ہر سال عالمی یومِ مہاجرین دنیا کو ان کروڑوں انسانوں کی یاد دلاتا ہے جو جنگوں، قبضوں، سیاسی تنازعات اور ریاستی جبر کے باعث اپنے گھروں سے محروم ہوئے۔ دنیا کے مختلف خطوں میں بے گھر افراد کی اپنی اپنی داستانیں ہیں، لیکن کشمیری عوام کا المیہ ان چند طویل ترین انسانی سانحات میں شامل ہے جو سات دہائیوں سے زیادہ عرصے سے جاری ہیں۔ یہ صرف چند لاکھ افراد کی ہجرت کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک پوری قوم کی شناخت، تاریخ، ثقافت اور مستقبل سے جڑا ہوا سوال ہے، جسے عالمی سیاست نے مسلسل نظر انداز کیا ہے۔
جب کسی انسان سے اس کا گھر چھن جاتا ہے تو وہ صرف اینٹوں اور پتھروں سے بنی ایک عمارت نہیں کھوتا، بلکہ اپنی یادیں، اپنے رشتے، اپنی ثقافت اور اپنی شناخت بھی کھو دیتا ہے۔ یہی دکھ لاکھوں کشمیری خاندان نسل در نسل اپنے ساتھ اٹھائے ہوئے ہیں۔ ایسے بے شمار نوجوان آج دنیا کے مختلف ممالک میں پیدا ہوئے جنہوں نے کبھی اپنی آبائی سرزمین نہیں دیکھی، لیکن ان کے گھروں میں آج بھی کشمیر کی کہانیاں سنائی جاتی ہیں، ان کے دل آج بھی اسی سرزمین کے لیے دھڑکتے ہیں، اور ان کی شناخت کا سب سے مضبوط حوالہ آج بھی کشمیر ہے۔کشمیر دنیا کے ان خطوں میں شمار ہوتا ہے جنہیں قدرت نے غیر معمولی حسن سے نوازا۔ برف سے ڈھکے پہاڑ، سرسبز وادیاں، نیلگوں جھیلیں، بہتے چشمے اور خوشگوار موسم نے اسے ؍جنت نظیر کا لقب دیا۔ ایک وقت تھا جب دنیا بھر سے لوگ سکون، صحت اور فطری حسن سے لطف اندوز ہونے کے لیے کشمیر کا رخ کرتے تھے۔ لیکن افسوس کہ آج اسی وادی کا ذکر خوبصورتی سے زیادہ سیاسی کشیدگی، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، فوجی موجودگی اور بے گھر ہونے والے لاکھوں انسانوں کے حوالے سے کیا جاتا ہے۔
1947 میں برصغیر کی تقسیم کے ساتھ ہی ریاست جموں و کشمیر کا مسئلہ ایک ایسے تنازع میں تبدیل ہو گیا جس نے پورے خطے کو عدم استحکام سے دوچار کر دیا۔ اس بحران کے ابتدائی مراحل ہی میں جموں کے مسلمانوں کے خلاف بڑے پیمانے پر قتل و غارت اور جبری نقل مکانی کے واقعات رونما ہوئے۔ لاکھوں افراد اپنے آبائی گھروں، زمینوں اور جائیدادوں سے محروم ہو کر مہاجرت پر مجبور ہوئے۔ اس کے بعد آنے والی دہائیوں میں بھی حالات معمول پر نہ آ سکے اور ہزاروں خاندان مسلسل عدم تحفظ، تشدد اور بے یقینی کی فضا میں زندگی گزارتے رہے۔گزشتہ کئی عشروں کے دوران بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں بھارتی مظالم اور انسانی حقوق سے متعلق مسلسل خلاف ورزیوں نے ہزاروں خاندانوں کو مزید نقل مکانی پر مجبور کیا۔ بڑی تعداد میں کشمیری آزاد جموں و کشمیر، پاکستان اور دنیا کے مختلف ممالک میں آباد ہوئے، مگر ان کی ہجرت آج تک ختم نہیں ہوئی۔ وہ جسمانی طور پر اگرچہ اپنے وطن سے دور ہیں، لیکن ذہنی اور جذباتی طور پر آج بھی کشمیر ہی میں زندہ ہیں۔
یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ بے گھری صرف موجودہ نسل کو متاثر نہیں کرتی بلکہ آنے والی نسلوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔ جلاوطنی میں پیدا ہونے والے بچے اپنے بزرگوں سے ان گلیوں، محلوں، کھیتوں اور پہاڑوں کی داستانیں سنتے ہیں جہاں ان کے خاندان صدیوں آباد رہے تھے۔ ان کے لیے کشمیر صرف ایک جغرافیائی خطہ نہیں بلکہ اپنی شناخت، اپنے ماضی اور اپنے مستقبل کی علامت ہے۔
گزشتہ برسوں میں انسانی حقوق کے مختلف مبصرین اور بین الاقوامی اداروں نے بھی مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورتحال پر متعدد بار تشویش کا اظہار کیا ہے۔ سیاسی آزادیوں پر پابندیوں، شہری حقوق سے متعلق شکایات اور آبادی کے تناسب میں ممکنہ تبدیلیوں سے متعلق اقدامات کو خطے کے مستقبل کے لیے اہم قرار دیا جاتا رہا ہے۔ کشمیری عوام ان پالیسیوں کو اپنی تاریخی، ثقافتی اور مذہبی شناخت کے لیے ایک سنجیدہ خطرہ تصور کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک جبری بے دخلی، سیاسی بے اختیاری اور آبادیاتی تبدیلیوں کا خدشہ دراصل ایک ہی مسئلے کے مختلف پہلو ہیں۔
آج بھی لاکھوں کشمیری ایسے ہیں جو اپنے گھروں کی واپسی کا خواب آنکھوں میں سجائے ہوئے ہیں۔ ان کے لیے آزادی صرف ایک سیاسی نعرہ نہیں بلکہ اپنے آبائی گھروں میں عزت اور وقار کے ساتھ زندگی گزارنے کی خواہش ہے۔ وہ خیرات یا خصوصی مراعات نہیں چاہتے، بلکہ وہ اپنے بنیادی انسانی حقوق، اپنی شناخت کے تحفظ، اپنی سرزمین پر باوقار زندگی اور اپنے مستقبل کے تعین کے حق کا مطالبہ کرتے ہیں۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ کشمیر کا مسئلہ صرف دو ممالک کے درمیان سرحدی تنازع نہیں رہا۔ اس کے اثرات لاکھوں عام شہریوں کی زندگیوں، خاندانوں اور آنے والی نسلوں تک پھیل چکے ہیں۔ جب تک اس تنازع کا کوئی منصفانہ، پائیدار اور پرامن حل تلاش نہیں کیا جاتا، اس وقت تک لاکھوں بے گھر کشمیریوں کی اپنے گھروں میں باعزت واپسی ایک خواب ہی رہے گی۔
عالمی برادری کے لیے یہ بھی سوچنے کا مقام ہے کہ اگر مہاجرین کے حقوق کا عالمی دن صرف تقاریر اور بیانات تک محدود رہے گا تو اس کا حقیقی مقصد پورا نہیں ہو سکے گا۔ بے گھر افراد کی بحالی، ان کے حقوق کا تحفظ اور ان کی واپسی کے لیے عملی اقدامات ہی عالمی انسانی اقدار کی اصل کسوٹی ہیں۔ کشمیری مہاجرین کا معاملہ بھی اسی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔
وقت آ چکا ہے کہ دنیا کشمیریوں کی آواز کو محض ایک سیاسی اختلاف کے طور پر نہیں بلکہ ایک انسانی مسئلے کے طور پر سنے۔ انصاف کا تقاضا یہی ہے کہ ہر اس انسان کو، جو اپنی سرزمین سے محروم ہوا، باوقار زندگی اور اپنے مستقبل کے تعین کا حق دیا جائے۔ جب تک لاکھوں بے گھر کشمیری اپنے وطن میں امن، عزت اور آزادی کے ساتھ زندگی گزارنے کے قابل نہیں ہو جاتے، اس وقت تک عالمی ضمیر کے سامنے یہ سوال موجود رہے گا کہ کیا انسانی حقوق واقعی سب کے لیے برابر ہیں، یا پھر ان کا اطلاق بھی عالمی سیاست کے مفادات کے تابع ہے۔