Search
Close this search box.
پیر ,20 جولائی ,2026ء

یومِ الحاق کشمیر

19جولائی کو پاکستان اور دنیا بھر کے کشمیری ’’یومِ الحاق کشمیر‘‘ مناتے ہیں۔ یہ وہ تاریخی دن ہے جب 1947ء میں ریاست جموں و کشمیر کی مسلم قیادت نے متفقہ طور پر ’’قراردادِ الحاق پاکستان‘‘منظور کی تھی۔ یہ دن محض ایک تاریخ نہیں، یہ کشمیری قوم کے اس غیر متزل عہد کی علامت ہے کہ ان کی جغرافیائی، مذہبی، معاشی اور تہذیبی تقدیر پاکستان کے ساتھ جڑی ہے۔ آج جب بھارت مقبوضہ کشمیر میں جبر کی نئی تاریخ رقم کر رہا ہے، 19 جولائی ہمیں یاد دلاتا ہے کہ مسئلہ کشمیر کوئی سرحدی تنازع نہیں، یہ ایک ادھورا وعدہ ہے، اقوامِ متحدہ کی ذمہ داری ہے اور ایک کروڑ 20 لاکھ کشمیریوں کے حقِ خوداراد یت کا سوال ہے۔تقسیم ہند کے وقت برطانوی حکومت نے ریاستوں کو اختیار دیا تھا کہ وہ اپنی جغرافیائی قربت اور عوام کی امنگوں کی روشنی میں بھارت یا پاکستان سے الحاق کریں۔ریاست جموں و کش آبادی کی اکثریت مسلمان تھی۔ اس کے دریا، سڑکیں، تجارت اور معیشت کا رخ فطری طور پر پاکستان کی طرف تھا۔ اسی حقیقت کو سامنے رکھتے ہوئے 19جولائی 1947ء کو سرینگر میں کشمیر کی تمام مسلم سیاسی جماعتوں نے متفقہ قرارداد منظور کی ’’ریاست جموں و کشمیر پاکستان سے الحاق کرے گی‘‘ ۔ یہی ’’یومِ الحاق‘‘کی بنیاد ہے۔ یہ کسی کی خواہش نہیں تھی، یہ کشمیری عوام کا اجتماعی اور جمہوری فیصلہ تھا۔ پاکستان کا موقف آج بھی یہی ہے۔ ہم کشمیر پر قبضہ نہیں مانگ رہے۔ ہم مطالبہ کر رہے ہیں کہ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیریوں کو استصوابِ رائے کا حق دیا جائے تاکہ وہ خود اپنی قسمت کا فیصلہ کریں۔ پاکستان نے ہمیشہ کہا ’’ہمیں بندوق نہیں، بیلٹ چاہیے‘‘۔
بدقسمتی سے 27اکتوبر1947ء کو بھارت نے کشمیر میں فوج اتار کر اس فیصلے کو روند ڈالا۔ مہاراجہ کے متنازعہ الحاق نامے کی آڑ میں بھارت نے قبضہ کیا اور پھر دنیا کے سامنے وعدہ کیا کہ ’’امن بحال ہوتے ہی کشمیریوں سے رائے لی جائے گی‘‘۔ اقوامِ متحدہ نے 1948 ء اور 1949ء میں قراردادیں منظور کیں جن میں استصوابِ رائے کی بات تسلیم کی گئی۔ لیکن 75 سال گزر گئے، وہ رائے شماری آج تک نہیں ہوء۔ کیونکہ بھارت جانتا ہے کہ 19جولائی والا فیصلہ آج بھی کشمیریوں کے دلوں میں زندہ ہے۔5 اگست 2019 ء کو مودی حکومت نے آئین کے آرٹیکل 370اور 35-A کو منسوخ کر کے اس زخم پر نمک چھڑک دیا۔ مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر دی گئی تاکہ کشمیر کی مسلم اکثریتی شناخت کو مٹانا۔لاکھوں غیر کشمیریوں کو ڈومیسائل جاری کئے گئے، زمینیں فروخت کے لئے کھول دی گئیں، میڈیا بند، رہنما جیلوں میں۔ یہ الحاق نہیں تھا، یہ 19جولائی کے فیصلے پر شب خون تھا۔بھارت نے کشمیریوں کی آواز دبانے کے لئے منظم سازشیں کیں۔ گزشتہ تین دہائیوں میں 96ہزار سے زائد کشمیری شہید، پیلٹ گن سے نوجوانوں کو اندھا کرنا، اجتماعی قبریں، جبری گمشدگیاں۔ بھارت ’’انسدادِ دہشت گردی‘‘کے نام پر پوری نسل کو نشانہ بنا رہا ہے۔ بھارت دنیا کو یہ باور کرانا چاہتا ہے کہ کشمیر ’’اٹوٹ انگ‘‘ہے۔ سوال یہ ہے اگر اٹوٹ انگ ہے تو 10لاکھ فوج کیوں؟ اگر سب نارمل ہے تو 2019ء سے لے کر آج تک کرفیو اور پابندیاں کیوں؟ بھارت کشمیری جدوجہد کو ’’پاکستان کی سازش‘‘کہہ کر اس کے سیاسی جواز کو ختم کرنا چاہتا ہے۔ 2019 ء کے بعد بھارت نے غیر ریاستی باشندوں کو بسانے کا عمل تیز کر دیا۔
یہ جنیوا کنونشن کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ مقصد 19 جولائی 1947ء کے مسلم اکثریتی فیصلے کو ووٹ کے ذریعے ختم کرنا ہے۔ یہ اسرائیل کا ماڈل ہے۔ پاکستان نے 19جولائی 1947ء کے فیصلے کا احترام کرتے ہوئے آج تک کشمیریوں کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھی ہے۔ پاکستان کشمیری جدوجہد کو حقِ خودارادیت کی تحریک مانتا ہے، دہشت گردی نہیں۔پاکستان نے اقوامِ متحدہ، OIC اور دیگر فورمز پر بھارتی مظالم کو بے نقاب کیا۔ عالمی رپورٹوں میں مقبوضہ کشمیر کے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا ذکر پاکستان کی مسلسل جدوجہد کا نتیجہ ہے۔ پاکستان آج بھی کہتا ہے کہ مسئلہ کشمیر کا حل جنگ نہیں، مکالمہ ہے۔ لیکن ایسا مکالمہ جس میں کشمیری نمائندے شامل ہوں اور بنیاد 19 جولائی کے فیصلے اور اقوامِ متحدہ کی قراردادیں ہوں۔ آج مقبوضہ وادی کا بچہ بھی جانتا ہے کہ اس کی شناخت کیا ہے۔ بھارت نے جتنی جیلیں بنائیں، اتنے ہی نعرے ’’الحاق پاکستان‘‘کے بلند ہوئے۔ بھارت نے جتنا کرفیو لگایا، اتنی ہی 19جولائی کی قرارداد نوجوانوں کے دلوں میں مضبوط ہوئی۔بھارت یہ سمجھتا ہے کہ وقت کے ساتھ مسئلہ دفن ہو جائے گا۔ لیکن وہ بھول گیا کہ یہ مسئلہ زمین کا نہیں، ضمیر کا ہے۔ اور ضمیر سودے نہیں کرتا۔
پاکستان کا موقف کمزوری نہیں، اصولی موقف ہے۔ پاکستان کبھی بھی کشمیر کو زبردستی نہیں چھیننا چاہتا ، بلکہ کشمیریوں کو ان کا جائز حق دلانا چاہتے ہیں۔ بھارت یہ جان لے کہ ڈومیسائل سے تاریخ نہیں مٹتی، گولی سے قرارداد نہیں مرتی، اور جیل سے تحریک نہیں رکتی۔عالمی برادری کو اب فیصلہ کرنا ہوگا۔ وہ 19جولائی 1947ء کے جمہوری فیصلے اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے ساتھ کھڑی ہوگی، یا طاقت کے ساتھ۔پاکستان کا عہد آج بھی وہی ہے جو 19 جولائی 1947 ء کو تھا کہ کشمیر بنے گا پاکستان۔ یہ نعرہ نہیں، یہ کشمیریوں کا فیصلہ ہے۔ اور ان شا اللہ یہ فیصلہ ایک دن ضرور عملی جامہ پہنے گا۔

یہ بھی پڑھیں