پاکستان داخلی سلامتی کے جس امتحان سے گزر رہا ہے اس کا نتیجہ ملک کے مستقبل کی سمت متعین کرے گا کیونکہ داخلی سلامتی اب محض سکیورٹی کا مسئلہ نہیں رہی بلکہ ریاستی استحکام، معاشرتی ہم آہنگی اور قومی مستقبل کا بنیادی سوال بن چکی ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ اس ملک نے صرف بندوقوں سے نہیں بلکہ اپنے شہریوں کے لہو، معاشی نقصان اور اجتماعی نفسیات کی ٹوٹ پھوٹ کی قیمت پر لڑی ہے۔ سوال یہ نہیں کہ دہشت گردی کےخطرے سے کیسے نمٹا جائے بلکہ یہ ہے کہ ریاست اس خطرے کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے کیا فیصلہ کن اقدامات کرنے کو تیار ہےجو دیرپا امن کی ضمانت بن سکیں۔دہشت گردی کےخلاف اس طویل جدوجہد میں پاکستان کے سیکیورٹی اداروں، مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے جس غیر معمولی پیشہ ورانہ مہارت، قربانی اور عزم کا مظاہرہ کیا ہے قابل تحسین ہے،بے شمار افسروں اور جوانوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے یہ ثابت کیا ہے کہ وطن کا دفاع محض ایک فریضہ نہیں بلکہ ایک مقدس ذمہ داری ہے۔ انہی قربانیوں کی بدولت ریاستی ڈھانچہ برقرار رہا اور معاشرہ مکمل انتشار سے محفوظ رہا۔
دہشت گردی نے ہر دور میں نئی شکل اختیار کی۔ عبادت گاہیں، تعلیمی ادارے،بازار اورعوامی مقامات اس خونریزی کا نشانہ بنتے رہے۔ ہزاروں جانوں کا ضیاع محض اعداد و شمار نہیں بلکہ قومی حافظے پر نقش ایک اجتماعی صدمہ ہے۔ دہشت گرد تنظیموں نے نظریاتی بیانیے کے ذریعے نوجوان ذہنوں کو مسخ کیا، ریاستی عملداری کو چیلنج کیا اور خوف کو ایک نفسیاتی ہتھیار میں تبدیل کر دیا۔ یہ جنگ صرف عسکری محاذ پر نہیں لڑی جا رہی یہ ذہنوں، بیانیوں اور معاشرتی ڈھانچوں کے اندر بھی جاری ہے۔گزشتہ دو دہائیوں میں دہشت گرد تنظیموں نے اپنی حکمت عملی بدل کر ریاستی نگرانی سے بچنے کے طریقے اختیار کیے۔ سلیپر سیلز کے ذریعے خفیہ نیٹ ورکس قائم کیے جو بظاہر عام شہری زندگی کا حصہ دکھائی دیتے ہیں مگر کسی بھی لمحے تباہی پھیلانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ماضی کے کامیاب آپریشنز نے دہشت گرد ڈھانچے کو کمزور کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔سیکیورٹی اداروں نےنہ صرف دہشت گردوں کے منظم ڈھانچوں کو توڑا بلکہ حساس تنصیبات، شہری مراکز اور عوامی مقامات کے تحفظ کو یقینی بنایا۔ یہی ادارہ جاتی صلاحیت موجودہ گرینڈ آپریشن کو بھی مؤثر بنانے کی بنیاد فراہم کرتی ہے۔اسی پس منظر میں وفاقی حکومت کا ملک گیرگرینڈ آپریشن کا فیصلہ محض ایک سکیورٹی اقدام نہیں بلکہ ریاستی سنجیدگی کا امتحان ہے۔ اس کارروائی کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ داعش سمیت بین الاقوامی دہشت گرد گروہوں کی ممکنہ موجودگی ایک مسلسل خطرہ بنی ہوئی ہے۔ دہشت گرد نیٹ ورکس اب روایتی ڈھانچوں تک محدود نہیں رہے وہ نام بدلتے ہیں، رفاہی سرگرمیوں کے پردے میں کام کرتے ہیں اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے نئی نسل کو اپنی گرفت میں لیتے ہیں۔ اس حقیقت نے واضح کر دیا ہے کہ دہشت گردی اب بندوق سے زیادہ بیانیے اور نیٹ ورکنگ کی جنگ بن چکی ہے لہٰذا اس کے خلاف حکمت عملی بھی ہمہ جہتی ہونی چاہیے۔ دہشت گرد تنظیمیں صرف جنگجو گروہ نہیں بلکہ معاشرتی ساخت میں سرایت کرجانے والے خفیہ عناصر ہیں۔ ان سلیپر سیلز کے خلاف کارروائی انٹیلی جنس نظام کی پختگی اور ادارہ جاتی ہم آہنگی کی مظہر ہوگی، جدید ٹیکنالوجی، ڈیٹا تجزیے اور پیشگی معلومات کے ذریعے خطرات کی نشاندہی کرنا سیکیورٹی اداروں کی پیشہ ورانہ ترقی کا ثبوت ہے۔ یہ امر قابل ستائش ہے کہ ادارے روایتی سکیورٹی اقدامات سے آگے بڑھ کر جدید تقاضوں کے مطابق اپنی صلاحیتوں کو مسلسل بہتر بنا رہے ہیں۔ اس کارروائی کا مقصد محض حملوں کی روک تھام نہیں بلکہ دہشت گردی کے پورے نیٹ ورک اور اس کی خفیہ سرگرمیوں کا خاتمہ ہونا چاہیے۔تاہم تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ صرف طاقت کے استعمال سے امن قائم نہیں ہوتا۔ دہشت گردی کے خلاف دیرپا کامیابی کے لیے سماجی ناانصافی، معاشی محرومی اور سیاسی بے دخلی جیسے عوامل کا سدباب بھی ناگزیر ہے۔ تعلیم، روزگار، سیاسی شمولیت اور سماجی انصاف امن کے حقیقی محافظ ہیں۔ اگر یہ ستون مضبوط نہ ہوں تو سکیورٹی آپریشنز وقتی سکون تو دے سکتے ہیں مگر پائیدار استحکام نہیں۔یہ فیصلہ پاکستان کے عالمی تشخص کے تناظر میں بھی اہم ہے۔ ایک غیر محفوظ ملک سرمایہ کاری، سیاحت اور معاشی ترقی کے مواقع کھو دیتا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف سنجیدہ اقدامات عالمی اعتماد کو بحال کرتے ہیں اور یہ پیغام دیتے ہیں کہ ریاست اپنی سرزمین پر قانون کی بالادستی قائم رکھنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ایک مستحکم پاکستان نہ صرف اپنے شہریوں کے لیے بلکہ پورے خطے کے استحکام کے لیے امن کا ضامن ہو سکتا ہے۔اس مرحلے پر قانون کی بالادستی اور شہری آزادیوں کا تحفظ بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔
یہ امر یقیناًخوش آئندہے کہ ریاستی ادارے دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کو قانون کی عملداری، آئینی تقاضوں اور انسانی حقوق کے احترام کے دائرے میں رکھتے ہوئے انجام دے رہے ہیں۔ طاقت کے استعمال میں ذمہ داری اور قانونی شفافیت ریاستی اداروں کی پیشہ ورانہ سنجیدگی اور جمہوری اصولوں سے وابستگی کی علامت ہے کیونکہ طاقت اور انصاف کے درمیان توازن ہی پائیدار امن کی بنیاد بنتا ہے۔ جہاں تک ملک کے دیگر ستونوں کی بات ہے تو میڈیا اور سول سوسائٹی کا کردار بھی اس جنگ میں کلیدی ہے۔ ذمہ دارانہ رپورٹنگ، نفرت انگیز بیانیے کی بیخ کنی اور قومی یکجہتی کے فروغ کے لیے آواز بلند کرنا ضروری ہے۔ مذہبی و سماجی قیادت امن، برداشت اور اعتدال کے پیغام کو عام کر کے شدت پسند نظریات کو کمزور کر سکتی ہے۔ بیانیے کی جنگ جیتے بغیر بندوق کی جنگ مکمل نہیں ہوتی۔ پاکستانی عوام نے دہشت گردی کے خلاف غیرمعمولی استقامت کا مظاہرہ کیا ہے۔ شہداء کی قربانیاں اس بات کی گواہ ہیں کہ یہ قوم خوف کے سامنے سرنگوں ہونےکے بجائے مزاحمت کو ترجیح دیتی ہے۔ پاکستان کے سیکیورٹی اداروں اور مسلح افواج کی قربانیاں اور پیشہ ورانہ صلاحیت قومی استحکام کی بنیادی ضمانت ہیں اور ان کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرنا اس اجتماعی عزم کا اعتراف ہے جس نے دہشت گردی کے اندھیروں کے مقابل امید کا چراغ روشن رکھا۔یہ محض ایک آپریشن نہیں بلکہ ریاستی عزم کی آزمائش ہے۔ اگر سیاسی قیادت، ریاستی ادارے، عدلیہ، میڈیا، مذہبی رہنما اور عوام ایک صفحے پر آ جائیں تو دہشت گردی کےعفریت کو دفن کیا جا سکتا ہے۔ پاکستان کے پاس امن اور استحکام کی نئی داستان لکھنے کی صلاحیت موجود ہے مگر اس کے لیے وقتی جوش نہیں بلکہ مستقل مزاجی، بصیرت اور قومی اتفاق رائے درکار ہے۔فیصلہ کن لمحے قوموں کی تقدیر بدلتے ہیں شرط صرف یہ ہے کہ ریاست خطرے کو وقتی چیلنج نہیں بلکہ تاریخی موقع سمجھ کر اس کا سامنا کرے۔