Search
Close this search box.
منگل ,21 جولائی ,2026ء

امریکا ایران کشیدگی، خام تیل مہنگا ہونے سے نئی تشویش

ویب ڈیسک: عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث ایک بار پھر تیزی سے اوپر چلی گئی ہے۔ بین الاقوامی توانائی مارکیٹ میں صرف ایک روز کے دوران خام تیل کی قیمت میں تین فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس نے دنیا بھر کی معیشتوں اور تیل درآمد کرنے والے ممالک میں تشویش پیدا کر دی ہے۔

بین الاقوامی کاروباری اعداد و شمار کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 3.12 فیصد اضافے کے بعد 90.85 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل بھی 3.1 فیصد مہنگا ہو کر 85 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا۔

معاشی اور توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی عالمی تیل مارکیٹ پر براہِ راست اثر انداز ہو رہی ہے۔ ان کے مطابق اگر امریکا اور ایران کے درمیان صورتحال مزید کشیدہ ہوئی یا کسی قسم کی فوجی کارروائی سامنے آئی تو عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ دیکھنے کو مل سکتا ہے۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز دنیا میں خام تیل کی ترسیل کا ایک اہم راستہ ہے۔ اگر اس علاقے میں تیل کی سپلائی متاثر ہوتی ہے تو عالمی منڈی میں رسد کم ہونے کے خدشات پیدا ہوں گے، جس کے نتیجے میں قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں۔

اقتصادی تجزیہ کاروں کے مطابق عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت میں مسلسل اضافے سے صرف ایندھن ہی نہیں بلکہ ٹرانسپورٹ، صنعت، بجلی کی پیداوار اور دیگر پیداواری اخراجات بھی بڑھ سکتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں دنیا کے کئی ممالک میں مہنگائی کی نئی لہر آنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

پاکستان جیسے تیل درآمد کرنے والے ممالک کے لیے بھی یہ صورتحال اہم سمجھی جا رہی ہے۔ اگر عالمی مارکیٹ میں خام تیل مہنگا رہتا ہے تو آئندہ دنوں میں ملک میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں پر بھی اس کے اثرات مرتب ہونے کا امکان موجود ہے، جس سے عوام اور کاروباری شعبہ دونوں متاثر ہو سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں