Search
Close this search box.
منگل ,30 جون ,2026ء

معاہدے کے بعد ابھرتا سوال، یہ جنگ آخرکس لئے تھی؟

(گزشتہ سے پیوستہ)
توانائی کی گزرگاہوں پرکنٹرول نے مستقبل کی جنگوں کی نوعیت کوتبدیل کرنے کے امکانات کوجنم دیاہے،جہاں اقتصادی اورجغرافیائی عوامل مرکزی کردار اداکریں گے۔یوں ایران نے دریافت کیاکہ عالمی معیشت کی نبض پرہاتھ رکھناکسی بھی عسکری اتحادسے زیادہ مؤثر ہوسکتا ہے،ایک سستامگرکاری ہتھیاراور مستقبل کی جنگوں کی نوعیت پرگہرے اثرات مرتب کرے گا۔اب میدانِ جنگ صرف سرحدیں نہیں بلکہ تجارتی راستے بھی ہوں گے اورایران نے اس جنگی حکمت عملی سے بھرپورفائدہ اٹھایاجوبالآخر ان کی کامیابی کاسبب بنا۔
خطے میں ایران کے علاقائی اتحادی اگرچہ کمزورہوئے ہیں،مگران کاوجودبرقراررہنااب بھی ایک حقیقت ہے۔یہ حقیقت اس امرکی غماز ہے کہ نظریاتی اتحادمحض عسکری دباسے ختم نہیں کیے جاسکتے۔اگرچہ شام میں اسدحکومت کاخاتمہ ہوچکا،مگرایران کامزاحمتی محور ابھی باقی ہے، زخم خوردہ سہی،مگرزندہ۔تاہم اس کی حقیقی قوت اب سوالیہ نشان بن چکی ہے۔
جوہری پروگرام اس تنازعے کاسب سے حساس اورپوری کہانی کاایک ایساپہلوہے جوبیک وقت طاقت کے توازن اورعالمی عدم پھیلا ؤکے اصولوں کے درمیان کشمکش اورخطرہ کو ظاہرکرتاہے۔اس نے ایران کوعالمی سطح پرایک اہم کھلاڑی بنایا،مگراسی کے ساتھ اسے تصادم کے دہانے پربھی لاکھڑاکیا۔ایران کاجوہری پروگرام اب بھی اس کہانی کاایک اہم باب ہے۔اگرچہ اس کامقصد ہمیشہ پرامن قراردیا گیا،مگراس نے خطرے کی ایک ایسی فضاپیداکی جس نے جنگ کوجنم دیا۔
عسکری کامیابیاں اکثروقتی ہوتی ہیں،جبکہ سٹریٹجک نتائج دیرپا۔امریکااوراسرائیل کی کارروائیاں اسی تضادکی مثال ہیںجہاں میدان میں کامیابی، مگر مقصدمیں ناکامی نظرآئی۔ امریکااوراسرائیل کی عسکری کامیابیاں سٹریٹجک ناکامی کونہیں روک سکیں،جواس بات کی دلیل ہے کہ میدانِ جنگ میں کامیابی ہمیشہ سیاسی مقاصدکے حصول کی ضمانت نہیں ہوتی۔ امریکااور اسرائیل کی فضائی قوت نے وقتی کامیابیاں ضرورحاصل کیں،مگروہ ایک سٹریٹجک ناکامی کونہ روک سکیں۔ حکومت کی تبدیلی کاخواب سادہ مفروضوں کی نذرہوگیا۔
ایرانی نظام،اپنی تمام ترخامیوں کے باوجود، نظرئیے،مذہب اورقومی بقاء کے تصورپرقائم ہے،ایک ایساتصورجوعراق جنگ کے شعلوں میں پروان چڑھا۔یہ نظام اس امرکی نشاندہی کرتاہے کہ نظریاتی اورمذہبی بنیادیں ریاستی استحکام میں اہم کرداراداکرتی ہیں،خاص طور پرجب وہ قومی شناخت سے جڑی ہوں۔یہ اس بات کی بھی دلیل ہے کہ نظریاتی بنیادیں، چاہے متنازع ہی کیوں نہ ہوں،ریاست کوایک خاص نوع کی پائیداری عطاکرتی ہیں۔یہی پائیداری اسے بیرونی دباؤکے سامنے جھکنے سے روکتی ہے۔
سیاسی بیانات اورعملی نتائج کے درمیان فرق اس بات کوظاہرکرتاہے کہ قیادت کے دعوے اکثرزمینی حقیقتوں سے ہم آہنگ نہیں ہوتے۔ سیاسی قیادت کے بیانات اکثرجذباتی ہوتے ہیں،مگرتاریخ انہیں عملی نتائج کی کسوٹی پرپرکھتی ہے۔اس جنگ میں بھی یہی ہواالفاظ بلند تھے،مگرنتائج مختلف۔ٹرمپ کے بیانات حکومت کے خاتمے کی پیش گوئیاں اورغیر مشروط ہتھیارڈالنے کے مطالباتوقت کی گرد میں گم ہوگئے۔مذہبی وتاریخی استعاروں کااستعمال اس بات کی نشاندہی کرتاہے کہ یہ تنازعہ محض سیاسی نہیں بلکہ تہذیبی اورفکری جہتیں بھی رکھتا ہے مگرجب عمل کاوقت آیاتویہ استعارے حقیقت کا بوجھ نہ اٹھاسکے۔یہی وجہ ہے کہ عملی سطح پریہ بیانیے پالیسی کی کامیابی کی ضمانت نہ بن سکے۔مذہبی وتاریخی بیانیے کا استعمال اس تنازعے کوایک تہذیبی رنگ دیتاہے،نیتن یاہونے بائبل کی زبان میں اس جنگ کوبیان کیا،مگرنہ وہ اپنے خواب کی تعبیرپاسکااور نہ ہی ٹرمپ اپنی خواہش کی تکمیل کرسکا۔
یہ مفاہمتی یادداشت کوئی حتمی معاہدہ نہیں بلکہ ایک دروازہ ہے اس بڑے سوال کی طرف جوایران کے جوہری پروگرام سے جڑاہے۔ تاہم مفاہمتی یادداشت دراصل ایک عبوری پل ہے ایک ایساپل جودومتضاد بیانیوں کووقتی طورپرجوڑتا ہے،مگراس کی مضبوطی آئندہ مذاکرات پرمنحصر ہے۔اس لئے مفاہمتی یادداشت کو ایک عبوری معاہدہ سمجھناچاہیے،جواصل مسئلے یعنی جوہری پروگرام کے حل کی طرف ایک ابتدائی قدم ہے۔
اعتمادکافقدان یااعتبارکی کمی اس پورے عمل کی سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔جوکسی بھی معاہدے کی پائیداری کومتاثرکرسکتی ہے۔جب تک یہ خلیج برقرار ہے، ہرمعاہدہ غیریقینی کے سائے میں رہے گا کیونکہ آنے والے ساٹھ دن مذاکرات کے لئے فیصلہ کن ہوں گے، مگر بداعتمادی کی فضا میں ہرقدم خطرے سے خالی نہیں۔ نیتن یاہوجیسے شدت پسندعناصراس عمل کو ناکام بنانے کے درپے ہیں۔
ایران کے لئے سب سے بڑا چیلنج توازن برقراررکھناہے ،ایک طرف معاشی بہتری کی خواہش اور دوسری طرف نظریاتی مؤقف کی پاسداری ایک بڑاچیلنج ہوگا۔یہ توازن ہی اس کی آئندہ پالیسی کی سمت متعین اوراس کے مستقبل کافیصلہ کرے گا۔ایران اگراپنی شرائط میں سختی دکھاتاہے تووہ ان معاشی فوائدکوکھوسکتاہے جواس کی کمزورمعیشت کے لئے سہارابن سکتے ہیں۔تاہم،یہ معاہدہ اس جنگ سے کہیں بہترہے جس نے دنیاکو کسادبازاری کے دہانے پرلاکھڑاکیا۔
اگرمذاکرات کامیاب ہوئے تونہ صرف مشرقِ وسطی میں طاقت کاتوازن تبدیل ہوسکتاہے بلکہ تقدیر بدل سکتی ہے اوریہ خطہ ایک نئے دورمیں داخل ہوسکتاہے ایک ایسادورجہاں تصادم کی جگہ تعاون لے لے مگراس کے لئے طویل المدتی سفارتی کوششیں اورباہمی اعتماد کی بحالی ناگزیر ہوگی۔تاریخ کی روشنی میں یہ امیدایک نازک شمع کی مانندہے،جسے ذراسی ہوا بھی بجھاسکتی ہے۔ تاریخ کے اوراق گواہ ہیں کہ’’اگر‘‘کاپل صراط سب سے دشوارہوتاہے۔
یہ تنا زعہ اس حقیقت کواجاگرکرتاہے کہ جدید عالمی سیاست میں طاقت کی نوعیت تبدیل ہورہی ہے۔ عسکری قوت اب بھی اہم ہے،مگر اقتصادی، جغرافیائی اورنظریاتی عوامل اس کے ساتھ مل کرایک پیچیدہ توازن پیداکرتے ہیں۔اس لیے کسی بھی تنازعے کاتجزیہ محض ایک زاوئیے سے نہیں بلکہ کثیرجہتی تناظرمیں کرناناگزیر ہے۔ یہ داستان ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ جنگیں صرف میدان میں نہیں ہاری جاتیں، بلکہ بعض اوقات وہ ذہنوں کے اندیشوں اورفیصلوں کی لغزش میں پہلے ہی ہاردی جاتی ہیں۔اورپھرصلح کے کاغذپرلکھاہرلفظ،ایک ان کہی شکست کااعتراف بن جاتاہے۔
یہ جنگ محض باروداوربارشِ آتش کی داستان نہیں،بلکہ انسانی فیصلوں،سیاسی غلطیوں اورتاریخی جبر کی ایک ایسی حکایت ہے جس کا سب سے گہرا سوال یہی ہے:
’’جب انجام وہی تھا تو آغاز کیوں ہوا؟‘‘

یہ بھی پڑھیں