الگ گھر کی سہولت میسر نہ ہو وہاں والدین کو کسی سہولت مرکز میں پہنچا دیا جاتا ہے اور گاہے بگاہے ان کو دیکھنے پوچھنے وہاں چکر بھی لگا آتے ہیں۔نہ جانے یہ طرز زندگی ہے یا طرز درندگی؟
ہم ایک خوش قسمت خطے سے تعلق رکھتے ہیں جہاں کی تہذیب اور دین ہمیں والدین کے ساتھ جوڑے رکھتی ہے۔ہمارا تو ایک ایک دن، ایک ایک لمحہ اور ایک ایک سانس والدین کے بغیر کچھ بھی نہیں۔آج کے دن کو والد سے اظہار تشکر کے لئے مخصوص کر دیا گیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر والد اپنی ہمت اور استعداد کے مطابق اپنے بچوں کو سب کچھ دیتا ہے اور اس کے لئے وہ پل پل خود کو قربان کر رہا ہوتا ہے۔ خود کو چلچلاتی دھوپ کے سپرد کر کے بچوں کو گھنا سایہ فراہم کرنے ہی میں راحت محسوس کرتا ہے۔ ہر شخص کے پاس اپنے والد کی ایسی ہی کہانی موجود ہوتی ہے۔ میں اگر اپنے حوالے سے بات کروں تو آج ہم سب بہن بھائی جس بھی مقام پر ہیں وہ سب ہمارے والد( محترم عرفان صدیقی) کی ہی وجہ سے ہیں ۔ انہوں نے جس طرح ہماری تربیت کی اور ہمیں ایک باعزت و باکردار انسان بنانے کے لئے خود کو ا یک تربیتی ادارے میں ڈھالا وہ ہمارے لئے انتہائی قابل فخر ہے۔ انہوں نے ہمیں انگلی پکڑ کر چلنا سکھایا، زندگی کی دھوپ چھائوں سے آگاہ کیا، معیاری تعلیم کا بندوبست کیا اور ہمیں اپنے قدموں پر کھڑا ہو کر جینا سکھایا۔جو انگلی والد صاحب نے بچپن میں پکڑی وہ کبھی انہوں نے چھوڑی نہیں ، ان کا دست ِشفقت آخر دم تک ہمارے ساتھ ساتھ رہا۔ان کے لئے آج ’’شکریہ‘‘ کا لفظ بہت چھوٹامحسوس ہوتا ہے۔ہمیں جو رہنمائی اور تربیت والد صاحب سے ملی ، اس کے لئے ساری عمر اللہ کے حضور سجدہ شکر بجا لائیں تو بھی کم ہے۔
آج کے دن کی مناسبت سے ایک خیال آیا کہ کچھ لوگ زندگی میںبہت بلند، باوقار مقام اور پہچان بنا لیتے ہیں، ان کے والدین نے کیسی کیسی جدوجہد کی ہو گی اور اپنے بچوں کو کیسے کیسے مشکل حالات میں تعلیم، تربیت اور راہنمائی کا تسلسل برقرار رکھا ہوگا۔ دھیان علامہ اقبالؒ کے والد شیخ نور محمد ؒکی طرف چلا گیا۔ علامہ اقبالؒ اپنے والد کو ہی سب کچھ سمجھتے تھے اور انہیں ’’ پیر و مرشد ‘‘ کہ کر بلاتے تھے۔ اپنے والد کی طرف سے عطا کردہ عشق محمد ﷺ کے حوالے سے والد صاحب کے خراج تحسین پیش کرتے ہوئے علامہ اقبالؒ ’’ رموز بے خودی ‘‘ میں فرماتے ہیں
از پدرتا نام تو آموختم
آتش این آرزو افروختم
تا فلک دیرینہ ترسازد مرا
در قمار زندگی بازد مرا
آرزوی من جوان تر می شود
این کھن صھبا گران تر می شود
این تمنازیر خاکم گوہر است
در شبنم تاب ھمین یک اختر است
( جب سے مجھے آپ ﷺکا نام اپنے والد کی زبان سے ملا، اس دن سے اس آرزو ( عشق ِ رسول ﷺ)کی آگ میرے سینے میں بھڑک اٹھی ہے۔ جیسے جیسے عمر بڑھتی ہے اور آسمان مجھے بوڑھا کرتا ہے ،میری یہ خواہش ( عشق محمدﷺ)مزید تازہ اور شدید ہو جاتی ہے۔یہ خواہش میری وجود کی دھول میں چھپا ہوا جوہر اور میری رات کا اکیلا ستارہ ہے)
علامہ اقبالؒ کے والد شیخ نور محمدؒ انتہائی سادہ اور درویش صفت انسان تھے، پیشے کے اعتبار سے وہ ایک درزی تھے ۔ ان کی خاصیت برقعوں کی ٹوپیاں اور دیگر سلائی کا کام تھا اور یہی واحد ذریعہ آمدن تھا جس کے باعث کبھی کبھار ہاتھ تنگ بھی ہو جاتا ۔ تنگی روزگار کی وجہ سے کچھ عرصہ پارچہ دوزی ( cloth embroidery) کی ملازمت بھی کی مگر پھر اسے حلال کمائی نہ سمجھتے ہوئے چھوڑ دیا۔ بااصول ، اپنے دین پر کاربند اور خوف خدا رکھنے کے سبب گھر کا سارا ماحول انتہائی با برکت اور پاکیزہ تھا۔انہوں نے رسمی تعلیم کبھی حاصل نہیں کی لیکن فارسی اور اردو باآسانی پڑھ لیتے تھے۔مذہبی، متقی اور صوفی مزاج ہونے کی وجہ سے علما، دانشوروں اور صوفیا کی صحبت میں وقت گزارتے تھے۔شائستگی ، تصوف، زہد اور خشیت ِ الٰہی ان کی ذات کا نمایاں پہلو تھا ۔انہی اوصاف کی بدولت انہوں نے اتنا کچھ حاصل کر لیا تھا کہ لوگ انہیں ’’ فلسفی‘‘ کہ کر بلاتے تھے۔شیخ نور محمدؒ کے گھر میں عربی کتب ’’فتوحات مکیہ ‘‘ اور’’ فصوص الحکم‘‘ کا درس بھی دیا جاتا تھا جس میں علامہ اقبالؒ بھی شریک ہوتے ۔شیخ نور محمدؒ نے اقبالؒ کی روحانی اور اخلاقی تربیت پر بہت توجہ دی۔ اقبالؒ نے خود اپنے والد کی صحبت کو سراہا اور اسے اپنی تربیت کا بنیادی ذریعہ قرار دیا۔اقبالؒ کے اندر میلان تصوف اور روحانی گہرائی اپنے والد کی صحبت ہی کا اثر تھا۔اقبالؒ کا کہنا تھا کہ انہوں نے فلسفہ حیات تحقیق سے نہیںبلکہ والد صاحب سے ورثہ میں پایا۔اقبالؒ کی تصانیف میں عشق، خودی اور روحانی بیداری کے عناصر انہی کے اثرات سے آئے۔بچپن میں اقبا ل ؒنے ا یک فقیر کے ساتھ نامناسب برتائو کیا تو شیخ نور محمدؒ آبدیدہ ہو گئے اور کہا کہ قیامت کے دن میرے نبیﷺ مجھ سے اس بارے میںپوچھیں گے کہ تو نے اپنے بیٹے کی کیا تربیت کی؟اخلاقی تربیت سے جڑے اس واقعہ نے اقبالؒ کے ذہن میں عشق مصطفےﷺ کا دیپ بھی روشن کر دیا۔
اقبالؒ کے پیر ومرشد کا انتقال ۱۹۳۰ میں ہوا اور انہیں سیالکوٹ میں ’’ امام علی الحق‘‘ قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا۔ والد کی وفات پر علامہ اقبال ؒ نے ایک ـ’’ قطعہ تاریخ‘‘ لکھا جو ان کے والد کے کتبہِ لحد پر کندہ ہے۔ اس کے الفاظ کچھ یوں ہیں ۔
پدر و مرشدِ اقبال ازیں عالم رفت
ماھمہ راہرواں منزل ما مُلک ابد
ہاتف از حضرتِ حق خواست دو تاریخ رحیل
آمد آواز ’’ اثرِ رحمت‘‘ و ’’آغوشِ لحد‘‘
(اقبال ؒ کے والد و مرشد اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔ ہم سب مسافر ہیں اور ہمارا ابدی ٹھکانہ آخرت ہے۔ ایک آسمانی آواز نے اللہ کی بارگاہ سے رحلت کی دو تاریخیں مانگیں، جواب میں آواز آئی’’ اثرِ رحمت‘‘ اور ’’ آغوشِ لحد‘‘) ماہرین بتاتے ہیں کہ حروفِ ابجد کے حساب سے یہ دونوں الفاظ ۱۳۴۹ ہجری بنتے ہیں جو ان کے والد کی وفات کا سال ہے جو عیسوی اعتبار سے ۱۹۳۰ بنتا ہے۔
یہ’’ قطعہ تاریخ‘‘ علامہ اقبالؒ کی اپنے والد سے بے لوث محبت اور عقیدت کا اظہار کرتا ہے۔والد سے محبت کے اظہار کے اس عالمی دن کے موقع پر ہم شیخ نور محمدؒ کو سلام عقیدت پیش کرتے ہیں کہ انہوں نے ایک والد اور رہبر کا ایسا کردار نبھایا جس نے ہمیں اقبالؒ جیسا تابندہ ستارہ عطا کیا جو ہمیشہ ہماری راہوں کا تعین کرتا رہے گا۔