جنگ کے دہانے سے لوٹتی قوم کا سجدۂ تشکر
16 مئی 2025 ء کا سورج کچھ اور ہی امیدوں، دُعاؤں اور جذبات کی چمک لئے طلوع ہوا۔ یہ وہ دن تھا جس کا انتظار ایک پوری قوم نے سسکیوں، دعاؤں اور بے شمار قربانیوں کے ساتھ کیا۔ ابھی چند
16 مئی 2025 ء کا سورج کچھ اور ہی امیدوں، دُعاؤں اور جذبات کی چمک لئے طلوع ہوا۔ یہ وہ دن تھا جس کا انتظار ایک پوری قوم نے سسکیوں، دعاؤں اور بے شمار قربانیوں کے ساتھ کیا۔ ابھی چند
جب بھی دنیا میں جنگ کے شعلے بھڑکے، بندوقوں سے پہلے زبانوں نے آگ برسائی اور تلواروں سے پہلے قلموں نے معرکے لڑے۔ تاریخ گواہ ہے کہ میڈیا نے ہر دور میں جنگوں کے میدان سجانے اور بگاڑنے میں اہم
یہ جو خاموشی ہے، یہ معمولی نہیں۔ یہ کوئی حادثاتی وقفہ نہیں، یہ وہ لمحہ ہے جو آنے والے کئی برسوں کی بنیاد بن سکتا ہے۔ ہم ایک ایسے دوراہے سے گزرے ہیں جہاں ایک قدم غلط پڑ جاتا تو
جب دشمن نے رات کی تاریکی میں بزدلانہ حملہ کیا، جب نہتے معصوم شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، عورتوں ، بچوں اور بزرگوں کا خون بہایا گیااور جب بھارت نے اپنی روایت کے مطابق مکاری اور چالاکی سے جنگی جنون
جس قوم کے پاس دلیل نہ ہو، ثبوت نہ ہو اور سچائی کا سامنا کرنے کی ہمت نہ ہو، وہ جھوٹ، پروپیگنڈے اور نفسیاتی چالوں کا سہارا لیتی ہے۔ یہی کچھ بھارت بالخصوص بھارتی میڈیا، سرجیکل اسٹرائیک کے ڈرامے کے
جب دشمن کی توپوں کی گھن گرج فضاؤں میں سنائی دے، جب سرحدوں پر سناٹا موت کی آمد کی گواہی دے رہا ہو، جب ناپاک ارادے پاکستان کے امن کو روندنے کا خواب دیکھ رہے ہوں، تب کوئی لشکرِ جرار
جب بھی بھارت نے اپنی بزدلانہ روش کو اختیار کرتے ہوئے خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کی۔پاکستان نے نہ صرف ذمہ دار ریاست کے طور پر صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا بلکہ ہر موقع پر یہ
(گزشتہ سےپیوستہ) دشمن یہ یاد رکھے کہ ہم دشمن کی بزدلانہ حرکتوں پر صرف بیان نہیں دیتے، ہم عمل کے لوگ ہیں۔ اگر جنگ مسلط کی گئی تو ہم اسے پاکستان کی بقا کی جنگ سمجھیں گے، اور یہ جنگ
پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان 60 سالہ شراکت داری ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ تعلقات نہ صرف سیاسی اور ثقافتی سطح پر مضبوط ہیں بلکہ اقتصادی میدان میں بھی دونوں فریقین نے ایک دوسرے کے ساتھ
جنوبی ایشیاء کے دو اہم ممالک، پاکستان اور بھارت، اپنے قیام سے ہی باہمی تنازعات کا شکار رہے ہیں۔ ان کے درمیان پائی جانے والی کشیدگی نہ صرف ان دو ممالک کے عوام کی ترقی میں رکاوٹ بنی ہے بلکہ