انسانی تاریخ میں سمندر ہمیشہ سے تہذیب، تجارت اور طاقت کا سرچشمہ رہے ہیں۔ قدیم مصر، یونانیوں اور مسلمانوں کی بحری روایات اس بات کی گواہ ہیں کہ ساحل اور سمندر نے قوموں کی تقدیر بدلنے میں بنیادی کردار ادا کیا۔برصغیر میں بھی قدیم بندرگاہیں، بحری راستے اور سمندری تجارت معاشی خوشحالی کا ذریعہ رہی ہیں۔ اسی تاریخی سفر کے نتیجے میں جس تصور نے عالمی سطح پر توجہ حاصل کی ہے وہ بلیو اکانومی ہے، یعنی سمندر اور اس سے وابستہ وسائل کو پائیدار انداز میں استعمال کرتے ہوئے معاشی ترقی، روزگار کے مواقع اور ماحولیاتی تحفظ کو یکجا کرنا۔ یہ تصور صرف مچھلی پکڑنے یا بندرگاہیں بنانے تک محدود نہیں بلکہ توانائی، سیاحت، ٹرانسپورٹ، معدنیات، تحقیق، ماحولیات اور ساحلی کمیونٹیز کی ترقی جیسے وسیع شعبوں پر محیط ہے۔ بلیو اکانومی اور سمندری معیشت کے فروغ کی بحث اگرچہ عصرِ حاضر کی اقتصادی اصطلاحات میں شمار ہوتی ہے مگر اس کی فکری بنیادیں برصغیر کی قدیم تاریخ، مسلم عہدِ حکومت اور پاکستان کے قیام کے ابتدائی برسوں تک پھیلی ہوئی ہیں کیونکہ سمندر ہمیشہ سے اس خطے کی تہذیب، تجارت اوردفاع کا بنیادی ستون رہا ہے۔ سندھ کی قدیم تہذیب میں دیبل اور بھمبھور جیسی بندرگاہیں اس بات کی گواہ ہیں کہ سمندر کے ذریعے تجارت اور معاشی سرگرمیاں ہزاروں سال پہلے بھی موجود تھیں۔
عرب تاجروں اور مسلم ملاحوں نے بحرِ عرب کو اسلامی دنیا اور جنوبی ایشیا کے درمیان رابطے کا ذریعہ بنایا۔ مغل دور میں اگرچہ بحری طاقت کو وہ اہمیت نہ مل سکی جو یورپی قوتوں نے دی مگر ساحلی تجارت جاری رہی۔ برطانوی راج کے دوران کراچی کو ایک بڑی بندرگاہ کے طور پر ترقی دی گئی اور یہی وہ ورثہ تھا جو 1947ء میں پاکستان کو ملا، تاہم کراچی پورٹ ٹرسٹ، بعد ازاں پورٹ قاسم اور پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن جیسے اداروں کا قیام اس بات کا ثبوت تھا کہ ریاست سمندر کی معاشی اہمیت سے مکمل طور پر غافل نہیں تھی۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ عالمی تجارت میں سمندری راستوں کی بڑھتی ہوئی اہمیت، لاجسٹکس اور توانائی کی ضروریات نے پاکستان کو بھی یہ احساس دلایا کہ محض خشکی پر انحصار قومی ترقی کے لیے ناکافی ہے۔ اکیسویں صدی کے آغاز پر جب دنیا میں بلیو اکانومی کا تصور پائیدار ترقی کے تناظر میں ابھرا تو پاکستان میں بھی پالیسی ساز حلقوں میں سمندری وسائل کے مؤثر استعمال کی بات ہونے لگی۔ پاکستان کا تقریباً ایک ہزار کلومیٹرطویل ساحل، بحیرۂ عرب تک براہِ راست رسائی، اسٹریٹجک محلِ وقوع، مشرقِ وسطیٰ، افریقہ اور وسطی ایشیا سے قربت اور نوجوان آبادی ایسے فطری اور انسانی وسائل ہیں جو سمندری معیشت کو قومی معیشت کا مضبوط ستون بنا سکتے ہیں۔اسی سوچ کے تحت گوادر بندرگاہ کا تصور سامنے آیاجو ابتداء میں ایک دور افتادہ ساحلی شہر تھا مگر وقت کے ساتھ اسے مستقبل کی معاشی شہ رگ کے طور پر پیش کیا گیا۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری کےآغاز نے گوادر کو بین الاقوامی توجہ کا مرکز بنا دیا اور سمندری معیشت کے فروغ کے لیے ایک نئے دور کا آغاز ہوا۔ گوادر پورٹ، فری زون، ایسٹ بے ایکسپریس وے اور ساحلی انفراسٹرکچر کی تعمیر دراصل بلیو اکانومی کے اسی وژن کا حصہ ہے جس کا مقصد تجارت، ٹرانزٹ، لاجسٹکس اور صنعتی سرگرمیوں کو فروغ دینا ہے۔ اسی دوران پاکستان نیوی نے ’’بلیو اکانومی‘‘ کو قومی بیانیے کا حصہ بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ سمندری سلامتی، محفوظ بحری راستے، انسدادِ اسمگلنگ اور بحری تحقیق کے ذریعے یہ باور کرایا گیا کہ مضبوط بحری تحفظ کے بغیر سمندری معیشت ممکن نہیں ۔پاکستان نے بین الاقوامی بحری مشقوں اور امن مشنز میں شرکت کر کے اپنی ذمہ دار بحری ریاست ہونے کا تاثر مضبوط کیا۔ ماہی گیری جو سمندری معیشت کا قدیم ترین شعبہ ہے پاکستان میں لاکھوں افراد کا ذریعۂ معاش ہے۔حالیہ برسوں میں حکومت نے غیر قانونی ماہی گیری کے خلاف اقدامات اور ویلیو ایڈیشن کے منصوبوں پر توجہ دی۔ اگرچہ اس شعبے میں اب بھی غیر رسمی معیشت، غربت اور ماحولیاتی مسائل موجود ہیں مگر فش ہاربرز کی بہتری، کولڈ اسٹوریج اور برآمدی معیار کو بہتر بنانے کی کوششیں مثبت پیش رفت سمجھی جا سکتی ہیں۔اسی طرح آبی زراعت اور فِش فارمنگ کو فروغ دینے کے منصوبے غذائی تحفظ اور برآمدات کے لیے اہم قرار دئیے جا رہے ہیں۔
شپنگ اور لاجسٹکس کے شعبے میں پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن کی بحالی اور نجی شعبے کی شمولیت سمندری تجارت میں خود انحصاری کی سمت قدم ہے۔ بندرگاہوں پر ڈیجیٹلائزیشن، سنگل ونڈو سسٹم اور کسٹمز اصلاحات کا مقصد تجارت کے اخراجات کم کرنا اور علاقائی مسابقت میں اضافہ کرنا ہے۔ساحلی علاقوں میں ہوا اور شمسی توانائی کے منصوبے مستقبل میں بلیو اکانومی کے دائرے کو وسیع کر سکتے ہیں۔ یہ اقدامات اس بات کی علامت ہیں کہ پاکستان اب سمندری معیشت کو محض آمدن کا ذریعہ نہیں بلکہ ماحولیاتی ذمہ داری کے تناظر میں دیکھ رہا ہے۔ ساحلی سیاحت ایک اور شعبہ ہے جس میں پاکستان بے پناہ امکانات رکھتا ہے مگر ماضی میں عدم توجہی کا شکار رہا۔حالیہ برسوں میں اورماڑہ، پسنی اور گوادر جیسے مقامات کو سیاحت کے نقشے پر لانے کی کوششیں کی گئیں۔ تعلیمی اور تحقیقی سطح پر نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف میری ٹائم افیئرز،جامعہ کراچی اور دیگر اداروں میں میرین سائنسز اور پالیسی اسٹڈیز کا فروغ اس بات کا اشارہ ہے کہ پاکستان علمی بنیادوں پر بلیو اکانومی کو سمجھنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس کے باوجود یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ ادارہ جاتی ہم آہنگی کی کمی، صوبائی و وفاقی اختیارات کا ابہام، ڈیٹا کی قلت اور طویل المدتی وژن کا فقدان اب بھی بڑے چیلنجز ہیں۔ سمندری معیشت کے فروغ کے لیے ضروری ہے کہ پاکستان ایک جامع قومی بلیو اکانومی پالیسی تشکیل دے جو تجارت، ماحولیات، سلامتی اور سماجی انصاف کو یکجا کرے۔ آج پاکستان تاریخ کے ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں بحیرۂ عرب اس کے لیے محض جغرافیائی سرحد نہیں بلکہ معاشی خود مختاری، علاقائی رابطہ کاری اور ماحولیاتی توازن کا دروازہ بن سکتا ہے۔اگر ماضی کی غلطیوں سے سیکھتے ہوئے ریاست، نجی شعبہ اور عوام مل کر سمندری وسائل کو امانت سمجھ کر استعمال کریں تو بلیو اکانومی پاکستان کے لیے ترقی کا نعرہ نہیں بلکہ ایک قابلِ عمل حقیقت بن سکتی ہے۔ مگر یہ حقیقت بھی اپنی جگہ قائم ہے کہ حکومتی سطح پر سوچ کا زاویہ بدل چکا ہے اور جب پالیسی کا رخ درست ہو تو وقت، تسلسل اور ادارہ جاتی ہم آہنگی کے ساتھ نتائج بھی سامنے آتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ آج بلیو اکانومی کے حوالے سے جاری سرکاری اقدامات کو محض سیاسی بیانیہ قرار دینا حقیقت کو نظرانداز کرنے کے مترادف ہوگاکیونکہ یہ کوششیں اگر اسی عزم کے ساتھ جاری رہیں تو پاکستان کی سمندری معیشت نہ صرف قومی معیشت کا مضبوط ستون بن سکتی ہے بلکہ ساحلی آبادیوں کے لیے روزگار، ملک کے لیے زرِمبادلہ اور خطے کے لیے ایک ذمہ دار بحری ریاست کے طور پر پاکستان کی شناخت کو بھی مستحکم کر سکتی ہیں۔