نئی سوچ، نئی مہارتیں، نیا پاکستان
تاریخ عالم اس حقیقت کی گواہ ہے کہ قوموں کی ترقی، استحکام اور عروج کا انحصار صرف قدرتی وسائل، معدنی ذخائر یا جغرافیائی اہمیت پر نہیں ہوتا بلکہ اصل طاقت اس کے انسانوں، بالخصوص نوجوان نسل میں پوشیدہ ہوتی ہے۔
تاریخ عالم اس حقیقت کی گواہ ہے کہ قوموں کی ترقی، استحکام اور عروج کا انحصار صرف قدرتی وسائل، معدنی ذخائر یا جغرافیائی اہمیت پر نہیں ہوتا بلکہ اصل طاقت اس کے انسانوں، بالخصوص نوجوان نسل میں پوشیدہ ہوتی ہے۔
تاریخ کے اوراق میں قوموں کی ترقی کا سفر ہمیشہ مشکل مراحل، آزمائشوں اور مسلسل محنت سے عبارت رہا ہے۔ دنیا کی وہی اقوام آگے بڑھیں جنہوں نے مشکلات کو منزل کی راہ میں رکاوٹ بنانے کے بجائے اصلاحات، استحکام
پچھلی کئی دہائیوں کی عالمی اور علاقائی تاریخ اس حقیقت کو بار بار دہراتی ہے کہ جب طاقت کا توازن بگڑتا ہے، جب خطوں میں بڑی طاقتوں کی مداخلت بڑھتی ہے اور جب سیاسی مفادات انسانی زندگیوں سے زیادہ اہم
افغانستان اور پاکستان کے تعلقات صرف سرحدوں تک محدود نہیں بلکہ تاریخ، ثقافت، مذہب، زبان، تجارت اور انسانی رشتوں سے جڑی ایک طویل داستان ہے۔ صدیوں سے یہ خطہ حملہ آوروں،صوفیوں،تاجروں اورمہاجرین کی گزرگاہ رہا ہے۔ افغانستان دنیا کے ان
پاکستان کی سرزمین ہمیشہ سے تقدیر کے اس موڑ پر کھڑی رہی ہے جہاں خواب بھی بڑے دیکھے جاتے ہیں اور آزمائشیں بھی شدید آتی ہیں۔یہ وہ خطہ ہے جسے قدرت نے جغرافیائی اہمیت، تہذیبی وقار، تاریخی ورثے اور روحانی
تاریخِ عالم اس اٹل حقیقت کی بارہا گواہی دیتی ہے کہ جنگوں کا فیصلہ محض ہتھیاروں کی کثرت، فوجی تعداد یا ظاہری طاقت سے نہیں ہوتا بلکہ اصل کامیابی ان اقوام کے حصے میں آتی ہے جو حکمتِ عملی، اتحاد،
عالمی سیاست کے پیچیدہ اور تیزی سے بدلتے ہوئے منظرنامے میں سفارت کاری کسی بھی ریاست کے لیے محض ایک رسمی عمل نہیں بلکہ اس کی بقا، ترقی اور عالمی وقار کا بنیادی ذریعہ ہوتی ہے اور پاکستان جیسے ملک
پاکستان کی اصل قوت صرف اس کے جغرافیے، آبادی یا عسکری صلاحیت میں نہیں بلکہ اس اخلاقی وژن میں ہے جس کی بنیاد پر یہ ملک وجود میں آیا اور اس وژن کا ایک لازمی تقاضا یہ ہے کہ اس
انسانی تاریخ میں مذہبی فرائض کی ادائیگی ہمیشہ روحانیت اور انتظامی نظم کے حسین امتزاج سے عبارت رہی ہے۔قدیم زمانوں میں قافلوں کی صورت میں طویل اور پرخطر سفر طے کرتے ہوئے لوگ اپنے ایمان کی تکمیل کے لیے روانہ
برصغیر کی تقسیم کے فوراً بعد پانی کی تقسیم ایک ایسا مسئلہ بن کر سامنے آیا جس نے نہ صرف دونوں ممالک کی معیشت بلکہ ان کے سیاسی تعلقات کو بھی متاثر کیاکیونکہ نہری نظام اور دریاؤں کی روانی ایک