تاریخ عالم اس حقیقت کی گواہ ہے کہ قوموں کی ترقی، استحکام اور عروج کا انحصار صرف قدرتی وسائل، معدنی ذخائر یا جغرافیائی اہمیت پر نہیں ہوتا بلکہ اصل طاقت اس کے انسانوں، بالخصوص نوجوان نسل میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ دنیا کی ہر کامیاب قوم نے اپنے نوجوانوں کو محض آبادی کا حصہ نہیں سمجھا بلکہ انہیں قومی تعمیر و ترقی کا سب سے قیمتی سرمایہ قرار دیا۔ جاپان کی جنگ کے بعد کی تعمیر ہو، جنوبی کوریا کی معاشی ترقی ہو، چین کا صنعتی انقلاب ہو یا سنگاپور کا جدید ریاستی ماڈل، ہر جگہ نوجوانوں کو تعلیم، ہنر، روزگار اور قیادت کے مواقع فراہم کرکے ترقی کی نئی داستانیں رقم کی گئیں۔ پاکستان بھی دنیا کے ان خوش نصیب ممالک میں شامل ہے جہاں نوجوان آبادی کا تناسب انتہائی بلند ہے۔ پاکستان کی تقریبا دو تہائی آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے جو اگر درست سمت، مناسب تعلیم، جدید مہارتوں اور بہتر مواقع سے آراستہ ہو جائے تو ملک کو ترقی کی شاہراہ پر گامزن کرنے میں فیصلہ کن کردار ادا کر سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران نوجوانوں کی ترقی کو قومی ترجیحات میں شامل کیا گیا اور 2013ء میں وزیرِاعظم یوتھ پروگرام کا آغاز ایک ایسے وژن کے ساتھ کیا گیا جس کا بنیادی مقصد نوجوانوں کو مصروفِ عمل، بااختیار اور تعلیم یافتہ بنانا تھا۔ اس پروگرام نے نوجوانوں کے لئے تعلیم، ہنر مندی، کاروباری مواقع، قرضہ جات، کھیلوں کے فروغ اور روزگار کے متعدد منصوبوں کی بنیاد رکھی۔ وقت گزرنے کے ساتھ دنیا کے سماجی، معاشی اور تکنیکی حالات میں بڑی تبدیلیاں رونما ہوئیں جنہوں نے نوجوانوں کے مسائل اور ضروریات کی نوعیت کو بھی بدل دیا۔ چنانچہ اس پروگرام کے وژن کو مزید وسعت دیتے ہوئے تین نئے اہم شعبوں کا اضافہ کیا گیا جن میں Girls learn,Girls Earn، محنت میں عظمت اور Jobs of the future شامل ہیں۔ یہ تینوں اقدامات دراصل موجودہ دور کے تقاضوں اور نوجوانوں کو درپیش عملی چیلنجز کا ادراک کرتے ہوئے تشکیل دئیے گئے ہیں “Girls learn,Girls Earn”کاتصور اس حقیقت پر مبنی ہے کہ کسی بھی معاشرے کی حقیقی ترقی اس وقت تک ممکن نہیں جب تک خواتین کو تعلیم، معاشی سرگرمیوں اور فیصلہ سازی کے عمل میں بھرپور شرکت کے مواقع میسر نہ ہوں۔
پاکستان میں خواتین آبادی کا تقریباً نصف حصہ ہیں لیکن مختلف سماجی، معاشی اور ثقافتی رکاوٹوں کے باعث ان کی ایک بڑی تعداد معاشی سرگرمیوں میں حصہ نہیں لے پاتی۔ اگر خواتین کو جدید تعلیم، ڈیجیٹل مہارتوں، فری لانسنگ، آن لائن کاروبار اور پیشہ ورانہ تربیت کے مواقع فراہم کیے جائیں تو وہ نہ صرف اپنی ذاتی زندگی میں خودمختار بن سکتی ہیں بلکہ قومی معیشت میں بھی نمایاں کردار ادا کر سکتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ خواتین کو سیکھنے اور کمانے کے مواقع فراہم کرنا دراصل قومی ترقی کے عمل کو تیز کرنے کے مترادف ہے۔ اسی طرح محنت میں عظمت کا تصور پاکستانی معاشرے میں ایک اہم ذہنی اور سماجی تبدیلی کا تقاضا کرتا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں کئی دہائیوں سے بعض پیشوں کو کم تر سمجھنے کا رجحان موجود رہا ہے جس کے نتیجے میں نوجوان صرف مخصوص نوعیت کی ملازمتوں کو ترجیح دیتے ہیں جبکہ فنی اور تکنیکی شعبوں کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ حالانکہ ترقی یافتہ ممالک کی معیشتوں کی بنیاد ہنر مند افرادی قوت پر استوار ہے۔ ایک الیکٹریشن، پلمبر، مکینک، ٹیکنیشن، ویلڈر یا دیگر فنی ماہرین معاشی ترقی میں اتنا ہی اہم کردار ادا کرتے ہیں جتنا کوئی سفید پوش ملازم۔ محنت کو عزت دینا دراصل معاشرے میں کام کے ہر شعبے کے احترام کو فروغ دینا ہے تاکہ نوجوان اپنی صلاحیتوں اور دلچسپی کے مطابق کسی بھی شعبے میں بلا جھجھک آگے بڑھ سکیں۔ اس سوچ کے فروغ سے نہ صرف بے روزگاری میں کمی آئے گی بلکہ ملک کو درکار ہنر مند افرادی قوت بھی میسر آئے گی۔ تیسرا اور نہایت اہم شعبہ Jobs of the future ہے جو جدید دنیا میں تیزی سے بدلتی ہوئی معاشی اور تکنیکی حقیقتوں کا عکاس ہے۔ مصنوعی ذہانت، روبوٹکس، ڈیٹا سائنس، سائبر سکیورٹی، کلاڈ کمپیوٹنگ، ای کامرس، ڈیجیٹل مارکیٹنگ اور گرین ٹیکنالوجی جیسے شعبے مستقبل کے روزگار کی بنیاد بن رہے ہیں۔
عالمی اداروں کے مطابق آنے والے برسوں میں لاکھوں روایتی ملازمتیں ختم ہوں گی جبکہ کروڑوں نئی ملازمتیں جدید مہارتوں کے حامل افراد کے لیے پیدا ہوں گی۔ ایسے میں پاکستان کے نوجوانوں کو صرف روایتی تعلیم تک محدود رکھنا کافی نہیں بلکہ انہیں مستقبل کی ضروریات کے مطابق مہارتوں سے آراستہ کرنا ناگزیر ہے۔ اگر آج نوجوانوں کو جدید علوم اور ٹیکنالوجی کی تربیت فراہم کی جائے تو وہ نہ صرف ملکی سطح پر بلکہ عالمی منڈی میں بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا سکتے ہیں۔ پاکستان میں فری لانسنگ کے شعبے میں نوجوانوں کی کامیابیاں اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ مناسب تربیت اور مواقع میسر ہوں تو پاکستانی نوجوان عالمی سطح پر بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کر سکتے ہیں۔ نوجوانوں کی ترقی کے لیے صرف حکومتی پروگرام ہی کافی نہیں ہوتے بلکہ تعلیمی اداروں، صنعتوں، نجی شعبے، سماجی تنظیموں اور والدین کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوتا ہے۔ جامعات کو ایسے نصاب متعارف کروانے چاہیئے جو عملی زندگی اور مارکیٹ کی ضروریات سے ہم آہنگ ہوں۔ صنعتوں کو تربیتی پروگراموں اور انٹرن شپ کے مواقع فراہم کرنے چاہیے جبکہ نجی شعبے کو نوجوانوں کے لئے روزگار اور کاروباری امکانات پیدا کرنے میں سرمایہ کاری کرنی چاہیے۔ اسی طرح والدین کو بھی نوجوانوں کی دلچسپیوں اور صلاحیتوں کو سمجھتے ہوئے انہیں جدید شعبوں میں آگے بڑھنے کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔ آج کا دور صرف ڈگریوں کا نہیں بلکہ مہارتوں اورتخلیقی صلاحیتوں کا دور ہے۔ وہ قومیں آگے بڑھ رہی ہیں جو اپنے نوجوانوں کو تحقیق، اختراع اور کاروباری سرگرمیوں کی جانب راغب کر رہی ہیں۔ پاکستان کے نوجوان بھی بے پناہ صلاحیتوں کے مالک ہیں۔ وہ کھیل، تعلیم، سائنس، ٹیکنالوجی، کاروبار، فنون اور سماجی خدمات سمیت ہر شعبے میں اپنی قابلیت کا لوہا منوا چکے ہیں۔ ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ انہیں مناسب مواقع، رہنمائی اور اعتماد فراہم کیا جائے۔ اگر نوجوانوں کو تعلیم، ہنر، روزگار اور قیادت کے مواقع میسر آ جائیں تو وہ نہ صرف اپنی زندگی بدل سکتے ہیں بلکہ پورے ملک کی تقدیر بھی سنوار سکتے ہیں۔ پاکستان کا مستقبل اس کے نوجوانوں سے وابستہ ہے اور نوجوانوں کا مستقبل ان پالیسیوں اور اقدامات سے وابستہ ہے جو انہیں بااختیار بناتے ہیں۔ وزیرِاعظم یوتھ پروگرام اور اس کے تحت متعارف کروائے گئے نئے اقدامات اسی سمت میں ایک اہم پیش رفت ہیں جو نوجوانوں کو قومی ترقی کے دھارے میں شامل کرنے، خواتین کو معاشی خودمختاری فراہم کرنے، محنت کے وقار کو فروغ دینے اور مستقبل کی ملازمتوں کے لئے نئی نسل کو تیار کرنے کا عزم رکھتے ہیں۔ اگر یہ اقدامات تسلسل، شفافیت اور مثر عملدرآمد کے ساتھ آگے بڑھتے رہے تو وہ دن دور نہیں جب پاکستان کی نوجوان نسل ملک کو ترقی، خوشحالی، استحکام اور عالمی وقار کی نئی بلندیوں تک پہنچانے میں اپنا تاریخی کردار ادا کرے گی اور پاکستان حقیقی معنوں میں ایک مضبوط، خوداعتماد اور ترقی یافتہ ریاست کے طور پر دنیا کے نقشے پر ابھرے گا۔