پنجاب پاکستان کا سب سے بڑا اور سب سے زیادہ آبادی والا صوبہ ہے۔ اس کی سیاسی، معاشی اور انتظامی اہمیت سے انکار ممکن نہیں، لیکن پنجاب کے اندر بھی ایک ایسا خطہ موجود ہے جو کئی دہائیوں سے اپنے حصے کے وسائل، ترقیاتی منصوبوں اور انتظامی اختیارات کے لئے آواز بلند کرتا رہا ہے۔ یہ خطہ سرائیکی وسیب یہ جنوبی پنجاب ہے ۔جس میں ملتان، بہاولپور اور ڈیرہ غازی خان ڈویژن شامل ہیں۔ جنوبی پنجاب کی سیاست، محرومیوں اور ترقیاتی مطالبات کا دردناک باب ہے۔ جس کا ہمیشہ ایک ہی سوال رہا ہے۔ ’’پنجاب کے بجٹ میں جنوبی پنجاب کا حصہ کتنا ہے؟‘‘ یہ سوال آج کا نہیں بلکہ گزشتہ چار دہائیوں سے سرائیکی وسیب کے سیاسی بیانیے کا بنیادی نکتہ ہے۔ 1985ء سے لے کر 2026 ء تک پنجاب میں مختلف حکومتیں آئیں اور گئیں، مسلم لیگ (ن)کے متعدد ادوار بھی گزرے، لیکن جنوبی پنجاب کے عوام کے سینے میں یہ پھانس موجود رہی ہے کہ صوبے کے وسائل کی تقسیم میں ان کے ساتھ مکمل انصاف کیوں نہیں ہوتا ؟ 1985 ء میں جب میاں نواز شریف پہلی بار پنجاب کے سیاسی افق پر نمودار ہوئے تب ملک پر ضیاء آمریت کا تسلط تھا۔۔ اس وقت ترقیاتی فنڈز کی تقسیم کا کوئی ایسا نظام موجود نہیں تھا جس میں جنوبی پنجاب کے لئے علیحدہ کوٹہ یا مخصوص حصہ مقرر کیا گیا ہو۔ منصوبے حکومت کی ترجیحات کے مطابق بنتے اور زیادہ تر توجہ بڑے شہروں پر مرکوز رہتی تھی۔ لاہور، فیصل آباد، گوجرانوالہ اور راولپنڈی جیسے شہر ترقیاتی سرگرمیوں کا مرکز و محور ہوتے جبکہ جنوبی پنجاب یا سرائیکی وسیب بنیادی انفراسٹرکچر، تعلیم، صحت اور صنعت کے شعبوں میں محرومیوں کا شیار رہتا۔ یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ جنوبی پنجاب کے لئے کچھ نہیں کیا گیا۔ سڑکیں بنیں، نہری نظام میں بہتری آئی، تعلیمی ادارے قائم ہوئے اور زرعی شعبے میں سرمایہ کاری بھی ہوئی، مگر مسئلہ مقدار کا نہیں بلکہ تناسب کا تھا۔ جنوبی پنجاب کے لوگوں کا موقف تھا کہ اگر آبادی، رقبے اور پسماندگی کو معیار بنایا جائے تو انہیں وسائل کا کہیں زیادہ حصہ ملنا چاہیے ۔
1990ء کی دہائی میں بھی یہی صورتحال برقرار رہی۔ پنجاب کے بجٹ میں جنوبی پنجاب کے لئے کوئی الگ در وا نہیں ہوا، نہ ہی کسی حکومت نے یہ واضح کیا کہ ترقیاتی پروگرام میں اس خطے کا حصہ کتنا ہے۔ یہی وجہ تھی کہ محرومی کا احساس پے در پے ایک سیاسی مطالبے میں ڈھل گیا۔پرویز مشرف کے دور میں مقامی حکومتوں کا نظام متعارف کرایا گیا تو آس کا ایک دروازہ کھلا کہ وسائل نچلی سطح تک منتقل ہوں گے۔ بعض اضلاع میں ترقیاتی کاموں میں تیزی بھی آئی، لیکن جنوبی پنجاب کے لیے الگ مالی شناخت پھر بھی ادھوری رہی۔ اب۔ یوں مسئلہ اپنی جگہ برقرار رہا۔2008 ء کے بعد جب شہباز شریف دوبارہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ بنے تاور اپنے نام کے ساتھ خادم اعلیٰ کا سابقہ سجایا تو ترقیاتی منصوبوں کی ایک نئی لہر آتی دکھائی دی۔ لاہور میں میٹرو بس، اورنج لائن ٹرین اور دیگر بڑے منصوبوں کااجراہوا۔ دوسری جانب جنوبی پنجاب میں بھی ملتان میٹرو بس، نشتر ہسپتال کی توسیع، دانش سکولوں اور متعدد سڑکوں کے منصوبے مکمل کئے گئے۔ حکومت کا موقف تھا کہ جنوبی پنجاب کو نظر انداز نہیں کیا جا رہا، لیکن ناقدین کا استدلال تھا کہ صوبے کے بڑے ترقیاتی اخراجات کا مرکز اب بھی وسطی پنجاب ہی ہے۔اسی عرصے میں جنوبی پنجاب صوبے کا مطالبہ غیر معمولی شدت اختیار کر گیا۔ سیاسی جماعتوں نے انتخابات میں سرائیکی عوام سے الگ صوبے یا زیادہ وسائل کے وعدے کیئے۔ عوامی دبا اس قدر بڑھا کہ حکومتوں کو پہلی مرتبہ اس مسئلے کو محض سیاسی نعرہ نہیں بلکہ ایک انتظامی حقیقت کے طور پر تسلیم کرنا پڑا۔حقیقی تبدیلی 2018ء کے بعد سامنے آئی جب تحریک انصاف نے اپنے دور اقتدار میں جنوبی پنجاب کے لئے الگ سیکرٹریٹ قائم کیا اور ترقیاتی بجٹ میں کم از کم 35فیصد حصہ مختص کرنے کا اصول متعارف کرایا گیا۔ یہ ایک تاریخی پیش رفت تھی کیونکہ پہلی بار جنوبی پنجاب کا حصہ محض سیاسی دعوے سے نکل کر بجٹ دستاویزات کا حصہ بنا۔ 2021-22ء کے ترقیاتی پروگرام میں تقریباً 189ارب روپے جنوبی پنجاب کے لئے مختص کئے گئے اور یہ اعلان کیا گیا کہ صوبائی ترقیاتی پروگرام کا کم از کم 35 فیصد حصہ سرائیکی کے خطے کو ملے گا۔اس فیصلے نے جنوبی پنجاب کی سیاست میں ایک نئی بحث چھیڑ دی۔
بعض حلقوں نے اسے تاریخی کامیابی قرار دیا جبکہ بعض ناقدین نے سوال اٹھایا کہ مختص شدہ رقم اور حقیقی اخراجات میں کتنا فرق ہے ؟ ان کا کہنا تھا کہ اصل کامیابی تب ہوگی جب بجٹ میں لکھی گئی رقم مکمل طور پر خرچ بھی ہو گی اور اس کے ثمرات عوام تک پہنچیں گے۔یہ نکتہ انتہائی اہم تھا، پاکستان میں اکثر ترقیاتی بجٹ اور ترقیاتی اخراجات میں واضح فرق ہوتا ہے۔ کئی منصوبے کاغذوں میں شامل رہتے ہیں لیکن مالی یا انتظامی وجوہات کی بنا پر مکمل نہیں ہو پاتے۔ جنوبی پنجاب کے حوالے سے بھی یہی سوال آج تک موجود ہے کہ مختص کیے گئے وسائل کس حد تک خطے کی محرومیوں کا ازالہ کرتے ہیں۔2022 ء کے بعد مسلم لیگ(ن)کی حکومت نے بھی جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ اور 35فیصد حصے کے اصول کو برقرار رکھا۔ یہ اس بات کا اعتراف تھا کہ جنوبی پنجاب کے مطالبات اب محض سیاسی نعرے نہیں بلکہ ایک مستقل پالیسی مسئلہ بن چکے ہیں۔ تاہم معاشی مشکلات، بڑھتے ہوئے قرضوں اور مالی دبا نے ترقیاتی بجٹ پر اثرات مرتب کئے جس کے باعث کئی منصوبوں کی رفتار سست ہوگئی۔2026 ء تک پہنچتے پہنچتے جنوبی پنجاب یا سرائیکی وسیب کا سوال صرف بجٹ کے فیصد تک محدود نہیں رہا۔ اب بحث اس بات پر ہو رہی ہے کہ کیا وسائل کی تقسیم نے واقعی خطے کی محرومی کم کی ہے؟ کیا ملتان، بہاولپور، راجن پور، لیہ، مظفرگڑھ، کوٹ ادو، لودھراں اور ڈیرہ غازی خان کے عوام کی زندگیوں میں وہ تبدیلی آئی ہے جس کا وعدہ کیا جاتا رہا؟اگر دیانت داری سے جائزہ لیا جائے تو جواب مکمل طور پر ہاں یا مکمل طور پر نہیں میں نہیں دیا جا سکتا۔ جنوبی پنجاب میں انفراسٹرکچر، تعلیم اور صحت کے شعبوں میں بہتری دیکھنے کی حد تک ضرور آئی ہے، لیکن خطے کی مجموعی معاشی پسماندگی، بے روزگاری، صنعتی ترقی اور بنیادی سہولیات کی کمی اب بھی ایک زندہ حقیقت ہیماصل مسئلہ صرف فنڈز کی مقدار نہیں بلکہ ترقیاتی ترجیحات کا ہے۔ جب تک جنوبی پنجاب میں صنعت، زراعت، آبپاشی، تعلیم اور صحت کے شعبوں میں پائیدار سرمایہ کاری نہیں ہوگی، محض بجٹ میں فیصد بڑھانے سے مسائل مکمل طور پر حل نہیں ہوا کرتے ،زمینی حقائق کچھ اور،ہیں ۔جنوبی پنجاب کے عوام آج بھی یہ سوال پوچھتے ہیں کہ اگر انہیں 35 فیصد حصہ مل رہا ہے تو اس کے نتائج زمین پر کیوں پوری طرح دکھائی نہیں دیتے ؟ دوسری طرف حکومتیں یہ موقف پیش کرتی رہی ہیں کہ ترقی ایک تدریجی عمل ہے اور کئی عشروں کی محرومیاں چند برسوں میں مٹائی نہیں جا سکتیں۔حقیقت شاید ان دونوں موقفوں کے درمیان کہیں موجود ہے۔ جنوبی پنجاب کی محرومیوں کی تاریخ طویل ہے اور ان کا ازالہ بھی وقت مانگتا ہے۔ تاہم یہ حقیقت اپنی جگہ قائم ہے کہ 1985ء سے 2018 ء تک جو مطالبہ سیاسی جلسوں اور احتجاجی نعروں تک محدود تھا، وہ آج سرکاری بجٹ اور انتظامی ڈھانچے کا حصہ بن چکا ہے۔اب آنے والے برسوں میں اصل امتحان یہ نہیں ہوگا کہ جنوبی پنجاب یا سرائیکی وسیب کو بجٹ میں کتنا فیصد حصہ دیا جاتا ہے بلکہ یہ ہوگا کہ اس حصے کو کس حد تک شفاف، موثر اور عوامی فلاح کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ کیونکہ ترقی کا اصل پیمانہ بجٹ کی کتابوں میں لکھی گئی رقوم نہیں بلکہ عوام کی زندگیوں میں آنے والی بہتری ہوتی ہے، اور سرائیکی وسیب یا جنوبی پنجاب کے عوام کی کشتی آج بھی محرومیوں کے منجدھار میں میں ڈبکیاں لے رہی ہے ، بہتری کا وہ خواب جو اس خطے کے عوام کی آنکھوں میں ہر حکومت سجاتی رہی ہے نہ جانے اس کی تعبیر کے راستے میں ابھی اور کتنے کا نٹے ہیں جو چننے باقی ہیں ؟