Search
Close this search box.
منگل ,30 جون ,2026ء

جو سربلند ہے اب بھی وہ سر حسین ؓکا ہے

حضرت امام حسین ؓنے جب شمع بجھا کر جانے والوں کو موقع دیا تو کسے معلوم تھا کہ اس کے بجھتے ہی اندھیرا نہیں، ایسا اجالا پھیلے گا جووہاں موجود فدا ئیانِ حسین ؓ کے دلوں کو منور کرتا چلا جائے گا۔ ایسا نور پھوٹے گاجو رہتی دنیا تک حق وباطل کے درمیان لکیر کو واضح کرتا رہے گا۔ یہ کیسا اندھیرا تھا ، جہاں آنے والی کربناک صبح کا منظر سب کو دکھائی دے رہا تھا، مگر نہ تو کسی کے ارادے متزلزل ہوئے اور نہ کسی کی استقامت میں کوئی لغزش آئی ۔ کربلا کی فضا میں گہرا سکوت تھا اوردریائے فرات کی پرسکون بہتی موجوں کے سینے میں آنے والا خونریز طوفان انگڑائی لے رہا تھا۔ یہ وقوع پزیر ہونے والا وہی دل گرفتہ منظر تھا جس کے بارے میں ہمارے پیارے نبی محمد ﷺ کو بھی ان کی حیاتِ طیبہ میں آگاہ کر دیا گیا تھا۔اُمِ سلمہ سے روایت کردہ حدیث کا مفہوم ہے کہ ان سے نبی کریم ﷺ نے فرمایا۔’’میرے گھر میں ایک فرشتہ آیا جو اس سے پہلے کبھی نہیں آیا تھا۔اس نے مجھ سے کہا کہ تمہارا یہ بیٹا(نواسہ) حسین ؓ شہید کر دیا جائے گا۔اگر آپ ﷺ چاہیں تو میں اس زمین کی مٹی دکھا دوں جہاں وہ شہید ہوں گے۔پھر اس نے سرخ مٹی نکال کر دکھائی‘‘۔
۱۰ محرم، ۶۱ ہجری کو فرات کنارے جس طرح آلِ مصطفےﷺ کے لہو سے خاکِ کربلا کو سرخ کر دیا گیا، وہ الم ناک منظر دیکھنے، سوچنے ،لکھنے اور پڑھنے کے لئے بھی آہنی اعصاب کی ضرورت ہے۔ فرات کی لہروں نے کیسے یہ منظر دیکھا ہو گا؟ ریگزار کربلا نے کیسے ان شہدا کا لہو جذب کیا ہو گا؟یہ سوچ کر دل دہل جاتا ہے کہ یزید اور اس کی سپاہ کے دل میں کیا زرا سا بھی لحاظ ِحرمتِ رسول ﷺ نہ تھا؟ کیا ان کوخبر نہ تھی کہ وہ کس خاندان کو خون میں نہلا رہے ہیں اور کس پر تلوار سونت رہے ہیں؟ وہ صرف نواسہ رسول ﷺنہیں بلکہ دلدار سرورِ کونین ﷺ ، مسکان مصطفے ﷺ ، فرحینِ فاطمہؓ اور لختِ مرتضے ؓتھے، وہی سر قلم کر دیا گیا جس پر آقائے دو جہاںﷺ نے جنتی نوجوانوں کے سردار کا تاج رکھا۔ کیسے سرکش لوگ تھے جو یہ فراموش کر بیٹھے کہ رسول اللہ ﷺ نے اہلِ بیت کی عظمت، ان سے محبت اور احترام کی بے حد تلقین فرمائی ہے۔ صحیح مسلم میں روایت کردہ حدیث کا مفہوم ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا’’ میں تم میں دو چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں، پہلی کتاب اللہ جس میں ہدایت اور نور ہے، پس تم اللہ کی کتاب کو مضبوطی سے تھام لو، اور دوسری میرے اہل بیت ہیں۔ میں تمہیں اپنے اہل بیت کے بارے میں اللہ سے ڈراتا ہوں‘‘۔اہل بیت سے متعلق یہ الفاظ آپﷺ نے تین مرتبہ دہرائے مگر نبی کریمﷺ کے اس دنیا سے پردہ فرمانے کے ۵۰ سال بعد ہی ان کی اس تلقین کو بدبخت گروہوں نے پسِ پشت ڈال دیا۔ روزِ محشر اسی خاک کا ذرہ ذرہ جب ان مظالم کی گواہی دے گا تو اس خون کو بہانے والے، اس میں حصہ لینے والے اور سید زادیوں کو سرِ بازاربرہنہ سر گھمانے والوں کو بھیانک انجام سے کون بچا پائے گا۔
آلِ رسول ﷺ نے ایسی لازوال قربانی پیش کی جو وقت کے کسی لمحے میں قید نہ رہی۔ چودہ سو برس سے زائد عرصہ بیت گیا، سلطنتیں مٹ گئیں، حکمرانوں اور بادشاہوں کے نام دھندلا گئے، لیکن فرات کنارے لکھی اس زندہ داستان سے آج بھی لہو رِس رہا ہے۔ واقعہ کربلا ایسا فیصلہ کن موڑ ثابت ہواجس نے حکمرانوں، عوام، علما اور سیاسی تحریکوں کے طرزِ فکر کو تبدیل کیا اور مسلم دنیا میں اقتدار، عدل، حریت اور مزاحمت کے تصورات کو نئی جہت عطا کی۔ یہ کربلا کی انمٹ کہانی ہی ہے جس نے رہتی دنیا تک انسانیت کو باطل قوتوں کے آگے اپنے حق کے لئے اٹھنا، بولنا، لڑنا اور مرنا سکھایا ۔ اور یہ کربلا ہی ہے جس نے بعد میں آنے والی ہر حکومت میں احتساب کا تصور مضبوط کیا۔ جابر ترین حکمران بھی عوامی حلقوں کی رائے اور ان کے اندر بڑھتی بے چینی سے خوفزدہ ہی رہے اور تاریخ گواہ ہے کہ ایسی آوازوں کو جب بھی کچلا گیا اس کا نتیجہ تخت بدری اور رسوائی کے سوا کچھ نہ نکلا۔ کربلا سے بڑھ کر عوام کی یہ تربیت بھلا آج تک کس نے کی ہے؟ حضرت امام حسینؓ کی فقید المثال قربانی اور شہادت محض عالم ِ اسلام میں نہیں بلکہ تمام عالم میں بہادری، اصول پسندی، حق گوئی اور استقامت کی علامت کے طور پر دیکھی جاتی ہے۔
محرم آتے ہی ہمارے شہروں، گلیوں ، قصبوں اور بازاروں میں ایک مخصوص غمگین فضا جنم لیتی ہے۔ سیاہ علم لہرائے جاتے ہیں، مجالس بپا ہوتی ہیں، نوحے گونجتے اور آنکھیں اشکبار ہوتی ہیں۔دلوں میں سلگتے غمِ حسین ؓکی یہ علامات اپنی جگہ معتبر اور ضروری، مگر سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا کربلا محض سوگ کی ایک یادگار ہے؟ یا اسے ایک پیغام کے طور پر بھی سمجھا گیا ؟امام حسینؓ کے پاس اقتدار نہیں، اقدار اور صداقت تھی، کوئی لشکرِ جرارنہ تھا مگر حرارت ِ ایمان ویقین تھی ۔ سوئے کوفہ عازم ِسفر ہوتے ہوئے ا مام حسینؓ کے ذہن و فکر میں اسلامی نظام کے احیا، دین کی سر بلندی اور حق وانصاف کی بحالی جیسے اعلے مقاصد نقش تھے ۔ ان کو بیعت کرنے کی تجویز بھی دی گئی اور ان کے سامنے اور راستے بھی موجود تھے مگر صحبت ِ رسول ﷺ میں پرورش پائے ضمیرنے باطل کے سامنے سر نگوں ہونا گوارا نہ کیا ۔ بقول افتخار عارف:
شرف کے شہر میں ہر بام و در حسینؓ کا ہے
زمانے بھر کے گھرانوں میں گھر حسینؓ کا ہے
فراتِ وقت رواں دیکھ! سوئے مقتل دیکھ
جو سربلند ہے اب بھی وہ سر حسینؓ کا ہے
زمیں کھا گئی کیا کیا بلند و بالا درخت
ہرا بھرا ہے جو اب بھی شجر حسینؓ کا ہے
سوال بیعتِ شمشیر پر جواز بہت
مگر جواب وہی معتبر حسینؓ کا ہے
کربلا کا پیغام وقت، مذہب اور ملکوں کی سرحدوں سے نکل کرہر دور اور ہر زمانے کے انسان کے لئے متاعِ سفر بن چکا ہے۔عصر رواں میں یزیدیت کئی صورتوں میں ہمارے آگے پیچھے برسرِ پیکار ہے اور یہ ہمارے اندر پنپتی مادیت پرستی کے روپ میں بھی ہم پر حملہ آور ہے۔ہم انفرادی اور اجتماعی سطح پر صبح سے شام جانے کیا کیا سہتے ہیںمگر خاموش رہتے ہیں۔آج کی دنیا میں تو کوئی نہ ہمارا سر کاٹ سکتا ہے اور نہ آواز اُٹھانے پر ہماری جان لے سکتا ہے مگر پھر بھی ہم غافلانہ خاموشی اختیار کرتے ہوئے اپنی معمولی آسائشوں، دنیاوی مفادات اور آرام کو قربان کرنے پر بھی تیار نہیں۔ معاشرہ جس نفسا نفسی ، خود غرضی ، انا پرستی اور ناانصافیوں کا شکار ہے ، اس کی بڑی وجہ کربلا ئی پیغام سے دوریاں ہیں۔ اہل بیت سے محبت و عقیدت کا تقاضا ہے کہ ہم رسول اللہﷺ اور ان کے نواسوں حضرت امام حسینؓ اور حضرت امام حسنؓ کی سیرتِ اطہر سے استفادہ حاصل کریں۔سچ تو یہی ہے کہ واقعہ کربلا نے جو راہِ عمل متعین کر دی ہے وہ رہتی دنیا تک حق و باطل کی کشمکش میں ہمیں راستہ دکھاتی رہے گی۔ یہی کربلا کی ابدی معنویت اور اس کا زندہ پیغام ہے۔علامہ اقبالؒ نے اسی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا:
حقیقت ابدی ہے مقامِ شبیریؓ
بدلتے رہتے ہیں اندازِ کوفی و شامی

یہ بھی پڑھیں