گزشتہ دو برسوں سے مشرقِ وسطیٰ ایک مسلسل جنگی کیفیت میں ہے جہاں طاقت، سیاست اور انسانی بقا کے درمیان لکیر دھندلا چکی ہے۔ غزہ کی تباہی، فلسطینی عوام کی اذیت ناک حالت، اسرائیلی معاشرت کی داخلی بے چینی اور عالمی طاقتوں کی دوغلی پالیسیوں نے پورے خطے کو ایک ایسی دلدل میں دھکیل دیا ہے جہاں امن کا تصور خود ایک فریب بن چکا ہے۔ ان حالات میں نیویارک ٹائمز میں شائع ہونے والا ایک اسرائیلی تجزیہ نگار کا کالم غیر معمولی معنویت رکھتا ہے کیونکہ یہ تنقید اسرائیل کے اندر سے اٹھ رہی ہے، یعنی وہاں سے جہاں عسکری فتوحات کو اب تک قومی فخر کے طور پر پیش کیا جاتا رہا ہے۔مائراو زونزائن، جو انٹرنیشنل کرائسس گروپ میں اسرائیل کی سینئر تجزیہ کار ہیں، نے اپنے مضمون ’’Israel Cannot Go On Winning Like This‘‘ میں یہ نکتہ اٹھایا کہ اسرائیل کی مسلسل عسکری ’’فتوحات‘‘ دراصل اس کی اخلاقی اور سیاسی شکست بن چکی ہیں چونکہ یہ آواز اسرائیل کے اندر سے اٹھ رہی ہے تو یہی اس کی اہمیت بھی ہے۔قطر کے دارالحکومت دوحہ میں حماس کے رہنماؤں پر اسرائیلی حملے نے ایک بار پھر یہ واضح کر دیا کہ اسرائیل اب دوست اور ثالث ممالک کو بھی نشانہ بنانے سے گریز نہیں کرتا۔ یہ کارروائی اس وقت کی گئی جب امن مذاکرات جاری تھے اور اس اقدام نے اسرائیل کے سفارتی تشخص کو شدید نقصان پہنچایا۔ سلامتی کے نام پر پھیلائی جانے والی یہ بے یقینی اب پورے خطے کو مستقل جنگ کی فضا میں قید کر چکی ہے۔اکتوبر 2023 میں حماس کے حملوں کے بعد اسرائیل نے غزہ کو تباہی کے دہانے پر پہنچادیا ۔ ہزاروں فلسطینی جانیں ضائع ہوئیں، لاکھوں بے گھر ہوئے اور ایک پوری نسل خوف اور بھوک میں پل رہی ہے۔ اس سب کے باوجود اسرائیل اپنی عسکری کامیابیوں کو ’’فتح‘‘ قرار دیتا رہا حالانکہ نہ امن ملا اور نہ ہی استحکام۔ڈونلڈ ٹرمپ کا حالیہ امن منصوبہ جو درحقیقت ایک الٹی میٹم کی شکل رکھتا ہے، وقتی طور پر جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کی امید ضرور پیدا کرتا ہےمگر نیتن یاہو نے اسے اپنی سیاسی کامیابی کے طور پر پیش کیا ہے حالانکہ اسرائیل کے لیے یہ ایک غیر مستحکم وقفہ ہے جس میں پائیدار امن کا کوئی امکان موجود نہیں اور نہ ہی اس میں کوئی اخلاقی توازن ہی ہے۔
اقوام متحدہ کے گزشتہ اجلاس میں اسرائیل کی تنہائی عیاں تھی۔ جب بڑے مغربی ممالک نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کیا تو نیتن یاہو ایک خالی ہال سے خطاب کر رہے تھے۔ سچ تو یہ ہے کہ اسرائیل کو اب ایک غیر لچک دار، خودپسند اور غیر عقلی ریاست کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ یہ اگر درست بھی مان لیا جائےکہ اسرائیل نے حماس کی عسکری قوت کو شدید نقصان پہنچایا، حزب اللہ کو کمزور کیا اور شام میں بشارالاسد کے زوال میں کردار ادا کیا تاہم ہر محاذ پر عسکری کامیابی کے بعد بھی اسرائیل امن کی جانب ایک قدم نہیں بڑھا سکا۔ اسرائیل نے جنگ کو اپنی قومی پالیسی اور سماجی شناخت کا جزوِ لازم بنا لیا ہے۔شام میں حملوں کے دوران اسرائیل نے نئی حکومت کو مستحکم ہونے سے روکا حتیٰ کہ جب دونوں ممالک ایک ممکنہ سکیورٹی معاہدے کے قریب پہنچ چکے تھے تو اسرائیلی وزیرِ دفاع نے قابض علاقے سے طنزیہ تصویر جاری کر کے امن کی ان کوششوں کا مذاق اڑایا۔ اس طرزِ عمل نے اسرائیل کو ایک ایسی طاقت میں بدل دیا ہے جو جیتنے کے بعد بھی مطمئن نہیں بلکہ ہر لمحہ نئی لڑائی کے انتظار میں رہتی ہے۔ نیتن یاہو کی ’’سپر اسپارٹا‘‘ تقریر میں یہ اقرار مضمر تھا کہ اسرائیل اب عالمی حمایت کے بغیر خود انحصاری کی راہ پر چلے گا۔ درحقیقت یہ اعتراف نہیں بلکہ مایوسی کا اعلان تھا۔ ایک ایسی ریاست جو مسلسل جنگ کو اپنی بقا کی ضمانت سمجھے، وہ بالآخر اپنی اخلاقی اساس کھو بیٹھتی ہے۔نیتن یاہو کی سیاسی بقا کی جنگ اپنی جگہ مگر زیادہ خطرناک پہلو یہ ہے کہ اسرائیلی معاشرہ، فوج اور میڈیا اس جارحانہ بیانیے کے شریک بن چکے ہیں۔ اب اسرائیلی عوام کی ایک بڑی تعداد اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ سلامتی صرف طاقت کے استعمال سے ممکن ہے، نہ کہ انصاف اور مکالمے سے۔ یہی تصور اسرائیل کی طویل المدت شکست کی بنیاد ہے۔دنیا بھر میں اسرائیل کی کارروائیوں کو نسل کشی کے مترادف سمجھا جا رہا ہے۔ اگر جنگ بندی ہو بھی جائے تو اسرائیل بدستور غزہ، مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم پر قابض ہے جبکہ لبنان اور شام میں اس کی عسکری موجودگی بھی برقرار ہے۔ امن تبھی ممکن ہے جب اسرائیل تسلیم کرے کہ کسی قوم کی سلامتی دوسرے کی تباہی سے حاصل نہیں ہو سکتی۔جنگ کے تسلسل میں کوئی حقیقی جیت نہیں ہوتی بلکہ صرف ایک خاموش زوال ہوتا ہے جو قوموں کو اندر سے کھوکھلا کر دیتا ہے۔ اسرائیل اسی سمت میں بڑھ رہا ہے۔اسرائیل کی موجودہ حکمت عملی اس بنیادی اصول کی نفی کرتی ہے کہ طاقت کا اصل مقصد امن کا قیام ہے، نہ کہ تسلط کا دوام۔ عسکری برتری وقتی استحکام تو دے سکتی ہےمگر اسے اخلاقی جواز کے بغیر برقرار نہیں رکھا جا سکتا۔ مائراو زونزائن کی تنبیہ دراصل ایک اخلاقی مقدمہ ہے کہ جب کوئی ریاست اپنی سلامتی کو دوسروں کے وجود کی نفی پر قائم کرتی ہے تو وہ خود اپنے عدم استحکام کی بنیاد رکھتی ہے۔ اسرائیل کے لیے لمحۂ فکریہ یہی ہے کہ وہ اپنے وجود کو طاقت کے خول سے نکال کر سیاسی بلوغت، علاقائی شراکت اور انسانی وقار کی بنیاد پر ازسرِنو متعین کرے۔ ورنہ تاریخ میں وہ ایک ایسی قوم کے طور پر درج ہوگا جو لڑائی تو جیت گئی مگر اپنے اخلاقی وجود کی جنگ ہار بیٹھی۔
(بشکریہ نیویارک ٹائمز)