سیدنا امام حسن اور سیدنا امام حسین اسلامی تاریخ کی وہ عظیم اور مقدس شخصیات ہیں جن کا ذکر آتے ہی محبت، عقیدت، احترام اور ادب کے جذبات دلوں میں موجزن ہو جاتے ہیں۔ یہ دونوں عظیم ہستیاں خاتم النبیین حضرت محمد مصطفی ﷺ کے نواسے، حضرت علی المرتضیؓ اور حضرت فاطمۃ الزہرا ؓکے نورِ نظر اور اہلِ بیتِ اطہار کے درخشاں ستارے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں ایسی عظمت اور رفعت عطا فرمائی کہ قیامت تک آنے والے مسلمان ان کے نام کو عزت و احترام کے ساتھ لیتے رہیں گے۔ ان سے محبت صرف ایک جذباتی وابستگی نہیں بلکہ ایمان کا تقاضا اور رسول اکرم ﷺ کی تعلیمات کا اہم حصہ ہے۔رسول اللہ ﷺ کو اپنے نواسوں سے بے پناہ محبت تھی۔ آپ ﷺ ان کے ساتھ شفقت، محبت اور رحمت کا ایسا معاملہ فرماتے تھے جو رہتی دنیا تک امت کے لئے نمونہ بن گیا۔ آپ ﷺ انہیں اپنے کندھوں پر بٹھاتے، سینے سے لگاتے، گود میں کھلاتے اور ان کے لئے دعائیں فرماتے تھے۔ احادیثِ مبارکہ میں متعدد مقامات پر سیدنا حسنؓ اور سیدنا حسینؓ کی فضیلت اور عظمت بیان ہوئی ہے۔ ایک موقع پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: حسنؓ اور حسینؓ دنیا میں میرے دو پھول ہیں۔ اس فرمان سے اندازہ ہوتا ہے کہ آپ ﷺ کے دل میں ان دونوں کے لئے کس قدر محبت موجود تھی۔ پھول انسان کے لئے خوشبو، تازگی اور مسرت کا باعث ہوتے ہیں، اسی طرح سیدنا حسنؓ اور سیدنا حسینؓ بھی رسول اللہ ﷺ کے لئے باعث خوشی اور باعثِ سکون تھے۔نبی کریم ﷺ نے ان دونوں عظیم ہستیوں کے مقام و مرتبے کو واضح کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ حسنؓ اور حسینؓ جنتی نوجوانوں کے سردار ہیں۔ یہ ایک ایسی عظیم بشارت ہے جو کسی اور کو اس انداز میں نصیب نہیں ہوئی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک ان کا مقام کس قدر بلند اور عظیم ہے۔ جب رسول اللہ ﷺ کسی شخصیت کی فضیلت بیان فرمائیں تو اس کے بعد کسی اور گواہی کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔
اسلام میں اہلِ بیت رسول ﷺ سے محبت کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ قرآن کریم میں بھی اہلِ بیت کی طہارت اور پاکیزگی کا ذکر موجود ہے۔ سیدنا حسنؓ اور سیدنا حسینؓ چونکہ اہلِ بیت کے معزز افراد ہیں، اس لئے ان سے محبت درحقیقت اہلِ بیت سے محبت ہے اور اہلِ بیت سے محبت دراصل رسول اللہ ﷺ سے محبت کا اظہار ہے۔ ایک سچا مسلمان اپنے نبی ﷺ کی ہر نسبت سے محبت کرتا ہے اور آپ ﷺ کے خاندان سے عقیدت رکھتا ہے۔رسول اللہ ﷺ کا اندازِ محبت اس قدر نمایاں تھا کہ صحابہ کرامؓ بھی اسے اپنی آنکھوں سے دیکھتے تھے۔ حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سیدنا حسنؓ اور سیدنا حسین ؓکے بارے میں فرمایا کہ یہ دونوں دنیا میں میرے پھول ہیں۔ اسی طرح ایک حدیث میں آتا ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: اے اللہ!میں ان دونوں سے محبت کرتا ہوں، تو بھی ان سے محبت فرما اور ان سے محبت کرنے والوں سے بھی محبت فرما۔ یہ دعا اس بات کی روشن دلیل ہے کہ جو شخص سیدنا حسنؓ اور سیدنا حسینؓ سے محبت رکھتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی محبت کا مستحق بنتا ہے۔سیدنا حسنؓ نہایت بردبار، نرم خو، کریم النفس اور صلح پسند شخصیت کے مالک تھے۔ آپ نے امتِ مسلمہ کے اتحاد اور اتفاق کے لئے اپنی خلافت سے دستبردار ہو کر ایک ایسی مثال قائم کی جو تاریخ میں سنہری حروف سے لکھی گئی۔ آپ نے اپنی ذات اور اقتدار پر امت کے اتحاد کو ترجیح دی۔ یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے آپ کے بارے میں پہلے ہی پیش گوئی فرمائی تھی کہ میرا یہ بیٹا سردار ہے اور اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے مسلمانوں کے دو بڑے گروہوں میں صلح کرائے گا۔ بعد میں یہ پیش گوئی حرف بہ حرف پوری ہوئی۔دوسری جانب سیدنا امام حسینؓ حق، صداقت، شجاعت، استقامت اور قربانی کی ایسی مثال بنے جس کی نظیر تاریخ میں کم ہی ملتی ہے۔ آپ نے دین کی سربلندی اور حق کے تحفظ کے لئے عظیم قربانی پیش کی۔ میدانِ کربلا میں آپ کی ثابت قدمی، صبر اور اللہ تعالیٰ پر کامل بھروسہ پوری امت کے لئے مشعلِ راہ ہے۔ آپ نے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ حق کے راستے میں مشکلات اور آزمائشیں آ جائیں تو بھی سچائی کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے۔
سیدنا حسنؓ اور سیدنا حسینؓ کی تربیت براہِ راست رسول اللہ ﷺ کی نگرانی میں ہوئی۔ انہیں بچپن ہی سے اعلیٰ اخلاق، تقوی، عبادت، علم اور انسانیت کی خدمت کا درس ملا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی زندگی کا ہر پہلو مسلمانوں کے لیے نمونہ ہے۔ ان کی سیرت ہمیں صبر، تحمل، عفو و درگزر، ایثار، تقویٰ اور اللہ تعالیٰ کی رضا پر راضی رہنے کا سبق دیتی ہے۔صحابہ کرامؓ بھی سیدنا حسنؓ اور سیدنا حسینؓ سے بے حد محبت کرتے تھے۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ، حضرت عمر فاروقؓ اور دیگر اکابر صحابہؓ ان کا خصوصی احترام کرتے تھے۔ حضرت عمر فاروقؓ فرمایا کرتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ کی نسبت کی وجہ سے ان دونوں کا مقام بہت بلند ہے۔ صحابہ کرام ؓکی یہ محبت اس بات کی دلیل ہے کہ اہلِ بیت سے محبت اسلام کی بنیادی تعلیمات میں شامل ہے۔مسلمانوں کی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ جن لوگوں نے اہلِ بیتِ رسول ﷺ سے محبت کی، اللہ تعالیٰ نے انہیں عزت و وقار عطا فرمایا۔ اہلِ بیت سے محبت امت کو جوڑنے اور دلوں کو قریب کرنے کا ذریعہ ہے۔ بدقسمتی سے بعض اوقات مختلف فرقہ وارانہ تعصبات اس محبت کو متاثر کرنے کی کوشش کرتے ہیں، حالانکہ سیدنا حسن ؓاور سیدنا حسینؓ پوری امت کے مشترکہ سرمایہ ہیں۔ ان کی محبت کسی ایک طبقے یا جماعت تک محدود نہیں بلکہ ہر مسلمان کے ایمان کا حصہ ہے۔
( جاری ہے )