Search
Close this search box.
پیر ,20 جولائی ,2026ء

داراخوین جوہری پاور پلانٹ پر امریکی حملہ، ایران کی شدید مذمت

تہران: داراخوین جوہری پاور پلانٹ پر مبینہ امریکی حملے کے بعد ایران نے شدید ردعمل دیتے ہوئے اسے بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ جنوبی صوبہ خوزستان میں زیر تعمیر جوہری منصوبے کو نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد عالمی جوہری ادارے سے فوری کردار ادا کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

ایرانی جوہری توانائی تنظیم (AEOI) کے مطابق حملہ اتوار کی صبح زیر تعمیر جوہری تنصیب پر کیا گیا۔ تنظیم نے اپنے بیان میں مؤقف اختیار کیا کہ یہ کارروائی نہ صرف ایران کے پرامن جوہری پروگرام بلکہ عالمی قوانین اور بین الاقوامی اصولوں کے بھی منافی ہے۔

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ داراخوین جوہری پاور پلانٹ بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کے ساتھ موجود جامع حفاظتی معاہدے (Comprehensive Safeguards Agreement) کے تحت نگرانی میں ہے اور یہاں ہونے والی تمام سرگرمیاں پرامن مقاصد کے لیے انجام دی جا رہی ہیں۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ پرامن جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانا اقوام متحدہ کے چارٹر، بین الاقوامی قانون اور آئی اے ای اے کی قراردادوں کی خلاف ورزی تصور کیا جاتا ہے۔ ایران نے مؤقف اختیار کیا کہ عالمی ادارے کو اس واقعے پر خاموش رہنے کے بجائے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے ہوئے واضح مؤقف اختیار کرنا چاہیے۔

ایرانی حکام نے آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل سے مطالبہ کیا کہ وہ اس مبینہ حملے کی مذمت کریں اور جوہری تنصیبات کے تحفظ سے متعلق بین الاقوامی معاہدوں پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کریں۔

ایرانی جوہری تنظیم نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ ایسے حملے ملک کے سائنسی اور تکنیکی سفر کو نہیں روک سکتے۔ تنظیم کے مطابق ایرانی سائنس دان اپنے قومی منصوبوں پر کام جاری رکھیں گے اور ملکی خود انحصاری کے عزم کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں