امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری مدت صدارت کے چھ ماہ مکمل ہو چکے ہیں اور اس عرصے میں مشرقِ وسطیٰ کے حوالے سے ان کی حکمت عملی نے جہاں وقتی سنسنی پیدا کی، وہیں خطے میں دیرپا استحکام کے امکانات کو مزید کمزور بھی کیا۔ طاقت کے مظاہرے، اقتصادی دباؤ اور میڈیا کے ذریعے تاثر سازی پر مبنی یہ پالیسی بظاہر فعال ضرور دکھائی دیتی ہے مگر اس میں وہ سنجیدگی اور ہم آہنگی مفقود ہے جو کسی عالمی طاقت کو درکار ہوتی ہے۔ایران کے معاملے میں امریکہ کا رویہ نہایت جارحانہ رہا۔ جون 2025 میں اسرائیل کے تعاون سے ایران کی جوہری تنصیبات پر حملے کیے گئے، جنہیں امریکی قیادت نے فیصلہ کن اور تباہ کن قرار دیا۔ تاہم، زمینی حقائق اس بیانیے کی تائید نہیں کرتے۔ ایران کی جوہری صلاحیت مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی بلکہ اس میں بعض پہلو ایسے ہیں جو اب بھی تشویش کا باعث ہیں۔ ان حملوں نے وقتی طور پر ایران کی پیش رفت کو ضرور متاثر کیامگر نہ تو یہ مسئلے کا مستقل حل ہے اور نہ ہی خطے میں امن کا ضامن۔ فلسطین کے مسئلے پر امریکی حکمت عملی مکمل طور پر اسرائیل نواز رہی۔ غزہ میں انسانی المیے کی شدت، مغربی کنارے میں اسرائیلی توسیع پسندی اور مشرقی یروشلم کی حیثیت جیسے بنیادی سوالات پر کوئی ٹھوس پیش رفت سامنے نہیں آئی۔ صدر ٹرمپ کے اپنے الفاظ میں، غزہ قحط کے دہانے پر ہے۔ اگر خود امریکی صدر کو اس بحران کا اندازہ ہے تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ واشنگٹن اس انسانی المیے کے حل کے لیے عملی اقدامات کیوں نہیں کر رہا؟ اس بے عملی نے نہ صرف امریکہ کے ثالثی کردار کو ختم کیا ہے بلکہ دہشت گرد گروہوں کو بھی پروپیگنڈا کا نیا مواد فراہم کیا ہے۔شام کے معاملے میں البتہ ایک واضح پالیسی تبدیلی دیکھی گئی۔ امریکی پابندیوں میں نرمی اور صدر ٹرمپ کی سعودی عرب میں شامی قیادت سے ملاقات نے اس امکان کو جنم دیا ہے کہ واشنگٹن اب دمشق کے ساتھ روابط بحال کر کے شامی ریاست کو ازسرِنو استحکام دینے کے خواہاں ہے، مگر اس عمل کی راہ میں داخلی تقسیم، بالخصوص دروز اور عرب کمیونٹی کے درمیان جھڑپیں، بڑی رکاوٹ بن سکتی ہیں۔لبنان اور یمن جیسے حساس خطوں میں امریکی پالیسی کمزور اور غیر مربوط رہی۔ لبنان میں اگرچہ نئی حکومت سے امریکی روابط بحال ہوئے ہیں لیکن اسرائیلی جارحیت اور سرحدی خلاف ورزیوں نے اس حکومت کو کمزور کر دیا ہے۔ یمن میں امریکی فضائی حملے حوثیوں کی صلاحیتوں کو وقتی طور پر متاثر کرنے میں کامیاب ہوئے مگر جنگ کے بنیادی اسباب جوں کے توں برقرار ہیں۔ بحیرہ احمر میں جہازرانی پر حملے بدستور جاری ہیں جس سے عالمی تجارت بھی متاثر ہو رہی ہے۔عراق کا معاملہ تو ٹرمپ انتظامیہ کی ترجیحات سے تقریباً خارج ہی نظر آتا ہے۔ نہ کوئی نئی پالیسی دی گئی، نہ ہی موجودہ امریکی فوجی موجودگی کے حوالے سے کسی واضح حکمت عملی کا اعلان کیا گیا۔ اس خاموشی نے عراق کے داخلی حالات کو مزید غیر یقینی بنا دیا ہے۔انسداد دہشت گردی کے میدان میں بھی امریکی اقدامات نمائشی نوعیت کے رہے۔ فضائی حملے، مالیاتی پابندیاں اور انٹیلی جنس تعاون تو جاری رہا مگر ایک جامع، علاقائی حکمت عملی کی غیر موجودگی نے ان کوششوں کو غیر مؤثر بنا دیا۔ دہشت گرد تنظیمیں فلسطینی عوام کی محرومیوں کو استعمال کرتے ہوئے اپنی صفوں میں نئی بھرتیاں کر رہی ہیں اور امریکہ کی موجودہ حکمت عملی اس رجحان کو روکنے میں ناکام نظر آتی ہے۔
اقتصادی سفارت کاری کے میدان میں صدر ٹرمپ نے سعودی عرب، امارات اور قطر کا دورہ کیا اور نئے تجارتی مواقع کی امید دلائی۔ تاہم اس دورے کے بعد جو وعدے اور معاہدے کیے گئے، ان پر عملدرآمد کی کوئی واضح حکمت عملی سامنے نہیں آئی۔ قطر کی جانب سے امریکہ کو ایک پرتعیش طیارے کا تحفہ دینا، جسے کانگریس میں اخلاقی طور پر متنازع قرار دیا گیا، اس سفارتی دورے کی سنجیدگی کو مشکوک بنا دیتا ہے۔ٹرمپ انتظامیہ کی خارجہ پالیسی کا سب سے بڑا مسئلہ اس کی تاثر پر مبنی فطرت ہے۔ میڈیا مہمات، بیانات اور سیاسی شو بازی نے سفارت کاری کی اصل روح کو پس پشت ڈال دیا ہے۔ ایران پر حملے کے بعد نکال باہر کر دینے کے دعوے اور اسرائیل کے ساتھ غیر متزلزل حمایت کا اعلان زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتے۔ دنیا کے پیچیدہ مسائل صرف بیانات سے حل نہیں ہوتے، ان کے لیے مسلسل محنت، حکمت اور قابلِ اعتماد شراکت داریاں درکار ہوتی ہیں۔اس پس منظر میں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کے اندرونی فیصلے، بالخصوص وزارتِ خارجہ اور دفاع میں مسلسل تبدیلیاں، مشرقِ وسطیٰ میں امریکی اثر و رسوخ کو متاثر کر رہی ہیں۔ سفارتی عملے میں کمی، پالیسی سازی کے عمل میں عدم تسلسل، اور اہم سفارت خانوں میں خالی عہدے امریکہ کی حیثیت کو کمزور کر رہے ہیں۔ یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ ٹرمپ کی مشرقِ وسطیٰ پالیسی وقتی اثرات، تجارتی مفادات اور داخلی سیاسی ضروریات پر مبنی ہے۔ اس میں نہ تو طویل المدت وژن ہے، نہ علاقائی ہم آہنگی کا احساس اور نہ ہی عالمی ذمہ داری کا ادراک ہے۔ دنیا کے سب سے نازک خطے میں اس قسم کی پالیسی دیرپا امن کی نہیں بلکہ مزید کشیدگی کی نوید دیتی ہے۔