(گزشتہ سے پیوستہ)
پیمرا کے مطابق یہ نشر ہونے والا مواد نہ صرف الیکٹرانک میڈیا کے ضابطہ اخلاق اور لائسنس کی شرائط کی خلاف ورزی تھا بلکہ مذہبی، معاشرتی اور ثقافتی اقدار کے بھی منافی تھا۔ مزید یہ کہ اس سے عوام کے مذہبی جذبات مجروح ہوئے اور مذہبی ہم آہنگی کو نقصان پہنچنے کا خدشہ پیدا ہوا۔اسی بنیاد پر پیمرا نے ٹی وی کا لائسنس پندرہ دن کے لئے معطل کرتے ہوئے اس کی نشریات سیٹلائٹ اور تمام نشریاتی نیٹ ورکس پر بند کرنے کے احکامات جاری کئے۔ ساتھ ہی یہ بھی ہدایت کی گئی کہ ادارہ داخلی سطح پر انکوائری کرے، ذمہ داران کا تعین کرے اور آئندہ ایسی خلاف ورزی کے سدباب کے لئے موثر اقدامات کرے۔یہ فیصلہ اپنی نوعیت کا ایک اہم ریگولیٹری اقدام ہے، لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا صرف پندرہ روزہ معطلی ایسے حساس معاملے میں کافی ہے؟ اگر میڈیا ادارے بار بار مذہبی حساسیت، اخلاقی اقدار اور قومی مفادات کو نظر انداز کرتے رہیں تو کیا محض عارضی پابندیاں مستقبل میں ایسے واقعات کو روک سکیں گی؟یہ امر افسوسناک ہے کہ بعض الیکٹرانک میڈیا چینلز ریٹنگ، اشتہارات اور مالی مفادات کے حصول کی دوڑ میں اس حد تک آگے بڑھ چکے ہیں کہ انہیں نہ مذہبی جذبات کا احساس رہتا ہے، نہ معاشرتی ذمہ داری کا اور نہ ہی قومی وحدت کا۔ آزادی اظہار یقینا ہر مہذب معاشرے کا بنیادی اصول ہے، لیکن آزادی کے ساتھ ذمہ داری بھی لازم ہوتی ہے۔ ایسی آزادی جو دوسروں کے عقائد، مذہبی مقدسات یا قومی اقدار کو مجروح کرے، کسی بھی مہذب معاشرے میں قابل قبول نہیں سمجھی جا سکتی۔میڈیا کو معاشرے کا آئینہ کہا جاتا ہے، مگر جب یہی آئینہ دھندلا جائے تو پوری قوم فکری انتشار کا شکار ہو جاتی ہے۔ ٹیلی ویژن چینلز محض کاروباری ادارے نہیں بلکہ رائے عامہ تشکیل دینے والے طاقتور ذرائع ہیں۔ ان کے ذریعے نشر ہونے والا ہر لفظ، ہر منظر اور ہر پیغام لاکھوں گھروں تک پہنچتا ہے۔ اس لئے مذہبی پروگراموں کی تیاری میں غیر معمولی احتیاط، مستند علما سے رہنمائی اور ادارہ جاتی نگرانی ناگزیر ہونی چاہیے۔ضرورت اس امر کی بھی ہے کہ میڈیا ہائوسز اپنی ادارہ جاتی پالیسیوں پر نظرثانی کریں۔ صرف معذرت یا وضاحت کافی نہیں بلکہ ایسے موثر نظام وضع کئے جائیں جن کے ذریعے حساس نوعیت کے پروگرام نشر ہونے سے پہلے علمی، شرعی اور قانونی جانچ کے مراحل سے گزریں۔
پیمرا کی ذمہ داری بھی صرف کارروائی تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ ایسے واضح رہنما اصول مرتب کئے جائیں جن پر تمام نشریاتی ادارے سختی سے عمل کریں۔ یہاں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ الیکٹرانک میڈیا صرف مذہبی معاملات میں ہی نہیں بلکہ معاشرتی بے حیائی، خاندانی نظام کی کمزوری، مغربی تہذیب کی اندھی تقلید اور اخلاقی انحطاط کو فروغ دینے کے حوالے سے بھی مسلسل تنقید کی زد میں رہا ہے۔ اگر میڈیا اپنی سماجی ذمہ داریوں کو نظر انداز کرے گا تو اس کے اثرات آنے والی نسلوں کی فکر، کردار اور اخلاق پر مرتب ہوں گے، جن کی تلافی آسان نہیں ہوگی۔ہر مسلمان کا یہ ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حقوق، رسول اکرم ﷺ کے حقوق، بندوں کے حقوق اور ریاست کے حقوق سب اپنی اپنی جگہ اہم ہیں۔
ان میں سے کسی ایک کو بھی نظر انداز کرنا فرد اور معاشرے دونوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔ دنیا کی عدالتوں سے کوئی شخص وقتی طور پر بچ بھی جائے تو آخرت کی عدالت میں ہر قول، ہر عمل اور ہر فیصلے کا حساب دینا ہوگا۔ یہی احساسِ جوابدہی انسان کو ذمہ دار بناتا ہے۔ میڈیا سے وابستہ افراد کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ ان کے قلم، کیمرے اور مائیکروفون سے نکلنے والا ہر پیغام ایک امانت ہے۔ اگر اس امانت میں خیانت ہوگی، اگر معاشرے میں انتشار، بے راہ روی یا مذہبی اشتعال کا سبب بننے والا مواد پھیلایا جائے گا تو اس کی ذمہ داری بھی انہی پر عائد ہوگی۔ اسی طرح ناظرین کو بھی چاہیے کہ وہ ایسے مواد کی حوصلہ شکنی کریں جو اخلاقی اور دینی حدود سے متجاوز ہو، جبکہ تعمیری، علمی اور مثبت صحافت کی حوصلہ افزائی کریں۔آج وقت کا تقاضا ہے کہ ریاستی ادارے، میڈیا مالکان، صحافتی تنظیمیں، علما ء کرام اور سول سوسائٹی مل کر ایسا ماحول پیدا کریں جہاں آزادی صحافت بھی محفوظ رہے اور مذہبی و قومی اقدار کا احترام بھی برقرار رہے۔ یہی اعتدال ایک مہذب، پرامن اور مضبوط معاشرے کی بنیاد بن سکتا ہے۔ ٹی وی چینل کے خلاف ہونے والی کارروائی ایک تنبیہ ضرور ہے، لیکن اگر دیگر الیکٹرانک چینلز نے اس سے سبق نہ سیکھا تو مستقبل میں ایسے واقعات دوبارہ جنم لے سکتے ہیں۔ میڈیا کو چاہیے کہ وہ ریٹنگ سے پہلے ذمہ داری، منافع سے پہلے قومی مفاد اور شہرت سے پہلے دین و اخلاق کو مقدم رکھے۔ یہی وہ راستہ ہے جو صحافت کو عزت، معاشرے کو استحکام اور ریاست کو مضبوطی عطا کر سکتا ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں دین اسلام کی صحیح سمجھ، رسول اکرم ﷺکی سچی محبت، مقدسات کے ادب، قومی ذمہ داری اور حق و انصاف پر قائم رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم محض کسی ایک ادارے یا ایک چینل پر تنقید تک محدود نہ رہیں بلکہ مجموعی طور پر اپنے میڈیا کلچر کا سنجیدگی سے جائزہ لیں۔ میڈیا اگر معاشرے کی اصلاح کا ذریعہ بنے تو یہ قوموں کی تقدیر بدل سکتا ہے، لیکن اگر یہی قوت غیر ذمہ داری، سنسنی خیزی اور اخلاقی بے راہ روی کے فروغ کا ذریعہ بن جائے تو اس کے منفی اثرات نسلوں تک منتقل ہوتے ہیں۔ صحافت کا اصل مقصد صرف خبر دینا نہیں بلکہ سچائی، دیانت، قومی وحدت اور اخلاقی اقدار کا تحفظ بھی ہے۔ یہی وہ اصول ہیں جن پر ایک مہذب اور ذمہ دار معاشرہ استوار ہوتا ہے۔ضرورت اس بات کی بھی ہے کہ میڈیا مالکان، اینکرز، پروڈیوسرز اور پروگرام ساز اپنے پیشہ ورانہ فرائض کو صرف کاروباری نقطہ نظر سے نہ دیکھیں بلکہ یہ احساس بھی رکھیں کہ ان کے فیصلے لاکھوں افراد کی سوچ اور طرزِ عمل پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ اگر مذہبی پروگرام نشر کئے جائیں تو ان میں علمی احتیاط، مستند رہنمائی اور اسلامی آداب کا مکمل لحاظ رکھا جائے۔ اسی میں اداروں کی عزت، قوم کے اعتماد اور معاشرے کے استحکام کا راز پوشیدہ ہے۔دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے ملک کو ہر قسم کے فتنوں سے محفوظ رکھے، ہمیں اپنی دینی، قومی اور اخلاقی ذمہ داریوں کو دیانت داری سے ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے، اور ہمارے میڈیا کو ایسا کردار ادا کرنے کی توفیق دے جو اتحاد، اخوت، اخلاق اور احترامِ مقدسات کے فروغ کا سبب بنے۔ یہی ایک مضبوط، باوقار اور اسلامی پاکستان کی ضمانت ہے۔