Search
Close this search box.
منگل ,30 جون ,2026ء

غمزدہ قوم

غم بھی شاید قوموں کی قسمت میں مختلف انداز سے لکھا جاتا ہے۔ کچھ معاشرے خوش حالی کے درمیان کبھی کبھار کسی سانحے سے دوچار ہوتے ہیں مگر ہمارے ہاں دکھ گویا روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکا ہے۔ ابھی ایک حادثے کی بازگشت ختم نہیں ہوتی کہ دوسری خبر دل پر دستک دے دیتی ہے۔ کبھی بازار خون سے رنگین ہوتے ہیں، کبھی عبادت گاہیں، کبھی شاہراہیں اور کبھی وہ راستے محفوظ نہیں رہتے جن پر لوگ اپنے اہل خانہ کے ساتھ سفر کے لیے نکلتے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے اس ملک کے باسیوں نے خوش خبریوں سے زیادہ المناک خبروں کے ساتھ جینا سیکھ لیا ہے۔
بلوچستان کا تازہ سانحہ جس میں کراچی سے کوئٹہ سیر وتفریح کی غرض سے آنے والے بدقسمت خاندان کے سربراہ کو بی ایل اے کی گولی نے چاٹ لیا،اس کی تفصیلات اپنی جگہ مگر اس کا اصل دکھ یہ ہے کہ ایک عام شہری جو کسی سیاسی کشمکش کا حصہ بھی نہیں تھا اچانک تشدد کی لپیٹ میں آ گیا ۔ بندوق جب بے گناہ انسان کی طرف اٹھتی ہے تو وہ صرف ایک جان نہیں لیتی وہ پورے معاشرے کے اعتماد کو زخمی کرتی ہے لہذا ایسے واقعات چند گھروں کا نہیں بلکہ پورے ملک کا سوگ بن جاتے ہیں۔دہشت گردی کی سب سے بڑی سفاکی ہی یہ ہے کہ اس کے نزدیک نہ عمر کی ، نہ رشتوں کی، نہ سفر کی اور نہ ہی امید کی کوئی حرمت ہے۔اس کے ہاتھ میں موجود ہتھیار جسموں کو ہی چھلنی نہیں کرتے، آنے والی نسلوں کے ذہنوں میں بھی خوف بو دیتے ہیں۔ جو بچے اس آگ کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیتے ہیں پھر ان کے لیے دنیا پہلے جیسی نہیں رہتی۔ ان کے اندر ایک ایسی خاموشی جنم لیتی ہے جسے کسی رپورٹ اور کسی پریس کانفرنس میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ یہ اندھی سفاکی ہےجو ہر انسانی اور اخلاقی دائرے سے باہر ہے۔
معصوم مسافروں، نہتے شہریوں اور بے خبر خاندانوں پر حملہ آور یہ دہشت گرد،ان کے نزدیک انسانی جان کی کوئی وقعت ہے اور نہ ہی انہیں اس بات کی کوئی پرواہ ہے کہ ایک گولی کتنی زندگیوں کو ختم کرتی ہے۔ ایک انسان کی موت ایک فرد کا خاتمہ نہیں بلکہ اس سے جڑی ہوئی یادیں، امیدیں اور رشتے بھی ایک ایسے خلا میں دھکیل دیئے جاتے ہیں جسے برسوں پر نہیں کیا جا سکتا۔ دہشت گردی کا زخم صرف مقتول کے خاندان کو نہیں لگتا بلکہ پورا معاشرہ اس اذیت کی لپیٹ میں آتا ہے۔ خوف کی فضا میں پروان چڑھنے والی نسلیں عدم تحفظ کے احساس کے ساتھ جیتی ہیں اور یہ قیمت کسی بھی مہذب معاشرے کو کبھی ادا نہیں کرنی چاہیے۔ لہذا بی ایل اے ہو یا دیگر کوئی بھی دہشت گرد گروہ ، انکی یہ وارداتیں کسی بھی اخلاقی ضابطے، سیاسی یا انسانی اصول کے تحت قابل قبول نہیں۔ کسی محرومی یا شکایت کو بنیاد بنا کر بے گناہ انسانوں کا خون بہاناجائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔ جو تحریک اپنی شناخت معصوم جانوں کے قتل سے قائم کرے وہ اپنے ہی دعوئوں کی نفی کررہی ہوتی ہے۔ بندوق دلیل کی جگہ لے سکتی ہےاور نہ ہی خوف کبھی حمایت پیدا کرسکتاہے۔
سوشل میڈیا نے اس سانحے کی ایک تصویر وائرل کی ہے اور ہر دل تک پہنچایا ہے، خوف سے سہمے دو معصوم بچیوں کےچہرے اس پورے المیے کی زندہ کہانی دکھائی دے رہے ہیں،تصویر میں ان بچیوں کا دکھ اور اس دکھ سے جڑی بوجھل فضا جس میں دہشت گرد کی ایک گولی، یوں جانیے کہ سینکڑوں میل دور بیٹھے لوگوں کے دلوں تک جا پہنچی ہے۔ بعض تصویریں خبروں سے زیادہ دیر تک زندہ رہتی ہیں کیونکہ وہ الفاظ سے کہیں زیادہ گہرا اثر چھوڑجاتی ہیں۔ یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ کسی بھی قوم کی شناخت اس کے سانحات نہیں بلکہ ان سانحات کے بعد اختیار کیا جانے والا رویہ ہوتا ہے۔ اگر ہر خون آلود خبر محض چند دن کی بے چینی بن کر رہ جائے، اگر ہر جنازے کے بعد معمولات ویسے ہی چلتے رہیں، اگر ہر بے گناہ موت صرف اعداد و شمار میں اضافہ ہوتو پھر سمجھیں کہ غم ہمارا مقدر نہیں بلکہ ہماری عادت بن چکا ہے۔ ہمارے ہاں ہر سانحہ محض وقتی غم ہوتا ہے۔ چند روز تک مذمت، تعزیت، بیانات اور بحث جاری رہتی ہے پھر زندگی اپنی رفتار پکڑ لیتی ہے۔ اس دوران ایک اور خاندان بکھر جاتا ہے، ایک اور ماں اپنے بیٹے کی راہ تکتی رہ جاتی ہے، ایک اور بچہ اپنے باپ کے بغیر بڑا ہو جاتا ہے اور افسوس یہ بھی ہے کہ ہم اجتماعی طور پر اس تسلسل کے اس قدر عادی ہو چکے ہیں کہ حادثہ اب ہمیں چونکاتاکم اور افسردہ زیادہ کرتا ہے۔ جہاں تک ریاست کی بات ہے تو اس کی ذمہ داری صرف دہشت گردوں کا تعاقب کرنا نہیں بلکہ ہر شہری کو یہ یقین دلانا بھی ہے کہ اس کی جان، اس کا سفر اور اس کا خاندان محفوظ ہے۔ تحفظ کا احساس صرف چوکیوں اور ناکوں سے پیدا نہیں ہوتا بلکہ موثرحکمت عملی، بروقت فیصلوں اور مستقل عمل سے جنم لیتا ہے۔ جب تک عام آدمی خود کو محفوظ محسوس نہیں کرے گا تب تک سرمایہ کاری ، ترقی اور قومی یکجہتی کے دعوے ادھورے رہیں گے۔
بی ایل اے اور ایسے تمام دہشت گرد نیٹ ورک جو اپنے مذموم مقاصد کے لیے معصوم انسانوں کے خون کو ہتھیار بنارہے ہیں یہ گروہ کسی قوم، کسی علاقے یا کسی نظریے کے نمائندے نہیں بلکہ خوف، نفرت اور بربریت کے پجاری ہیں۔ ان کے لیے ایک بچے کی مسکراہٹ، ایک ماں کی آغوش، ایک باپ کا سایہ اور ایک خاندان کی خوشیاں کوئی معنی نہیں رکھتیں۔ ریاست پر لازم ہے کہ ایسے تمام دہشت گرد عناصر کے خلاف بلاامتیاز، بے رحم اور فیصلہ کن کارروائی کرے کیونکہ دہشت گردی کے ساتھ نہ مصالحت ممکن ہے اور نہ ہی مصلحت کی کوئی گنجائش ہونی چاہیے۔
اگر آج بھی ہم ان دہشت گردوں اور قاتلوں کے سامنے قومی عزم کی ایک مضبوط دیوار کھڑی نہ کر سکے تو آنے والی نسلوں کو آخر کس یقین کے ساتھ یہ بتائیں گے کہ یہ ملک ان کے لیے محفوظ ہے۔

یہ بھی پڑھیں