فیک نیوز کے عہد میں سچ کی تلاش
عصرِ حاضر کو اگر معلومات کا عہد کہا جائے تو یہ غلط نہ ہوگا کیونکہ آج انسان کے ہاتھ میں موجود موبائل فون محض رابطے کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک پوری دنیا، ایک مکمل ابلاغی نظام اور ایک طاقتور ذریعہ
عصرِ حاضر کو اگر معلومات کا عہد کہا جائے تو یہ غلط نہ ہوگا کیونکہ آج انسان کے ہاتھ میں موجود موبائل فون محض رابطے کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک پوری دنیا، ایک مکمل ابلاغی نظام اور ایک طاقتور ذریعہ
پاکستان کی معیشت گزشتہ چند برسوں میں شدید چیلنجز کا سامنا کرنے کے بعد اب بحالی کی راہ پرگامزن ہےاور اسکی واضح علامات مختلف شعبوں میں نظر آنے لگی ہیں۔ حکومت کی جانب سے کاروبار میں آسانی کے حوالے سے
ریاستیں اس وقت تاریخ میں سرخرو ہوتی ہیں جب وہ اقتدار کو امانت، وسائل کو عوام کی ملکیت اور قانون کو سب کے لیے برابر سمجھتی ہیں۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ جن قوموں نے شفافیت اور احتساب کو محض
انسانی تاریخ میں سمندر ہمیشہ سے تہذیب، تجارت اور طاقت کا سرچشمہ رہے ہیں۔ قدیم مصر، یونانیوں اور مسلمانوں کی بحری روایات اس بات کی گواہ ہیں کہ ساحل اور سمندر نے قوموں کی تقدیر بدلنے میں بنیادی کردار ادا
پاکستان میں جہاں تاریخ نےباربارنظامِ حکومت، ریاستی ڈھانچے اور ادارہ جاتی کارکردگی کو آزمائشوں کے مراحل سے گزارا، وہاں آج بنیادی سوال یہی ہے کہ ریاستی ادارے کس حد تک بدل رہےہیں، سنجیدگی کے ساتھ اصلاحات کی کوششیں کی جا
اسلام ایک ایسا دین ہے جو امن، محبت، رواداری، عدل اور انسانیت کی حفاظت کا علمبردار ہے، یہ نفرت نہیں محبت بانٹتا ہے اوریہ بربادی نہیں تعمیر سکھاتا ہے۔ مگر افسوس کہ آج کے دور میں امت مسلمہ ایک ایسے
قوموں کی تاریخ میں ایسے ادوار بارہا آتے رہے ہیں جب معمول کے مسائل غیر معمولی صورت اختیار کر لیتے ہیں اور ریاستوں کو محض روزمرہ انتظامی فیصلوں کے بجائے اجتماعی فہم اور قومی عزم کا سہارا لینا پڑتا ہے۔
کسی بھی ریاست کی اصل پہچان اس کے نعروں، دعوؤں یا خطابات سے نہیں بلکہ ان عملی اقدامات سے ہوتی ہے جو عوام کی زندگیوں میں حقیقی تبدیلی لائیں۔ معیشت کسی ملک کی ریڑھ کی ہڈی ہوتی ہے اور جب
دنیا کےہر معاشرےمیں کچھ ایسےادوار آتےہیں جب حالات کی سنگینی قوموں کو جھنجھوڑ کررکھ دیتی ہےاورانہیں مجبور کر دیتی ہے کہ وہ اپنی سمت کا ازسرِنو تعین کریں، اپنے طرزِ عمل کا جائزہ لیں، اپنےاجتماعی وجود کو لاحق خطرات کو
زندگی کے سفر میں کچھ شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو محض دوست نہیں ہوتیں بلکہ وقت کے آئینے میں اپنے وجود کا چراغ روشن کر کے دوسروں کے راستے بھی منور کر دیتی ہیں۔ ڈاکٹر عرفان صدیقی انہی روشن روحوں