Search
Close this search box.
منگل ,30 جون ,2026ء

والدین اور نیک بیوی مرد کےلئےنعمت

اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ سب سے عظیم نعمتوں میں ایک نیک والدین اور ایک نیک بیوی شامل ہیں۔ ایک باوقار مرد کی عظمت اس کی دولت، عہدے یا طاقت سے نہیں بلکہ اس محبت، احترام اور حسنِ سلوک سے پہچانی جاتی ہے جو وہ ان لوگوں کے ساتھ کرتا ہے جنہیں اللہ نے اس کی امانت بنایا ہے۔قرآنِ کریم بار بار والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کا حکم دیتا ہے، خصوصا ًاس وقت جب وہ بڑھاپے کو پہنچ جائیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اور تمہارے رب نے فیصلہ کر دیا ہے کہ تم اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو، اور والدین کے ساتھ بہترین سلوک کرو۔ اگر ان میں سے ایک یا دونوں تمہارے سامنے بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو انہیں اف تک نہ کہو، نہ انہیں جھڑکو، بلکہ ان سے عزت اور محبت کے ساتھ بات کرو۔(سورہ الالسراء 17:23) والدین ایک مرد کی زندگی کا تاج ہیں۔ انہی کے ذریعے اللہ نے اسے دنیا میں بھیجا۔ انہوں نے محبت سے اس کی پرورش کی، اپنی آسائشیں قربان کیں، اس کے مستقبل کے لئے جدوجہد کی اور ہر مشکل میں اس کا سہارا بنے۔ دنیا کی کوئی کامیابی ان کے احسانات کا بدلہ نہیں بن سکتی۔ جب وہ عمر کے آخری حصے میں داخل ہوں تو ان کی خدمت، محبت، عزت اور دیکھ بھال صرف اخلاقی ذمہ داری نہیں بلکہ اللہ کی عبادت اور شکر گزاری بھی ہے۔ان عظیم ذمہ داریوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ ایک اور قیمتی امانت بھی مرد کے سپرد کرتا ہے اور وہ ہے اس کی بیوی۔جب ایک عورت نکاح کرتی ہے تو وہ اپنے والدین، اپنے گھر، اپنے بہن بھائیوں، اپنی بچپن کی یادوں اور اپنی مانوس دنیا کو چھوڑ کر صرف ایک مرد پر اعتماد کرتے ہوئے اس کے گھر آتی ہے وہ اپنا مستقبل اس کے سپرد کرتی ہے، اس یقین کے ساتھ کہ وہ اس کی عزت کی حفاظت کرے گا، اس کے جذبات کا احترام کرے گا، اور اس کے لئے اپنے گھر کو سکون، محبت اور امن کا گہوارہ بنائے گا۔اللہ تعالیٰ میاں بیوی کے تعلق کو یوں بیان فرماتا ہے:اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تمہارے لئے تم ہی میں سے جوڑے پیدا کئے تاکہ تم ان کے پاس سکون حاصل کرو، اور اس نے تمہارے درمیان محبت اور رحمت رکھ دی۔(سورہ الروم 30:21)
ایک نیک بیوی واقعی اپنے شوہر کے دل کی ملکہ ہوتی ہے۔ وہ تخت یا تاج کی خواہش نہیں رکھتی بلکہ اپنی محبت، وفاداری، صبر، قربانی اور خلوص سے اپنے شوہر کے دل پر راج کرتی ہے وہ اس کے غم میں شریک ہوتی ہے، خوشیوں میں ساتھ کھڑی رہتی ہے، بچوں کی بہترین پرورش کرتی ہے، گھر کو جنت بناتی ہے اور اکثر اس کی کامیابی کے پیچھے خاموش طاقت بن جاتی ہے۔اسی لیے نکاح صرف ایک قانونی معاہدہ نہیں بلکہ محبت، رحمت، اعتماد، وفاداری اور باہمی احترام پر قائم ایک مقدس عہد ہے۔ایک سمجھدار شوہر جانتا ہے کہ اس کی بیوی اس کی خادمہ نہیں بلکہ اس کی شریکِ حیات ہے۔ وہ محبت، عزت، قدر اور حفاظت کی مستحق ہے۔ اس سے نرمی سے بات کرنا، اس کی تعریف کرنا، اس کی رائے کا احترام کرنا اور اس کے جذبات کی قدر کرنا ایک صالح شوہر کی پہچان ہے۔رسول اللہ ﷺ نے شوہروں کے لیے بہترین نمونہ پیش فرمایا۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:تم میں بہترین وہ ہے جو اپنی بیوی کے لئے بہترین ہو، اور میں تم سب میں اپنی بیویوں کے لئے سب سے بہتر ہوں۔(جامع ترمذی)
ایک اور حدیث میں فرمایا:ایمان کے اعتبار سے کامل ترین مومن وہ ہے جس کا اخلاق سب سے بہتر ہو، اور تم میں بہترین وہ ہیں جو اپنی عورتوں کے لیے بہترین ہیں۔(جامع ترمذی) ایک حقیقی مرد کبھی اپنی بیوی کی تذلیل نہیں کرتا، اس کی قربانیوں کو معمولی نہیں سمجھتا، نہ اس کی عزتِ نفس کو ٹھیس پہنچاتا ہے۔ وہ اس کی حفاظت کرتا ہے، اس کی عزت کرتا ہے، اس کی بات سنتا ہے اور اپنے گھر کو خوف نہیں بلکہ محبت اور رحمت کا گھر بناتا ہے۔اس کی طاقت اپنی بیوی پر غلبہ حاصل کرنے میں نہیں بلکہ اس کی حفاظت اور خدمت کرنے میں ہے۔اس کی قیادت سختی میں نہیں بلکہ عدل، شفقت اور حسنِ اخلاق میں ظاہر ہوتی ہے۔اور اس کی عظمت اونچی آواز میں نہیں بلکہ گہری محبت میں نظر آتی ہے۔اسی طرح ایک نیک بیوی بھی اپنے شوہر کا احترام کرتی ہے، نیکی میں اس کا ساتھ دیتی ہے، گھر اور بچوں کی حفاظت کرتی ہے اور ہر آسانی اور مشکل میں اس کی رفیق بنی رہتی ہے۔ کامیاب ازدواجی زندگی وہ ہے جس میں میاں بیوی ایک دوسرے پر غالب آنے کی نہیں بلکہ ایک دوسرے کے ساتھ بھلائی کرنے کی کوشش کریں۔سب سے خوشحال گھر وہ نہیں ہوتے جہاں کبھی اختلاف نہ ہو، بلکہ وہ ہوتے ہیں جہاں معافی غصے سے بڑی ہو، احترام انا سے بلند ہو، اور محبت ہر اختلاف پر غالب آ جائے۔
ایک صالح مرد اپنی زندگی میں دو عظیم امانتوں کا امین ہوتا ہے اس کے والدین، جو اس کی زندگی کا تاج ہیں، اور اس کی بیوی، جو اس کے دل کی ملکہ ہے۔ وہ دونوں کے حقوق ادا کرنے کی کوشش کرتا ہے، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ ہر نیکی کو اللہ تعالیٰ دیکھ رہا ہے اور اس کا بہترین اجر عطا فرمائے گا۔اللہ تعالیٰ ہر بیٹے کو اپنے والدین کی خدمت کی توفیق عطا فرمائے۔ہر شوہر کو اپنی بیوی کے ساتھ محبت، عزت اور رحمت سے پیش آنے کی توفیق عطا فرمائے۔اور ہر بیوی کو ایسا شوہر عطا فرمائے جو اس کے لئے سکون، تحفظ اور محبت کا ذریعہ بنے۔اللہ تعالیٰ ہر گھر کو ایمان، محبت، احترام اور رحمت کا گلستان بنا دے، جہاں سے نیک نسلیں پروان چڑھیں۔اے ہمارے رب!ہمیں ہماری بیویوں اور ہماری اولاد سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما، اور ہمیں پرہیزگاروں کا امام بنا دے۔(سورہ الفرقان 25:74)

یہ بھی پڑھیں