Search
Close this search box.
پیر ,20 جولائی ,2026ء

جہاں ایک لہر دنیا بدل سکتی ہے

آبنائے ہرمزتاریخ کے دریامیں ایک باریک مگرفیصلہ کن دھارا،تاریخی ارتقااورطاقت کی کشمکش اورتلاطمِ کاایک ایسانازک موڑہے ،جہاں جغرافیہ تقدیر بن جاتاہے۔انسانی تاریخ کے طویل سفرمیں بعض مقامات ایسے ابھرتے ہیں جواپنی جسامت میں چھوٹے مگراپنے اثرات میں وسیع ترکائنات کے ہم پلہ اوردنیا کے نقشے پرایسے ہوتے ہیں جومحض خطِ فاصل نہیں بلکہ تاریخ کے دھارے کوموڑدینے والی قوت رکھتے ہیں۔بحرِ ہندکی وسعتوں اورخلیجِ فارس کی خاموش لہروں کے درمیان آبنائے ہرمز اسی قبیل کا ایک نادر نمونہ اورایک باریک مگرفیصلہ کن درز ہے، ایک ایسامقام جہاں پانی کی ایک تنگ لکیر،زمانے کی وسعتوں کواپنے اندرسمیٹ لیتی ہے۔
ایک تنگ ساآبی راستہ،مگرمعنویت میں ایک وسیع سمندر۔یہ وہ مقام ہے جہاں زمین کی ساخت ، قدرت کے اسرار،اورانسانی حرص و اختیارکی داستانیں ایک دوسرے میں یوں مدغم ہوجاتی ہیں کہ حقیقت اورعلامت میں فرق مٹنے لگتاہے۔یہ محض پانی کاایک راستہ نہیں، بلکہ تہذیبوں کی سانس، معیشتوں کی نبض اورعالمی سیاست کی وہ گردن ہے جہاں ہاتھ ڈالنے کا مطلب پوری دنیاکی دھڑکن کوگرفت میں لینا ہے۔ یہاں لہریں صرف ساحلوں سے نہیں ٹکراتیں بلکہ سلطنتوں کے ارادوں،معیشتوں کے توازن اور تہذیبوں کے تسلسل سے ہم آہنگ ہو کرایک ایسی موسیقی ترتیب دیتی ہیں جس کی گونج دوردراز براعظموں تک سنائی دیتی ہے۔
تاریخ کے اوراق گواہ ہیں کہ جہاں کہیں وسائل کی رگیں گزرتی ہیں،وہاں طاقت کے پنجے بھی ضرورپہنچتے ہیں۔آبنائے ہرمزاسی اصول کی جیتی جاگتی مثال ہے،ایک ایسامقام جہاں جغرافیہ، معیشت ، عسکری حکمتِ عملی اورعالمی سیاست ایک دوسرے میں یوں لفظ ومعنی کی طرح گندھ جاتے ہیں۔یہ ایک ایسادروازہ ہے جس سے گزرے بغیرعالمی معیشت کی گاڑی آگے نہیں بڑھ سکتی۔ یہاں سے گزرنے والا ہرجہازمحض سامان نہیں لے جاتابلکہ دنیاکے مختلف حصوں کی امیدوں ،ضرورتوں اورخوابوں کواپنے ساتھ بہالے جاتاہے۔
اگر دنیاکوایک جسم تصورکیاجائے توآبنائے ہرمز اس کی شہ رگ ہے ،ایسی رگ جس میں توانائی کی روانی جاری رہے توحیات کاتسلسل برقرار رہتا ہے اور اگر اس میں رکاوٹ آجائے توپورا نظام لرزاٹھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی عالمی طاقتوں کے درمیان کشیدگی بڑھتی ہے،نگاہیں اسی مقام پرآکرٹھہرجاتی ہیں۔ اسی لیے جب یہاں اضطراب پیداہوتاہے تواس کی بازگشت عالمی نظام کے ہرگوشے میں محسوس کی جاتی ہے، آبنائے ہرمز بھی ایسا ہی ایک مقام ہے۔
امریکااورایران کے درمیان جاری کشمکش ایک سطحی تصادم نہیں بلکہ تہہ درتہہ تاریخ کانتیجہ ہے ، امریکا اورایران کے درمیان کشیدگی کوئی نئی داستان نہیں؛یہ ایک طویل تاریخی بیانیہ ہے جس کی جڑیں انقلابِ ایران سے لے کرمشرقِ وسطیٰ کی بدلتی ہوئی سیاست تک پھیلی ہوئی ہیں۔ایسی تاریخ جس میں انقلاب،نظریات، طاقت اورخوف ایک دوسرے میں گندھے ہوئے ہیں۔ مگرحالیہ حالات میں اس کشیدگی نے ایک نئی جہت اختیار کرلی ہے ،ایک ایسی جہت جس میں زمین نہیں بلکہ سمندر میدانِ کا رزار بن چکاہے۔
امریکااورایران کے درمیان جاری کشیدگی اب محض سفارتی بیانات تک محدود نہیں رہی بلکہ اس نے عملی جنگ کی شکل اختیارکرلی ہے۔امریکی پالیسی سازو ں کے نزدیک ایران کی بحری صلاحیت صرف دفاعی نہیں بلکہ ایک ایساہتھیارہے جوعالمی تجارت کویرغمال بناسکتا ہے۔ اس کشیدگی کاحالیہ مرحلہ اس وقت اوربھی معنی خیز ہو جاتاہے جب اس کامرکززمین سے ہٹ کرسمندر کی وسعتوں میں منتقل ہوجاتاہے۔اسی لئے واشنگٹن نے اپنی توجہ براہِ راست ایران کے ساحلی علاقوں پر مرکوزکردی ہے وہ علاقے جہاں سے نہ صرف جہاز گزرتے ہیں بلکہ طاقت کے توازن کاتعین بھی ہوتا ہے۔
حالیہ دنوں میں امریکی کارروائیوں کامحور ایران کے ساحلی علاقے بن چکے ہیںوہ علاقے جونہ صرف جغرافیائی لحاظ سے حساس ہیں بلکہ عالمی تجارت کے دروازے بھی انہی سے کھلتے ہیں۔ یہاں اب توپوں کی گھن گرج کے بجائے جہازوں کی نقل وحرکت ، ڈرونز کی پروازیں، اورساحلی تنصیبات کی خاموشی بولتی ہے۔ امریکا کے لئے یہ مسئلہ عالمی نظام کی حفاظت کاہے،جبکہ ایران کے لئے یہ اپنی خودمختاری اورعلاقائی شناخت کا سوال بن چکا ہے۔ یوں دونوں ریاستیں ایک ایسے مقام پرآکھڑی ہوئی ہیں جہاں ہرقدم نہ صرف موجودہ حالات بلکہ آنے والے وقت کی سمت کاتعین بھی کرتا ہے۔واشنگٹن کی حکمتِ عملی بظاہریہ ہے کہ ایران کی بحری طاقت اوراس کی تجارتی جہازرانی پراثراندازہونے کی صلاحیت کومحدود کیاجائے ، تاکہ عالمی منڈیوں میں تیل کی روانی بلاتعطل جاری رہے۔
حالیہ عسکری کارروائیاں محض طاقت کیاظہارکا ذریعہ نہیں بلکہ ایک گہری حکمت عملی کاحصہ ہیں۔ جب ساحلی علاقوں کونشانہ بنایا جاتا ہے تودراصل اس نظام کو متاثرکیاجاتاہے جو سمندر اورزمین کے درمیان ایک پل کا کام کرتاہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈکی جانب سے 13جولا ئی کوطاقت کاخاموش مگرگونجتا ہوااعلان اورمکمل کی جانے والی کارروائی محض ایک عسکری آپریشن نہیں تھی بلکہ ایک محدود مگر ایک علامتی پیغام بھی تھی۔ ایک ایساپیغام جس میں بارودکی گھن گرج سے زیادہ سیاسی معنویت پوشیدہ تھی۔
یہ حملے گویاایک خاموش اعلان ہیں کہ جنگ اب روایتی میدانوں تک محدودنہیں رہی بلکہ اس نیاپنے دائرے کووسعت دے کران مقامات کوبھی اپنی لپیٹ میں لے لیاہے جہاں سے زندگی کی روانی برقراررہتی ہے۔ان کارروائیوں کے ذریعے یہ پیغام دیاگیاکہ سمندر کی سطح پرموجودہرحرکت اب عالمی نگرانی میں ہے۔ پانچ گھنٹوں پرمحیط اس کارروائی میں جن مقامات کونشانہ بنایاگیا،وہ محض جغرافیائی نقاط نہیں بلکہ ایران کی بحری خودمختاری کے ستون تھے۔بوشہرسے بندرعباس تک، چابہار سے جاسک تک،ایرانی ساحلوں پر حملوں کی ایک ایسی لہردوڑی جس نے نہ صرف عسکری تنصیبات کونشانہ بنایابلکہ ایک واضح پیغام بھی دیا: سمندراب خاموش نہیں رہا ۔ان حملوں میں میزائل سسٹمز،ڈرون تنصیبات اورساحلی دفاعی ڈھانچے کونشانہ بنایاگیایعنی وہ تمام عناصرجوایران کو سمندر میں اپنی موجودگی مؤثربنانے کی قوت دیتے ہیں۔ بوشہرکی بندرگاہ،جہاں سے توانائی کی داستانیں جنم لیتی ہیں؛چابہار، جوایران کابحیرہ عمان سے رابطہ ہے؛اوربندرعباس،جواس کابحری دل ہیان سب کونشانہ بناکرامریکانے گویایہ واضح کردیاکہ اس کی نظرصرف موجودہ صورتحال پرنہیں بلکہ مستقبل کے ممکنہ توازنِ طاقت پربھی ہے۔
جب محافظت کومعاشی قدرسے جوڑاجاتاہے توطاقت اورمعاشیات کے امتزاج کاایک نیانظریہ جنم لیتاہے ،ایسانظریہ جس میں سلامتی کوایک خدمت بناکراس کی قیمت طے کی جاتی ہے۔ امریکی صدرکابیان اسی تصورکاعکاس ہے،جہاں طاقت کوایک ایسے نظام میں ڈھالا جارہاہے جس میں ہرگزرنے والے جہازکوایک قیمت اداکرنی ہوگی۔یہ تصوربظاہرنظم و ضبط کاضامن معلوم ہوتا ہے، مگراس کے اندر ایک ایسی طاقت کی جھلک بھی ہے جوعالمی گزرگاہوں کواپنے زیرِاثرلانا چاہتی ہے۔یہ سوال اپنی جگہ قائم رہتاہے کہ کیایہ واقعی حفاظت ہے یاپھر ایک نئے معاشی تسلط کی ابتدا؟
جب امریکی صدرنے آبنائے ہرمزکے لئے خودکو’’محافظ‘‘قراردیاتویہ لفظ محض ایک دعویٰ نہیں بلکہ ایک نظریہ تھاایک ایسانظریہ جس میں عالمی گزرگاہوں کو طاقت کے ذریعے منظم کرنے کا تصورشامل ہے۔ امریکی صدرکایہ اعلان کہ آبنائے ہرمزسے گزرنے والے جہازوں پر 20فیصدفیس عائدکی جائے گی،عالمی سیاست میں ایک نئی بحث کا دروازہ کھولتاہے۔ کیا امریکا واقعی محافظ ہے ،یایہ محافظت ایک نئے معاشی نظام کی بنیادہے؟ سلامتی کوایک خدمت بتا کراس کی بھاری قیمت بطور جبری بھتہ وصول کرنے کی سازش ہے۔ دراصل ایک نئے عالمی معاشی ماڈل کی جھلک پیش کرتاہے،سوال یہ ہے کہ کیایہ عالمی نظم کی نئی صورت ہے،یا طاقت کے پرانے کھیل کا نیا نام؟
( جاری ہے )

یہ بھی پڑھیں