Search
Close this search box.
منگل ,21 جولائی ,2026ء

عالمی منظرنامے پر ترکیہ کا دوبارہ عروج

انقرہ نیٹو سربراہی اجلاس میں عالمی رہنمائوں کی وسیع پذیرائی نے ترکیہ کے سفارتی اور تزویراتی کردار کے لئے بڑھتے ہوئے عالمی احترام کو ایک نئی سطح تک پہنچا دیا۔تاریخ ہمیں سکھاتی ہے کہ کسی بھی قوم کی طاقت ہمیشہ ایک ہی سطح پر قائم نہیں رہتی۔ ریاستیں عروج پاتی ہیں، سلطنتیں کمزور ہوتی ہیں، تہذیبیں پھلتی پھولتی ہیں اور پھر وقت کے ساتھ منظر سے ہٹ جاتی ہیں۔ ہمیشہ باقی رہنے والی ذات صرف اللہ تعالیٰ کی ہے، جو تمام کائنات کا رب ہے۔ترک قوم اس تاریخی حقیقت کو بہت سی دوسری اقوام سے بہتر سمجھتی ہے۔ وسطیٰ ایشیا ء کے میدانوں سے عباسی درباروں تک، عظیم سلجوقی سلطنت سے قونیہ تک، مملوکوں سے تین براعظموں پر حکومت کرنے والی عثمانی سلطنت تک، اور پھر جمہوریہ ترکیہ تک اس کا سفر فتوحات، قربانیوں، زوال اور دوبارہ اٹھ کھڑے ہونے کی ایک عظیم داستان ہے۔پہلی جنگِ عظیم کے بعد جب عثمانی سلطنت کا خاتمہ ہوا تو بہت سے لوگوں نے سمجھا کہ تاریخ کے عالمی منظرنامے پر ترک قوم کا عظیم کردار بھی ختم ہو گیا ہے۔ مگر ترکیہ نے سخت جنگوں، قبضے کی کوششوں اور قومی تباہی کے باوجود اپنی آزادی کا دفاع کیا، جمہوریہ قائم کی اور ایک صدی کے اندر خود کو دوبارہ تعمیر کیا۔
آج ایک نیا دور شروع ہو چکا ہے۔ یہ ماضی کی کسی سلطنت کی واپسی نہیں، بلکہ ایک خوداعتماد، جدید، مضبوط اور عالمی معاملات میں مسلسل زیادہ مثر کردار ادا کرنے والے ترکیہ کا دوبارہ عروج ہے۔ترکیہ کی عالمی اہمیت صرف اس کے جغرافیائی محلِ وقوع کی وجہ سے نہیں۔ بلاشبہ یورپ اور ایشیا، بحیرہ اسود اور بحیرہ روم، مشرق اور مغرب کے درمیان اس کی پوزیشن غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے، مگر اس کی اصل طاقت اس کے محنتی عوام، تاریخی تجربے، مضبوط فوج، ترقی کرتی دفاعی صنعت، موثر سفارت کاری، جامعات، انجینئروں، سائنس دانوں اور کاروباری صلاحیتوں میں ہے۔حالیہ برسوں میں تعمیر ہونے والے پل، سرنگیں، شاہراہیں، تیز رفتار ریل گاڑیاں، ہوائی اڈے، بڑے اسپتال اور توانائی کے منصوبے ترکیہ کے قومی عزم اور ترقی کی واضح علامت ہیں۔ بغیر پائلٹ طیاروں، جنگی بحری جہازوں، جدید مواصلاتی نظام اور دفاعی ٹیکنالوجی میں حاصل ہونے والی کامیابیوں نے ثابت کیا ہے کہ ترکیہ اب صرف ٹیکنالوجی خریدنے والا ملک نہیں، بلکہ اسے تیار کرنے اور دنیا کو فراہم کرنے والا اہم ملک بن چکا ہے۔اس دوبارہ عروج کی نمایاں ترین علامتوں میں سے ایک 7 اور 8جولائی 2026ء کو انقرہ میں منعقد ہونے والا نیٹو سربراہی اجلاس تھا۔ اس اجلاس نے واضح کیا کہ ترکیہ کو اب صرف ایک علاقائی ملک کے طور پر نہیں دیکھا جا رہا، بلکہ ایک ایسے اہم اتحادی اور سفارتی قوت کے طور پر تسلیم کیا جا رہا ہے جو یورپ، ایشیاء ، افریقہ، بحیرہ روم اور بحیرہ اسود کے سنگم پر عالمی سلامتی میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔انقرہ اجلاس صرف دفاع اور سلامتی کی ایک رسمی نشست نہیں تھا۔ تقریباً ایک صدی پہلے ترکیہ کے مستقبل کے فیصلے بیرونی دارالحکومتوں میں کیے جاتے تھے، جبکہ آج دنیا کی بڑی طاقتوں کے رہنما ترکیہ کے دارالحکومت میں جمع ہو کر اس کے ساتھ عالمی سلامتی، دفاع اور سفارت کاری کے مستقبل پر گفتگو کر رہے ہیں۔ یہ تبدیلی ترکیہ کی بڑھتی ہوئی عالمی عزت، اعتماد اور سفارتی وزن کی ایک روشن علامت ہے۔تاہم حقیقی عظمت صرف فوجی طاقت، اقتصادی ترقی یا تکنیکی برتری سے نہیں ناپی جاتی۔ دنیا کو ان ممالک کی ضرورت ہے جو طاقت کو انصاف کے ساتھ، ٹیکنالوجی کو اخلاق کے ساتھ، خوشحالی کو رحم کے ساتھ اور سفارت کاری کو امن کے ساتھ جوڑ سکیں۔ترکیہ اس سلسلے میں ایک عظیم تاریخی ورثہ رکھتا ہے۔ سلجوقیوں کی علمی روایت، عثمانیوں کا وقف، خیرات اور سماجی خدمت کا نظام، چناق قلعہ کی بہادری، جنگِ آزادی کی ثابت قدمی اور قونیہ سے پوری انسانیت کو محبت کا پیغام دینے والے مولانا جلال الدین رومیؒ کی تعلیمات صرف ماضی کی یادیں نہیں۔ یہ مستقبل کے ترکیہ کے لئے اخلاقی اور روحانی رہنمائی کا سرچشمہ ہیں۔ترکیہ کی حقیقی عظمت دوسروں پر غلبہ حاصل کرنے میں نہیں، بلکہ انسانیت کے لئے خدمت اور مثال بننے میں ہے۔ تعلیم، سائنس، سفارت کاری، انسانی امداد، انصاف پر مبنی حکمرانی اور اخلاقی ٹیکنالوجی میں قیادت ترکیہ کو ایسی پائیدار عزت دے سکتی ہے جو کسی بھی فوجی فتح سے زیادہ دیرپا ہو۔تاریخ صرف تباہ کرنے والوں کو یاد نہیں رکھتی، بلکہ تعمیر کرنے والوں کو یاد رکھتی ہے۔ ترک قوم نے شہر، ریاستیں، مدارس، جامعات، ہسپتال، کتب خانے اور براعظموں کو ملانے والے پل تعمیر کئے ہیں۔
اکیسویں صدی میں اس کا سب سے بڑا فریضہ قوموں اور دلوں کے درمیان نئے پل بنانا ہے۔ترکیہ کا دوبارہ عروج شروع ہو چکا ہے۔ انقرہ نیٹو سربراہی اجلاس میں ملنے والی وسیع عالمی پذیرائی نے ثابت کیا کہ ترکیہ کے سفارتی اور تزویراتی کردار کے لئے عالمی احترام ایک نئی سطح تک پہنچ چکا ہے۔ اگر یہ عروج انصاف، علم، اخلاق، اتحاد اور عوامی خدمت کی بنیاد پر آگے بڑھتا رہا تو ممکن ہے کہ انسانیت کے لئے ترکیہ کی سب سے بڑی خدمات ابھی مستقبل میں ہوں۔لیکن کسی بھی ریاست کی عالمی کامیابیاں اس وقت تک مکمل نہیں ہوتیں جب تک ان کے ثمرات عام شہری کی روزمرہ زندگی میں سکون، سہولت اور خوشحالی کی صورت میں ظاہر نہ ہوں۔ اب ترکیہ کی حکومت کی اولین ذمہ داریوں میں سے ایک یہ ہونی چاہیے کہ مہنگائی کو مستقل طور پر قابو میں لائے، بڑھتی ہوئی قیمتوں کو کم کرے اور خصوصاً کم اور متوسط آمدنی رکھنے والے لوگوں کی مشکلات میں حقیقی آسانی پیدا کرے۔ ایک مضبوط ترکیہ کی اصل پہچان صرف اس کا عالمی وقار نہیں، بلکہ اپنے عوام کو فراہم کی جانے والی اقتصادی سلامتی، انصاف اور اطمینان بھی ہونی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ ترکیہ کو اتحاد، انصاف، امن اور خوشحالی کے ساتھ مزید سربلندی عطا فرمائے، اس کے رہنمائوں کو حکمت، دیانت اور اخلاص کے ساتھ عوام کی خدمت کی توفیق دے، اور اس عظیم قوم کو پوری انسانیت کے لئے خیر، امید اور امن کا ذریعہ بنائے۔ آمین۔

یہ بھی پڑھیں